سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
125. باب السكتة عند الافتتاح
باب: نماز شروع کرنے کے وقت (تکبیر تحریمہ کے بعد) سکتہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 779
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ الْحَسَنِ، أَنَّ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ، وَعِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ تَذَاكَرَا، فَحَدَّثَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ" أَنَّهُ حَفِظَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكْتَتَيْنِ: سَكْتَةً إِذَا كَبَّرَ وَسَكْتَةً إِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7"، فَحَفِظَ ذَلِكَ سَمُرَةُ وَأَنْكَرَ عَلَيْهِ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، فَكَتَبَا فِي ذَلِكَ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَكَانَ فِي كِتَابِهِ إِلَيْهِمَا أَوْ فِي رَدِّهِ عَلَيْهِمَا: أَنَّ سَمُرَةَ قَدْ حَفِظَ.
حسن سے روایت ہے کہ سمرہ بن جندب اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے آپس میں (سکتہ کا) ذکر کیا تو سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو سکتے یاد رکھے ہیں: ایک سکتہ اس وقت جب آپ تکبیر تحریمہ کہتے اور دوسرا سکتہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» ۱؎ کی قرآت سے فارغ ہوتے، ان دونوں سکتوں کو سمرہ نے یاد رکھا، لیکن عمران بن حصین نے اس کا انکار کیا تو دونوں نے اس کے متعلق ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تو انہوں نے ان دونوں کے خط کے جواب میں لکھا کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے (ٹھیک) یاد رکھا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 779]
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو سکتے یاد ہیں، ایک سکتہ جب آپ تکبیر کہتے اور دوسرا سکتہ جب آپ ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] پڑھ کر فارغ ہوتے۔“ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ کو یہ یاد تھا مگر سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے اس کا انکار کیا تو ان دونوں نے یہ مسئلہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی جانب لکھ بھیجا، انہوں نے ان کے جواب میں لکھا کہ ”سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے یہ مسئلہ صحیح یاد رکھا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 779]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (777)، (تحفة الأشراف: 4589، 4609) (ضعیف)»
وضاحت: ۱؎: سورة الفاتحة: (۷)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة عنعن
والحديث السابق (الأصل : 778) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 41
إسناده ضعيف
قتادة عنعن
والحديث السابق (الأصل : 778) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 41
حدیث نمبر: 780
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ بِهَذَا، قَالَ: عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ:" سَكْتَتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِيهِ: قَالَ سَعِيدٌ: قُلْنَا لِقَتَادَةَ: مَا هَاتَانِ السَّكْتَتَانِ؟ قَالَ: إِذَا دَخَلَ فِي صَلَاتِهِ وَإِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ، ثُمَّ قَالَ بَعْدُ: وَإِذَا قَالَ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو سکتے یاد رکھے ہیں، سعید کہتے ہیں: ہم نے قتادہ سے پوچھا: یہ دو سکتے کون کون سے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں داخل ہوتے اور جب آپ قرآت سے فارغ ہوتے، پھر اس کے بعد انہوں نے یہ بھی کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہہ لیتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 780]
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”دو سکتے ہیں جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد ہیں۔“ سعید کہتے ہیں کہ ہم نے قتادہ سے پوچھا کہ ”یہ دو سکتے کیا ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”جب نماز شروع کرتے اور جب قراءت سے فارغ ہوتے۔“ پھر اس کے بعد کہا: ”اور جب ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہتے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 780]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (777)، (تحفة الأشراف: 4589، 4609) (ضعیف)» (گذشتہ حدیث ملاحظہ فرمائیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة عنعن
و الحديث السابق (الأصل : 777) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 41
إسناده ضعيف
قتادة عنعن
و الحديث السابق (الأصل : 777) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 41