🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
54. باب التشديد في ذلك
باب: (عورتوں کا مسجد جانا) اس مسئلہ میں تشدید کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 570
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُوَرِّقٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" صَلَاةُ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي حُجْرَتِهَا، وَصَلَاتُهَا فِي مَخْدَعِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي بَيْتِهَا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت کی اپنے گھر کی نماز اس کی اپنے صحن کی نماز سے افضل ہے، اور اس کی اپنی اس کوٹھری کی نماز اس کے اپنے گھر کی نماز سے افضل ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 570]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الرضاع 18 (1173ببعضہ)، (تحفة الأشراف: 9529) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة مدلس وعنعن
ولأصل الحديث شواھد كثيرة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 34
َدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّي أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ حَدَّثَهُمْ،قَالَ:

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 567
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَمْنَعُوا نِسَاءَكُمُ الْمَسَاجِدَ وَبُيُوتُهُنَّ خَيْرٌ لَهُنَّ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی عورتوں کو مسجدوں سے نہ روکو، البتہ ان کے گھر ان کے لیے بہتر ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 567]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6681)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/76) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: یہ عمل عورتوں کے شوق پر مبنی ہے۔ اگر وہ اجازت لے کر مسجد میں آنا چاہیں تو روکا نہ جائے، صحابیات مسجد آیا کرتی تھیں، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ باپردہ اور سادہ لباس میں آئیں۔ تاہم افضل یہی ہے کہ عورتیں گھر میں باپردہ ہو کر نماز پڑھیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
سنده ضعيف
حبيب بن أبي ثابت مدلس و عنعن
و للحديث شواهد ضعيفة عند البيهقي (3/ 131) وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 185

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں