🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
54. باب التشديد في ذلك
باب: (عورتوں کا مسجد جانا) اس مسئلہ میں تشدید کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 571
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ تَرَكْنَا هَذَا الْبَابَ لِلنِّسَاءِ"، قَالَ نَافِعٌ: فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ ابْنُ عُمَرَ حَتَّى مَاتَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: وَهَذَا أَصَحُّ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ہم اس دروازے کو عورتوں کے لیے چھوڑ دیں (تو زیادہ اچھا ہو)۔ نافع کہتے ہیں: چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما تاحیات اس دروازے سے مسجد میں کبھی داخل نہیں ہوئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے، انہوں نے نافع سے روایت کیا ہے، اس میں «قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم » کے بجائے «قال عمر» (عمر رضی اللہ عنہ نے کہا) ہے، اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 571]
جناب نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ہم یہ دروازہ عورتوں کے لیے چھوڑ دیں (انہی کے لیے مخصوص کر دیں تو بہت بہتر ہو)۔ نافع کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مرتے دم تک اس دروازے سے مسجد میں نہیں آئے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اس روایت کو اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے، انہوں نے نافع سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے اسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول بتایا ہے اور یہی بات زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 571]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7588) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
َدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 462
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، وَأَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ تَرَكْنَا هَذَا الْبَابَ لِلنِّسَاءِ"، قَالَ نَافِعٌ: فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ ابْنُ عُمَرَ حَتَّى مَاتَ، وَقَالَ غَيْرُ عَبْدِ الْوَارِثِ: قَالَ عُمَرُ: وَهُوَ أَصَحُّ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ہم اس دروازے کو عورتوں کے لیے چھوڑ دیں (تو بہتر ہے) ۱؎۔ نافع کہتے ہیں: تو ابن عمر رضی اللہ عنہما تاحیات اس دروازے سے مسجد میں داخل نہیں ہوئے۔ عبدالوارث کے علاوہ دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے) یہ عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 462]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ہم یہ دروازہ عورتوں کے لیے چھوڑ دیں۔ (اور مرد اس سے داخل نہ ہوں تو بہت بہتر ہو)۔ نافع کہتے ہیں کہ (یہ ارشاد سننے کے بعد) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ مرتے دم تک کبھی اس دروازے سے مسجد میں نہیں آئے۔ عبدالوارث کے علاوہ دیگر راویوں نے اسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول بیان کیا ہے اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 462]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7588)، ویأتی ہذا الحدیث عند المؤلف برقم (571) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کیونکہ اس سے مسجد میں آنے جانے میں عورتوں کا مردوں سے اختلاط اور میل جول نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 565
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ، وَلَكِنْ لِيَخْرُجْنَ وَهُنَّ تَفِلَاتٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو، البتہ انہیں چاہیئے کہ وہ بغیر خوشبو لگائے نکلیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 565]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے مت روکو، لیکن انہیں چاہیئے کہ زیب و زینت کے بغیر نکلیں۔ (یعنی سادہ کیفیت میں آئیں)۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 565]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15013)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/438، 475)، سنن الدارمی/الصلاة 57 (1315) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: یہ عمل عورتوں کے شوق پر مبنی ہے۔ اگر وہ اجازت لے کر مسجد میں آنا چاہیں تو روکا نہ جائے، صحابیات مسجد آیا کرتی تھیں، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ باپردہ اور سادہ لباس میں آئیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
صححه ابن خزيمة (1679 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں