🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
175. باب في قتل الحيات
باب: سانپوں کو مارنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5260
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ هَاشِمٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى , عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ حَيَّاتِ الْبُيُوتِ , فَقَالَ: إِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُنَّ شَيْئًا فِي مَسَاكِنِكُمْ , فَقُولُوا: أَنْشُدُكُنَّ الْعَهْدَ الَّذِي أَخَذَ عَلَيْكُنَّ نُوحٌ , أَنْشُدُكُنَّ الْعَهْدَ الَّذِي أَخَذَ عَلَيْكُنَّ سُلَيْمَانُ , أَنْ لَا تُؤْذُونَا فَإِنْ عُدْنَ فَاقْتُلُوهُنَّ".
ابولیلیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گھروں میں نکلنے والے سانپوں کے متعلق دریافت کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: جب تم ان میں سے کسی کو اپنے گھر میں دیکھو تو کہو: میں تمہیں وہ عہد یاد دلاتا ہوں جو تم سے نوح علیہ السلام نے لیا تھا، وہ عہد یاد دلاتا ہوں جو تم سے سلیمان علیہ السلام نے لیا تھا کہ تم ہمیں تکلیف نہیں پہنچاؤ گے اس یاددہانی کے باوجود اگر وہ دوبارہ ظاہر ہوں تو ان کو مار ڈالو۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5260]
جناب عبدالرحمٰن بن ابولیلیٰ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گھروں میں پائے جانے والے سانپوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم ان میں سے کسی چیز کو اپنے گھروں میں دیکھو تو ان سے کہو: میں تمہیں وہ قسم دیتا ہوں جو سیدنا نوح علیہ السلام نے تمہیں دی تھی۔ میں تمہیں وہ قسم دیتا ہوں جو سیدنا سلیمان علیہ السلام نے تمہیں دی تھی کہ ہمیں کسی قسم کی ایذا نہ دینا۔ اگر پھر بھی وہ نکلیں تو قتل کر دو۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5260]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصید 15 (1485)، (تحفة الأشراف: 12152) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی محمد بن ابی لیلی ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1485)
محمد بن أبي ليلي : ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 182

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5252
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ , وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ , وَالْأَبْتَرَ , فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ , وَيُسْقِطَانِ الْحَبَلَ" , قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْتُلُ كُلَّ حَيَّةٍ وَجَدَهَا , فَأَبْصَرَهُ أَبُو لبابةَ أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يُطَارِدُ حَيَّةً , فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ نُهِيَ عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سانپوں کو مار ڈالو، دو دھاریوں والوں کو بھی اور دم کٹے سانپوں کو بھی، کیونکہ یہ دونوں بینائی کو زائل کر دیتے اور حمل کو گرا دیتے ہیں (زہر کی شدت سے)، سالم کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جس سانپ کو بھی پاتے مار ڈالتے، ایک بار ابولبابہ یا زید بن الخطاب نے ان کو ایک سانپ پر حملہ آور دیکھا تو کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5252]
جناب سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب قسم کے سانپوں کو مار ڈالا کرو۔ وہ بھی جس کی پشت پر سیاہ (یا سفید) رنگ کی دو لکیریں ہوتی ہیں اور جس کی دم نہیں ہوتی۔ بلاشبہ یہ نظر زائل کر دیتے ہیں (جس کے ساتھ ان کی نظر مل جائے) اور یہ حمل گرانے کا باعث بھی بنتے ہیں۔ چنانچہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ جس سانپ کو بھی پاتے، اسے قتل کر ڈالتے تھے۔ چنانچہ سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ یا سیدنا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھا کہ وہ سانپ کو ڈھونڈ رہے تھے، تو انہوں نے بیان کیا کہ یہ جو گھروں میں رہنے والے سانپ ہیں ان کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5252]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/بدء الخلق 14 (3297)، صحیح مسلم/السلام 37 (2233)، (تحفة الأشراف: 12147)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطب 42 (3535)، موطا امام مالک/الاستئذان 12 (32)، مسند احمد (3/430، 452، 453) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس لئے کہ وہ جن و شیاطین بھی ہو سکتے ہیں، انہیں مارنے سے پہلے وہاں سے غائب ہو جانے یا اپنی شکل تبدیل کر لینے کی تین بار آگاہی دے دینی چاہئے اگر وہ وہاں سے غائب نہ ہو پائیں یا اپنی شکل نہ بدلیں تو دوسری روایات کی روشنی میں مار سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3297) صحيح مسلم (2233)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5253
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ أَبِي لُبابةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْبُيُوتِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ , فَإِنَّهُمَا يَخْطِفَانِ الْبَصَرَ وَيَطْرَحَانِ مَا فِي بُطُونِ النِّسَاءِ".
ابولبابہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سانپوں کو مارنے سے روکا ہے جو گھروں میں ہوتے ہیں مگر یہ کہ دو منہ والا ہو، یا دم کٹا ہو (یہ دونوں بہت خطرناک ہیں) کیونکہ یہ دونوں نگاہ کو اچک لیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ میں جو (بچہ) ہوتا ہے اسے گرا دیتے ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5253]
سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سانپوں کو جو گھروں میں رہتے ہیں مارنے سے منع فرمایا ہے، سوائے ان کے جن کی پشت پر (کالی یا سفید) دو دھاریاں ہوتی ہیں اور جس کی دم نہیں ہوتی، بلاشبہ یہ نظر زائل کر دینے اور عورتوں کا حمل گرا دینے کا باعث بنتے ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5253]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 12147) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3298، 3312، 3313) صحيح مسلم (2233)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5257
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ صَيْفِيٍّ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ , عَنْ أَبِي السَّائِبِ , قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ , فَبَيْنمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدُهُ , سَمِعْتُ تَحْتَ سَرِيرِهِ تَحْرِيكَ شَيْءٍ , فَنَظَرْتُ فَإِذَا حَيَّةٌ , فَقُمْتُ , فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: مَا لَكَ؟ قُلْتُ: حَيَّةٌ هَاهُنَا , قَالَ: فَتُرِيدُ مَاذَا؟ قُلْتُ: أَقْتُلُهَا , فَأَشَارَ إِلَى بَيْتٍ فِي دَارِهِ تِلْقَاءَ بَيْتِهِ , فَقَالَ:" إِنَّ ابْنَ عَمٍّ لي كَانَ فِي هَذَا الْبَيْتِ , فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ اسْتَأْذَنَ إِلَى أَهْلِهِ , وَكَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِعُرْسٍ , فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُ أَنْ يَذْهَبَ بِسِلَاحِهِ , فَأَتَى دَارَهُ فَوَجَدَ امْرَأَتَهُ قَائِمَةً عَلَى باب الْبَيْتِ , فَأَشَارَ إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ , فَقَالَتْ: لَا تَعْجَلْ حَتَّى تَنْظُرَ مَا أَخْرَجَنِي , فَدَخَلَ الْبَيْتَ فَإِذَا حَيَّةٌ مُنْكَرَةٌ , فَطَعَنَهَا بِالرُّمْحِ , ثُمَّ خَرَجَ بِهَا فِي الرُّمْحِ تَرْتَكِضُ , قَالَ: فَلَا أَدْرِي أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا الرَّجُلُ أَوِ الْحَيَّةُ , فَأَتَى قَوْمُهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرُدَّ صَاحِبَنَا , فَقَالَ: اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ , ثُمَّ قَالَ: إِنَّ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ أَسْلَمُوا بِالْمَدِينَةِ , فَإِذَا رَأَيْتُمْ أَحَدًا مِنْهُمْ فَحَذِّرُوهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , ثُمَّ إِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدُ أَنْ تَقْتُلُوهُ فَاقْتُلُوهُ بَعْدَ الثَّلَاثِ".
