سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
148. باب في السلام على الصبيان
باب: بچوں کو سلام کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5202
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ , عَنْ ثَابِتٍ , قَالَ: قَالَ أَنَسٌ" أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى غِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ ایسے بچوں کے پاس آئے جو کھیل رہے تھے تو آپ نے انہیں سلام کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5202]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے پاس سے گزرے جبکہ وہ کھیل رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سلام کہا۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5202]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 411)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاستئذان 15 (6247)، صحیح مسلم/السلام 5 (2168)، سنن الترمذی/الاستئذان 8 (2696)، سنن ابن ماجہ/الأدب 14 (3700)، مسند احمد (3/169)، سنن الدارمی/الاستئذان 8 (2678) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
رواه البخاري (6247) ومسلم (2168)
رواه البخاري (6247) ومسلم (2168)
حدیث نمبر: 5203
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى , حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ , حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ , قَالَ: قَالَ أَنَسٌ" انْتَهَى إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا غُلَامٌ فِي الْغِلْمَانِ , فَسَلَّمَ عَلَيْنَا ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَأَرْسَلَنِي بِرِسَالَةٍ وَقَعَدَ فِي ظِلِّ جِدَارٍ , أَوْ قَالَ: إِلَى جِدَارٍ حَتَّى رَجَعْتُ إِلَيْهِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور میں ابھی ایک بچہ تھا، آپ نے ہمیں سلام کیا، پھر میرا ہاتھ پکڑا اور اپنی کسی ضرورت سے مجھے بھیجا اور میرے لوٹ کر آنے تک ایک دیوار کے سائے میں بیٹھے رہے، یا کہا: ایک دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھے رہے۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5203]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ میں لڑکوں میں سے ایک لڑکا تھا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» ”تم پر سلامتی ہو“ کہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ایک پیغام دینے کے لیے بھیج دیا۔ اور خود ایک دیوار کے سائے میں یا کہا دیوار کے ساتھ ہو کر بیٹھ رہے حتیٰ کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آ گیا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5203]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 639) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح دون القعود في الظل
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حميد عنعن لكنه كان يدلس عن ثابت البناني عن أنس رضي الله عنه وثابت البناني ثقة، وحديث مسلم (2482) يغني عنه
حميد عنعن لكنه كان يدلس عن ثابت البناني عن أنس رضي الله عنه وثابت البناني ثقة، وحديث مسلم (2482) يغني عنه