سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
152. باب كراهية أن يقول عليك السلام
باب: «عليك السلام» کہنے کی کراہیت کا بیان
حدیث نمبر: 5209
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ , عَنْ أَبِي غِفَارٍ , عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ , عَنْ أَبِي جُرَيٍّ الْهُجَيْمِيِّ , قَالَ:" أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: لَا تَقُلْ عَلَيْكَ السَّلَامُ , فَإِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ الْمَوْتَى".
ابوجری ہجیمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: «عليك السلام يا رسول الله» ”آپ پر سلام ہو اللہ کے رسول!“ تو آپ نے فرمایا: «عليك السلام» مت کہو کیونکہ «عليك السلام» مردوں کا سلام ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5209]
سیدنا ابوجری ہجیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو میں نے کہا: ” «عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللَّهِ» “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لفظ «عَلَيْكَ السَّلَامُ» مت بولو، یہ مردوں کا سلام ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5209]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الاستئذان 28 (2721)،سنن النسائی/الیوم اللیلة (318)، (تحفة الأشراف: 2123)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/63) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4084)
انظر الحديث السابق (4084)
حدیث نمبر: 4084
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي غِفَارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِي وَأَبُو تَمِيمَةَ اسْمُهُ طَرِيفُ بْنُ مُجَالِدُّ، عَنْ أَبِي جُرَيٍّ جَابِرِ بْنِ سُلَيْمٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَجُلًا يَصْدُرُ النَّاسُ عَنْ رَأْيِهِ لَا يَقُولُ شَيْئًا إِلَّا صَدَرُوا عَنْهُ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ، قَالَ: لَا تَقُلْ عَلَيْكَ السَّلَامُ فَإِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ الْمَيِّتِ، قُلِ السَّلَامُ عَلَيْكَ، قَالَ: قُلْتُ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: أَنَا رَسُولُ اللَّهِ الَّذِي إِذَا أَصَابَكَ ضُرٌّ فَدَعَوْتَهُ كَشَفَهُ عَنْكَ، وَإِنْ أَصَابَكَ عَامُ سَنَةٍ فَدَعَوْتَهُ أَنْبَتَهَا لَكَ، وَإِذَا كُنْتَ بِأَرْضٍ قَفْرَاءَ أَوْ فَلَاةٍ فَضَلَّتْ رَاحِلَتُكَ فَدَعَوْتَهُ رَدَّهَا عَلَيْكَ، قَالَ: قُلْتُ اعْهَدْ إِلَيَّ، قَالَ: لَا تَسُبَّنَّ أَحَدًا، قَالَ: فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَهُ حُرًّا وَلَا عَبْدًا وَلَا بَعِيرًا وَلَا شَاةً، قَالَ: وَلَا تَحْقِرَنَّ شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ، وَأَنْ تُكَلِّمَ أَخَاكَ وَأَنْتَ مُنْبَسِطٌ إِلَيْهِ وَجْهُكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنَ الْمَعْرُوفِ، وَارْفَعْ إِزَارَكَ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَإِلَى الْكَعْبَيْنِ، وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيلَةِ، وَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ، وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ وَعَيَّرَكَ بِمَا يَعْلَمُ فِيكَ فَلَا تُعَيِّرْهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيهِ فَإِنَّمَا وَبَالُ ذَلِكَ عَلَيْهِ".