ابوسائب کہتے ہیں کہ میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اسی دوران کہ میں ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا ان کی چارپائی کے نیچے مجھے کسی چیز کی سر سراہٹ محسوس ہوئی، میں نے (جھانک کر) دیکھا تو (وہاں) سانپ موجود تھا، میں اٹھ کھڑا ہوا، ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہوا تمہیں؟ (کیوں کھڑے ہو گئے) میں نے کہا: یہاں ایک سانپ ہے، انہوں نے کہا: تمہارا ارادہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میں اسے ماروں گا، تو انہوں نے اپنے گھر میں ایک کوٹھری کی طرف اشارہ کیا اور کہا: میرا ایک چچا زاد بھائی اس گھر میں رہتا تھا، غزوہ احزاب کے موقع پر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اہل کے پاس جانے کی اجازت مانگی، اس کی ابھی نئی نئی شادی ہوئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی اور حکم دیا کہ وہ اپنے ہتھیار کے ساتھ جائے، وہ اپنے گھر آیا تو اپنی بیوی کو کمرے کے دروازے پر کھڑا پایا، تو اس کی طرف نیزہ لہرایا (چلو اندر چلو، یہاں کیسے کھڑی ہو) بیوی نے کہا، جلدی نہ کرو، پہلے یہ دیکھو کہ کس چیز نے مجھے باہر آنے پر مجبور کیا، وہ کمرے میں داخل ہوا تو ایک خوفناک سانپ دیکھا تو اسے نیزہ گھونپ دیا، اور نیزے میں چبھوئے ہوئے اسے لے کر باہر آیا، وہ تڑپ رہا تھا، ابوسعید کہتے ہیں، تو میں نہیں جان سکا کہ کون پہلے مرا آدمی یا سانپ؟ (گویا چبھو کر باہر لانے کے دوران سانپ نے اسے ڈس لیا تھا، یا وہ سانپ جن تھا اور جنوں نے انتقاماً اس کا گلا گھونٹ دیا تھا) تو اس کی قوم کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ وہ ہمارے آدمی (ساتھی) کو لوٹا دے، (زندہ کر دے) آپ نے فرمایا: اپنے آدمی کے لیے مغفرت کی دعا کرو (اب زندگی ملنے سے رہی) پھر آپ نے فرمایا: مدینہ میں جنوں کی ایک جماعت مسلمان ہوئی ہے، تم ان میں سے جب کسی کو دیکھو (سانپ وغیرہ موذی جانوروں کی صورت میں) تو انہیں تین مرتبہ ڈراؤ کہ اب نہ نکلنا ورنہ مارے جاؤ گے، اس تنبیہ کے باوجود اگر وہ غائب نہ ہو اور تمہیں اس کا مار ڈالنا ہی مناسب معلوم ہو تو تین بار کی تنبیہ کے بعد اسے مار ڈالو۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5257]
سیدنا ابوسائب بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا۔ میں ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے ان کی چارپائی کے نیچے کسی چیز کی سرسراہٹ محسوس کی، میں نے دیکھا تو وہ سانپ تھا۔ چنانچہ میں اٹھ کر کھڑا ہو گیا، تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا ہے؟ میں نے کہا: یہاں سانپ ہے۔ انہوں نے کہا: تو کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: اسے مارتا ہوں۔ تو انہوں نے اپنے گھر کے سامنے ایک مکان کی طرف اشارہ کیا اور کہا: بیشک میرا چچا زاد اسی مکان میں رہتا تھا۔ جنگ احزاب کے دن اس نے اپنے گھر آنے کی اجازت مانگی جب کہ اس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اجازت دے دی اور فرمایا: مسلح ہو کر جانا۔ وہ اپنے گھر آیا تو دیکھا کہ اس کی بیوی گھر کے دروازے پر کھڑی ہے۔ چنانچہ اس نے نیزے سے اس کی طرف اشارہ کیا (مارنے لگا) تو اس نے کہا: جلدی مت کرو۔ پہلے دیکھ لو کہ مجھے کس چیز نے باہر نکالا ہے؟ (دیکھ لو کہ میں باہر کیوں نکلی ہوں؟) چنانچہ وہ گھر کے اندر گیا تو دیکھا کہ وہاں ایک بدصورت سانپ تھا۔ چنانچہ اس نے اپنا نیزہ اسی میں چبھو دیا اور اسی طرح چبھوئے ہوئے باہر لے آیا اور سانپ نیزے کے ساتھ تڑپ رہا تھا۔ انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ ان میں سے پہلے کون مرا، وہ آدمی یا سانپ؟ چنانچہ اس کی قوم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور انہوں نے کہا: دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اس آدمی کو واپس (زندہ) کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے ساتھی کے لیے بخشش کی دعا کرو۔ پھر فرمایا: مدینہ میں کچھ جن مسلمان ہوئے ہیں، تو جب تم ان میں سے کسی کو دیکھو تو اسے تین بار خبردار کرو۔ اس کے بعد اگر قتل کرنے کا خیال ہو تو تیسری بار کے بعد قتل کرو۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5257]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/السلام 37 (2236)، سنن الترمذی/الصید 15 (1484)، موطا امام مالک/الاستئذان 12 (33)، (تحفة الأشراف: 4413)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/41) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2236)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں