سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
175. باب في قتل الحيات
باب: سانپوں کو مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5249
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ السُّكَّرِيُّ , عَنْ إِسْحَاق بْنِ يُوسُفَ , عَنْ شَرِيكٍ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ ,عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ كُلَّهُنَّ فَمَنْ خَافَ ثَأْرَهُنَّ فَلَيْسَ مِنِّي".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سانپ کوئی بھی ہو اسے مار ڈالو اور جو کوئی ان کے انتقام کے ڈر سے نہ مارے وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5249]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الجھاد 48 (3195)، (تحفة الأشراف: 9357) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (3195)
شريك مدلس وعنعن
والحديث الآتي (الأصل : 5252) والسابق (الأصل : 5248) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 182
إسناده ضعيف
نسائي (3195)
شريك مدلس وعنعن
والحديث الآتي (الأصل : 5252) والسابق (الأصل : 5248) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 182
حدیث نمبر: 5248
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِسْمَاعِيل , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا سَالَمْنَاهُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاهُنَّ , وَمَنْ تَرَكَ شَيْئًا مِنْهُنَّ خِيفَةً , فَلَيْسَ مِنَّا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سے ہماری سانپوں سے لڑائی شروع ہوئی ہے ہم نے کبھی ان سے صلح نہیں کی (سانپ ہمیشہ سے انسان کا دشمن رہا ہے، اس کا پالنا اور پوسنا کبھی درست نہیں) جو شخص کسی بھی سانپ کو ڈر کر مارنے سے چھوڑ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5248]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 14142)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/247، 432، 520) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4139)
محمد بن عجلان صرح بالسماع عند أحمد (2/432)
مشكوة المصابيح (4139)
محمد بن عجلان صرح بالسماع عند أحمد (2/432)
حدیث نمبر: 5250
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُسْلِمٍ , قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ فِيمَا أَرَى إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَرَكَ الْحَيَّاتِ مَخَافَةَ طَلَبِهِنَّ فَلَيْسَ مِنَّا , مَا سَالَمْنَاهُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاهُنَّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سانپوں کو ان کے انتقام کے ڈر سے چھوڑ دے یعنی انہیں نہ مارے وہ ہم میں سے نہیں ہے، جب سے ہماری ان سے لڑائی چھڑی ہے ہم نے ان سے کبھی بھی صلح نہیں کی ہے“ (وہ ہمیشہ سے موذی رہے ہیں اور موذی کا قتل ضروری ہے)۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5250]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 6221)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/230) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
موسي بن مسلم الطحان شك في وصل الحديث
فالحديث معلول
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 182
إسناده ضعيف
موسي بن مسلم الطحان شك في وصل الحديث
فالحديث معلول
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 182
حدیث نمبر: 5252
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ , وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ , وَالْأَبْتَرَ , فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ , وَيُسْقِطَانِ الْحَبَلَ" , قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْتُلُ كُلَّ حَيَّةٍ وَجَدَهَا , فَأَبْصَرَهُ أَبُو لبابةَ أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يُطَارِدُ حَيَّةً , فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ نُهِيَ عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سانپوں کو مار ڈالو، دو دھاریوں والوں کو بھی اور دم کٹے سانپوں کو بھی، کیونکہ یہ دونوں بینائی کو زائل کر دیتے اور حمل کو گرا دیتے ہیں (زہر کی شدت سے)، سالم کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جس سانپ کو بھی پاتے مار ڈالتے، ایک بار ابولبابہ یا زید بن الخطاب نے ان کو ایک سانپ پر حملہ آور دیکھا تو کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5252]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/بدء الخلق 14 (3297)، صحیح مسلم/السلام 37 (2233)، (تحفة الأشراف: 12147)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطب 42 (3535)، موطا امام مالک/الاستئذان 12 (32)، مسند احمد (3/430، 452، 453) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس لئے کہ وہ جن و شیاطین بھی ہو سکتے ہیں، انہیں مارنے سے پہلے وہاں سے غائب ہو جانے یا اپنی شکل تبدیل کر لینے کی تین بار آگاہی دے دینی چاہئے اگر وہ وہاں سے غائب نہ ہو پائیں یا اپنی شکل نہ بدلیں تو دوسری روایات کی روشنی میں مار سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3297) صحيح مسلم (2233)