ابوجری جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ لوگ اس کی رائے کو قبول کرتے ہیں جب بھی وہ کوئی بات کہتا ہے لوگ اسی کو تسلیم کرتے ہیں، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، میں نے دو مرتبہ کہا: «عليك السلام يا رسول الله» ”آپ پر سلام ہو اللہ کے رسول“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «عليك السلام» نہ کہو، یہ مردوں کا سلام ہے اس کے بجائے ” «السلام عليك» کہو۔“ میں نے کہا: (کیا) آپ اللہ کے رسول ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس اللہ کا بھیجا رسول ہوں، جس کو تمہیں کوئی ضرر لاحق ہو تو پکارو وہ تم سے اس ضرر کو دور فرما دے گا، جب تم پر کوئی قحط سالی آئے اور تم اسے پکارو تو وہ تمہارے لیے غلہ اگا دے گا، اور جب تم کسی چٹیل زمین میں ہو یا میدان پھر تمہاری اونٹنی گم ہو جائے تو اگر تم اس اللہ سے دعا کرو تو وہ اسے لے آئے گا“، میں نے کہا: مجھے نصیحت کیجئے آپ نے فرمایا: ”کسی کو بھی گالی نہ دو۔“ اس کے بعد سے میں نے کسی کو گالی نہیں دی، نہ آزاد کو، نہ غلام کو، نہ اونٹ کو، نہ بکری کو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی بھی بھلائی کے کام کو معمولی نہ سمجھو، اور اگر تم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے بات کرو گے تو یہ بھی بھلے کام میں داخل ہے، اور اپنا تہ بند نصف «ساق» (پنڈلی) تک اونچی رکھو، اور اگر اتنا نہ ہو سکے تو ٹخنوں تک رکھو، اور تہ بند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے سے بچو کیونکہ یہ غرور و تکبر کی بات ہے، اور اللہ غرور پسند نہیں کرتا، اور اگر تمہیں کوئی گالی دے اور تمہارے اس عیب سے تمہیں عار دلائے جسے وہ جانتا ہے تو تم اسے اس کے اس عیب سے عار نہ دلاؤ جسے تم جانتے ہو کیونکہ اس کا وبال اسی پر ہو گا۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 4084]
سیدنا ابوجری جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ لوگ اس کی بات خوب سنتے اور مانتے تھے۔ وہ جو بھی کہتا اسے قبول کرتے تھے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ میں بھی حاضر ہو گیا اور کہا: «عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللَّهِ» ”آپ پر سلامتی ہو اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !“ میں نے یہ دو بار کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لفظ «عَلَيْكَ السَّلَامُ» مت کہو، یہ میت کا تحیہ اور سلام ہے، بلکہ یوں کہو: «السَّلَامُ عَلَيْكَ» “ میں نے کہا: (کیا) آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس اللہ کا بھیجا ہوا ہوں کہ جب تمہیں کوئی دکھ پہنچے اور تم اسے پکارو، تو وہ اسے تم سے دور کر دے، اگر تمہیں خشک سالی کا سامنا ہو، تم اس سے دعا کرو تو وہ تمہاری کھیتیاں اگا دے، جب تم کسی صحرا یا ویران اور بنجر زمین میں ہو اور تمہاری سواری گم ہو جائے اور تم اسے پکارو تو وہ اسے تمہیں واپس لوٹا دے۔“ میں نے عرض کیا کہ مجھے کوئی وصیت فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کو گالی نہ دینا۔“ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے کسی کو گالی نہیں دی، نہ کسی آزاد کو، نہ غلام کو، نہ اونٹ کو اور نہ بکری کو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی نیکی کو حقیر مت جاننا، اپنے بھائی سے بات کرو تو کھلے چہرے سے بات کیا کرو، بلاشبہ یہ نیکی ہے، اور اپنی چادر آدھی پنڈلی تک اونچی رکھا کرو، اور اگر نہ کر سکو تو ٹخنوں تک کر سکتے ہو۔ (ٹخنوں سے نیچے) چادر لٹکانے سے بچنا، بیشک یہ تکبر ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔ اور اگر کوئی شخص تمہیں برا بھلا کہے اور تمہیں تمہاری کسی بات پر جو وہ جانتا ہو عار دلائے تو تم اس کے عیب پر جو اس میں ہو اسے عار مت دلانا، بلاشبہ اس کا وبال اسی پر ہو گا۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 4084]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2124)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الاستئذان 28 (2722)، سنن النسائی/ الکبری (9691)، مسند احمد (3/482، 5/63) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1918)
أخرجه الترمذي (2722 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (1918)
أخرجه الترمذي (2722 وسنده صحيح)