سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. باب في الأذان قبل دخول الوقت
باب: وقت سے پہلے اذان دیدے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 533
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ،أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنْ مُؤَذِّنٍ لِعُمَرَ يُقَالُ لَهُ: مَسْرُوحٌ، أَذَّنَ قَبْلَ الصُّبْحِ فَأَمَرَهُ عُمَرُ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَقَدْ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ أَوْ غَيْرِهِ، أَنَّ مُؤَذِّنًا لِعُمَرَ يُقَالُ لَهُ: مَسْرُوحٌ أَوْ غَيْرُهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد، وَرَوَاهُ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ لِعُمَرَ مُؤَذِّنٌ يُقَالُ لَهُ: مَسْعُودٌ، وَذَكَرَ نَحْوَهُ. وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ ذَاكَ
عمر رضی اللہ عنہ کے مسروح نامی مؤذن سے روایت ہے کہ انہوں نے صبح صادق سے پہلے اذان دے دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن زید نے عبیداللہ بن عمر سے، عبیداللہ نے نافع سے یا کسی اور سے روایت کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کا ایک مؤذن تھا (جس کا نام مسروح یا کچھ اور تھا)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے دراوردی نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے نافع سے، نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کا مسعود نامی ایک مؤذن تھا، اور دراوردی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی اور یہ پہلی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 533]
جناب نافع رحمہ اللہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مؤذن سے روایت کرتے ہیں جس کا نام مسروح تھا، کہ انہوں نے (ایک بار) فجر (صادق) سے پہلے ہی اذان کہہ دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا، اور مذکورہ بالا حدیث کی طرح روایت کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ ”حماد بن زید نے اسے عبیداللہ بن عمر سے، انہوں نے نافع سے یا کسی دوسرے سے نقل کیا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ایک مؤذن تھا جس کا نام مسروح یا کچھ اور تھا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”اور دراوردی نے اسے عبیداللہ سے، وہ نافع سے، وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مؤذن کا نام مسعود تھا۔“ اور اس کے مثل بیان کیا اور یہ اس سے زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 533]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 7587) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مسروح مجھول الحال،وثقه ابن حبان وحده
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 32
إسناده ضعيف
مسروح مجھول الحال،وثقه ابن حبان وحده
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 32
حدیث نمبر: 532
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَدَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ،" أَنّ بِلَالًا أَذَّنَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْجِعَ فَيُنَادِيَ: أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ قَدْ نَامَ أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ قَدْ نَامَ، زَادَ مُوسَى: فَرَجَعَ فَنَادَى: أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ قَدْ نَامَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَيُّوبَ إِلَّا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ نے فجر کا وقت ہونے سے پہلے اذان دے دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ دوبارہ اذان دیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہیں: سنو، بندہ سو گیا تھا، سنو، بندہ سو گیا تھا۔ موسیٰ بن اسماعیل کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ نے دوبارہ اذان دی اور بلند آواز سے کہا: سنو، بندہ سو گیا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ایوب سے حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 532]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے (ایک بار) طلوع فجر سے پہلے اذان کہہ دی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ”جاؤ اور اعلان کرو کہ خبردار! بیشک بندہ سو گیا تھا۔ خبردار! بیشک بندہ سو گیا تھا۔“ موسیٰ نے اضافہ کیا، چنانچہ انہوں نے جا کر اعلان کیا: ”خبردار! بیشک بندہ سو گیا تھا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”اس حدیث کو ایوب سے سوائے حماد بن سلمہ کے کسی نے روایت نہیں کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 532]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 7587) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
ترمذي (203)
رجالة ثقات ولكن اتفق أئمة الحديث علي أن حمادًا أخطأ في رفعه،انظر فتح الباري (103/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 32
ضعيف
ترمذي (203)
رجالة ثقات ولكن اتفق أئمة الحديث علي أن حمادًا أخطأ في رفعه،انظر فتح الباري (103/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 32