سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
61. باب من أحق بالإمامة
باب: امامت کا زیادہ حقدار کون ہے؟
حدیث نمبر: 584
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ، فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، وَلَمْ يَقُلْ: فَأَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: وَلَا تَقْعُدْ عَلَى تَكْرِمَةِ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ.
ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگ قرأت میں برابر ہوں تو وہ شخص امامت کرے جو سنت کا سب سے بڑا عالم ہو، ا گر اس میں بھی برابر ہوں تو وہ شخص امامت کرے جس نے پہلے ہجرت کی ہو“۔ اس روایت میں «فأقدمهم قرائة» کے الفاظ نہیں ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حجاج بن ارطاۃ نے اسماعیل سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: ”تم کسی کے «تکرمہ» (مسند وغیرہ) پر اس کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 584]
اوس بن ضمعج حضرمی، سیدنا ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ: ”اگر قرآتِ قرآن میں برابر ہوں تو سنت کا زیادہ عالم امامت کرائے۔ اگر سنت میں برابر ہوں تو وہ امام بنے جو ہجرت میں اول ہو۔“ اس روایت میں «أقدمهم قراءة» بیان نہیں کیا۔ (یعنی قرآت میں پرانا ہونے کا ذکر نہیں کیا)۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: حجاج بن ارطاۃ نے اسماعیل سے روایت کیا: ”کسی کی مسند (عزت والی جگہ) پر بغیر اس کی اجازت کے مت بیٹھو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 584]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 9976) (صحیح)»
وضاحت: ہجرت کی فضیلت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی کے ساتھ مخصوص تھی۔ کسی دوسرے شخص کے حلقہ عمل میں بلااجازت امامت کرانا (اور ضمناً فتوے دینے شروع کر دینا) شرعاً ممنوع ہے۔ ایسے ہی اس کی خاص مسند (نشست یا بستر) پر بلااجازت بیٹھنا بھی منع ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديثين السابقين (582، 583)
انظر الحديثين السابقين (582، 583)
حدیث نمبر: 582
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ، سَمِعْتُ أَوْسَ بْنَ ضَمْعَجٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ وَأَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَكْبَرُهُمْ سِنًّا، وَلَا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي بَيْتِهِ وَلَا فِي سُلْطَانِهِ وَلَا يُجْلَسُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ"، قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لِإِسْمَاعِيلَ: مَا تَكْرِمَتُهُ؟ قَالَ: فِرَاشُهُ.
ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو کتاب اللہ کو سب سے زیادہ پڑھنے والا ہو، اگر لوگ قرأت میں برابر ہوں تو ان میں جس نے پہلے ہجرت کی ہو وہ امامت کرے، اگر ہجرت میں بھی برابر ہوں تو ان میں بڑی عمر والا امامت کرے، آدمی کی امامت اس کے گھر میں نہ کی جائے اور نہ اس کی حکومت میں، اور نہ ہی اس کی «تکرمہ» (مسند وغیرہ جو اس کی عزت کی جگہ ہو) پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھا جائے“۔ شعبہ کا بیان ہے: میں نے اسماعیل بن رجاء سے کہا: آدمی کا «تکرمہ» کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا: اس کا «فراش» یعنی مسند (اس کا بستر) وغیرہ۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 582]
سیدنا ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قوم کا وہ شخص امامت کرائے جو قرآن کریم کا بڑا اور پرانا قاری ہو۔ اگر وہ قرأت میں برابر ہوں تو وہ شخص امامت کرائے جو ہجرت کرنے میں اول ہو۔ اگر ہجرت میں برابر ہوں تو بڑی عمر والا امامت کرائے۔ اور نہ کوئی شخص کسی دوسرے کے گھر میں امامت کرائے، نہ اس کی حکومت کی جگہ میں اور نہ اس کی خاص مسند ہی پر بیٹھے (جو اس کی عزت کی جگہ ہو) الا یہ کہ وہ اجازت دے۔“ شعبہ نے بیان کیا کہ میں نے اسماعیل سے پوچھا: ” «تكرمته» کا کیا مفہوم ہے؟“ انہوں نے کہا: ”اس کا بستر۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 582]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 53 (673)، سنن الترمذی/الصلاة 62 (235)، سنن النسائی/الإمامة 3، (781)، 6 (784)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 46 (980)، (تحفة الأشراف: 9976)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/ 118، 121، 122) (صحیح)»
وضاحت: اس باب کی ایک دوسری حدیث میں حافظ کے بعد سنت کے عالم کا درجہ بیان ہوا ہے۔ ہجرت کی فضیلت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی کے ساتھ مخصوص تھی۔ کسی دوسرے شخص کے حلقہ عمل میں بلااجازت امامت کرانا (اور ضمناً فتوے دینے شروع کر دینا) شرعاً ممنوع ہے۔ ایسے ہی اس کی خاص مسند (نشست یا بستر) پر بلااجازت بیٹھنا بھی منع ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (673)