سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
83. باب إذا كان الثوب ضيقا يتزر به
باب: جب کپڑا تنگ اور چھوٹا ہو تو اسے تہہ بند بنا لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 636
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ الذُّهْلِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنِيبِ عُبَيْدُ اللَّهِ الْعَتَكِيُّ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ فِي لِحَافٍ لَا يَتَوَشَّحُ بِهِ وَالْآخَرُ أَنْ تُصَلِّيَ فِي سَرَاوِيلَ وَلَيْسَ عَلَيْكَ رِدَاءٌ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے «لحاف» چادر میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے جس کے دائیں کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کنارے کو دائیں کندھے پر نہ ڈالا جا سکے، اور دوسری بات جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے یہ کہ تم پاجامہ میں نماز پڑھو اور تمہارے اوپر کوئی چادر نہ ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 636]
جناب عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ ”آدمی چادر میں ایسے نماز پڑھے کہ اسے لپیٹا نہ ہو، دوسرے یہ کہ صرف پاجامے میں نماز پڑھے اور اس پر چادر نہ ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 636]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1987) (حسن)»
وضاحت: عمداً چھوٹا کپڑا لینا کہ کندھوں پر کچھ نہ آ سکے یا جان بوجھ کر کندھوں کو ننگا رکھنا ناجائز ہے۔ حسب وسعت لباس پورا ہونا چاہیے۔ پاجامے پر چادر کی تلقین ستر کے لیے ہے کہ پوشیدہ جسم کے حصے کپڑے کے اوپر سے بھی نمایاں نہ ہوں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه البيھقي (2/236 وسنده صحيح)
أخرجه البيھقي (2/236 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 635
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْ قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" إِذَا كَانَ لِأَحَدِكُمْ ثَوْبَانِ فَلْيُصَلِّ فِيهِمَا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَلْيَتَّزِرْ بِهِ وَلَا يَشْتَمِلِ اشْتِمَالَ الْيَهُودِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے پاس دو کپڑے ہوں تو چاہیئے کہ ان دونوں میں نماز پڑھے، اور اگر ایک ہی کپڑا ہو تو چاہیئے کہ اسے تہہ بند بنا لے اور اسے یہودیوں کی طرح نہ لٹکائے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 635]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یا یہ کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جب تم میں سے کسی کے پاس دو کپڑے ہوں تو ان میں نماز پڑھے۔ اگر ایک ہی ہو تو اسے تہبند بنا لے اور یہودیوں کی طرح نہ لپیٹے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 635]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7583)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/148) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «اشتمال اليهود» یہود کی طرح لپیٹنے کا مطلب یہ ہے کہ چادر اس طرح اوڑھی جائے کہ دونوں ہاتھ بھی اندر ہی بند ہو کر رہ جائیں اور انہیں باہر نکالنا آسان نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (771)
مشكوة المصابيح (771)
حدیث نمبر: 2417
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الْأَضْحَى، وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، وَعَنِ الصَّلَاةِ فِي سَاعَتَيْنِ بَعْدَ الصُّبْحِ وَبَعْدَ الْعَصْرِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں کے روزوں سے منع فرمایا: ایک عید الفطر کے دوسرے عید الاضحی کے، اسی طرح دو لباسوں سے منع فرمایا ایک صمّاء ۱؎ دوسرے ایک کپڑے میں احتباء ۲؎ کرنے سے (جس سے ستر کھلنے کا اندیشہ رہتا ہے) نیز دو وقتوں میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا: ایک فجر کے بعد، دوسرے عصر کے بعد۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 2417]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دو دنوں کے روزوں سے منع فرمایا ہے، یعنی عید الفطر اور عید الاضحی کے دنوں میں۔ اور دو طرح سے کپڑے لپیٹنے سے روکا ہے۔ ایک یوں کہ کوئی پوری طرح سے کپڑے میں ایسے لپٹ جائے کہ کوئی عضو بھی اس سے باہر نہ رہے۔ اور دوسری صورت یوں کہ اپنے اوپر کپڑا لپیٹ کر اس طرح بیٹھے کہ ایک جانب سے شرمگاہ کو ننگا کر دے۔ اور دو وقت میں نماز پڑھنے سے بھی منع فرمایا ہے، یعنی نماز فجر اور نماز عصر کے بعد۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 2417]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجمعة 6 (884)، وجزاء الصید 26 (1864)، والصوم 68 (1996)،صحیح مسلم/الصوم22 (827)، سنن الترمذی/الصوم 58 (772)، (تحفة الأشراف: 4404)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام 36 (1722)، مسند احمد (3/34، 96)، سنن الدارمی/الصوم 43 (1794) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «صماء» کی صورت یہ ہے کہ آدمی پورے جسم پر کپڑا لپیٹ لے جس میں کوئی ایسا شگاف نہ ہو کہ ہاتھ باہر نکال سکے اور اپنے ہاتھ سے کوئی موذی چیز دفع کر سکے۔
۲؎: «احتباء» کی صورت یہ ہے کہ دونوں پاؤں کھڑا رکھے، انہیں پیٹ سے ملائے رکھے، اور دونوں سرین پر بیٹھے اور کپڑے سے دونوں پاؤں اور پیٹ باندھ لے یا ہاتھوں سے حلقہ دے لے۔
۲؎: «احتباء» کی صورت یہ ہے کہ دونوں پاؤں کھڑا رکھے، انہیں پیٹ سے ملائے رکھے، اور دونوں سرین پر بیٹھے اور کپڑے سے دونوں پاؤں اور پیٹ باندھ لے یا ہاتھوں سے حلقہ دے لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1991، 1992) صحيح مسلم (827 بعد ح 1138)
حدیث نمبر: 3377
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَهَذَا لَفْظُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ، أَمَّا الْبَيْعَتَانِ فَالْمُلَامَسَةُ وَالْمُنَابَذَةُ، وَأَمَّا اللِّبْسَتَانِ فَاشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ كَاشِفًا عَنْ فَرْجِهِ أَوْ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کی بیع سے اور دو قسم کے پہناؤں سے روکا ہے، رہے دو بیع تو وہ ملامسہ ۱؎ اور منابذہ ۲؎ ہیں، اور رہے دونوں پہناوے تو ایک اشتمال صماء ۳؎ ہے اور دوسرا احتباء ہے، اور احتباء یہ ہے کہ ایک کپڑا اوڑھ کے گوٹ مار کر اس طرح سے بیٹھے کہ شرمگاہ کھلی رہے، یا شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ رہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 3377]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دو طرح کی خرید و فروخت اور دو طرح سے کپڑا اوڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ خرید و فروخت میں «الْمُلَامَسَةُ» ”ملامسہ“ اور «الْمُنَابَذَةُ» ”منابذہ“ اور کپڑا اوڑھنے میں ایک «اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ» ”اشتمال الصماء“ ہے اور دوسرا یہ کہ انسان اپنے اوپر کپڑا اس طرح سے لپیٹ کر بیٹھے کہ شرمگاہ کو ننگا رکھے یا اس پر کچھ نہ ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 3377]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 10 (367)، البیوع 62 (2144)، 63 (2147)، اللباس 20 (5820)، 21 (5822)، الاستئذان 42 (6284)، سنن النسائی/البیوع 24 (4519)، سنن ابن ماجہ/التجارات 12 (2170)، (تحفة الأشراف: 4154، 4524)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البیوع 1 (1512)، مسند احمد (3/6، 59، 66، 68، 71، 95)، دی/ البیوع 28 (2604) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ملامسہ یہ ہے کہ آدمی کپڑا چھو کر کھولے اور اندر سے دیکھے بغیر خرید لے، اور بعضوں نے کہا کہ ملامسہ یہ ہے کہ بائع اور مشتری آپس میں یہ طے کر لیں کہ جب اس کا کپڑا وہ چھو لے تو بیع لازم ہو جائے گی۔
۲؎: منابذہ: یہ ہے کہ بائع اپنا کپڑا بلا سوچے سمجھے مشتری کی طرف پھینک دے اور مشتری اپنا کپڑا بائع کی طرف اور یہی پھینکنا لزوم بیع قرار پائے۔
۳؎: اشتمال صمّاء سے مراد ہے کہ بدن پر ایک ہی کپڑا سر سے پیر تک لپیٹ لے۔
۲؎: منابذہ: یہ ہے کہ بائع اپنا کپڑا بلا سوچے سمجھے مشتری کی طرف پھینک دے اور مشتری اپنا کپڑا بائع کی طرف اور یہی پھینکنا لزوم بیع قرار پائے۔
۳؎: اشتمال صمّاء سے مراد ہے کہ بدن پر ایک ہی کپڑا سر سے پیر تک لپیٹ لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6284) صحيح مسلم (1512)
حدیث نمبر: 4080
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ أَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ مُفْضِيًا بِفَرْجِهِ إِلَى السَّمَاءِ وَيَلْبَسُ ثَوْبَهُ وَأَحَدُ جَانِبَيْهِ خَارِجٌ وَيُلْقِي ثَوْبَهُ عَلَى عَاتِقِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے ایک یہ کہ آدمی اس طرح گوٹ مار کر بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ آسمان کی طرف کھلی ہو اس پر کوئی کپڑا نہ ہو، دوسرے یہ کہ اپنا کپڑا سارے بدن پر اس طرح لپیٹ لے کہ ایک طرف کا حصہ کھلا ہو، اور کپڑا اٹھا کر کندھے پر ڈال لیا ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 4080]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انداز سے کپڑا لپیٹنے سے منع فرمایا ہے: ”ایک یہ کہ آدمی کپڑا اس طرح لپیٹے کہ اس کی شرمگاہ آسمان کی جانب کھلی رہے۔ دوسرا یوں کہ کپڑا لپیٹے اور اس کا ایک کنارہ باہر نکال کر اپنے کندھے پر ڈال لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 4080]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 12358)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/319، 380، 391) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
رواه مسلم (1511، 1554)
رواه مسلم (1511، 1554)
حدیث نمبر: 4081
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الصَّمَّاءِ، وَعَنِ الِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں صماء ۱؎ اور احتباء ۲؎ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 4081]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” «الصَّمَّاءُ» (صماء) کے طور پر کپڑا لپیٹنے سے منع کیا ہے (یعنی انسان پوری طرح سے اس میں لپٹ جائے اور ہاتھ پاؤں کچھ بھی باہر نہ ہو) اور ایک کپڑے کو اپنی کمر اور گھٹنوں پر لپیٹنے سے بھی منع کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 4081]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 21 (299)، سنن الترمذی/الأدب 20 (2767)، سنن النسائی/الزینة 53 (5344)، (تحفة الأشراف: 2693)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/293، 297، 322، 331، 344، 349) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: صمّاء یہ ہے کہ کپڑا اس طرح جسم پر لپیٹے کہ دونوں ہاتھ اندر ہوں۔
۲؎: احتباء: یہ ہے کہ آدمی سرین اور پنڈلیاں کھڑی رکھے اور اوپر سے ایک کپڑا ڈال لے۔
۲؎: احتباء: یہ ہے کہ آدمی سرین اور پنڈلیاں کھڑی رکھے اور اوپر سے ایک کپڑا ڈال لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2099)