سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
160. باب صفة السجود
باب: سجدہ کرنے کا طریقہ۔
حدیث نمبر: 901
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ ابْنِ حُجَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَفْتَرِشْ يَدَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ وَلْيَضُمَّ فَخْذَيْهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اپنے دونوں ہاتھ کتے کی طرح نہ بچھائے اور چاہیئے کہ اپنی دونوں رانوں کو ملا کر رکھے“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 901]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اپنے ہاتھوں کو (زمین پر) کتے کی طرح نہ پھیلائے اور اپنی رانوں کو ملا کر رکھے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 901]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13592)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 85 (269)، سنن النسائی/التطبیق 38 (1092)، مسند احمد (2/381) (حسن) (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 837/2)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
صححه ابن خزيمة (653 وسنده حسن)
صححه ابن خزيمة (653 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 897
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ، وَلَا يَفْتَرِشْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سجدے میں اعتدال کرو ۱؎ اور تم میں سے کوئی شخص اپنے ہاتھوں کو کتے کی طرح نہ بچھائے“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 897]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سجدہ صحیح طرح (سکون) سے کیا کرو۔ اور تم میں سے کوئی کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ پھیلائے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 897]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 8 (532)، والأذان 141 (822)، صحیح مسلم/الصلاة 45 (493)، سنن الترمذی/الصلاة 93 (276)، سنن النسائی/الافتتاح 89 (1029)، والتطبیق 50 (1104)، 53 (1111)، (تحفة الأشراف: 1237)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 21 (892)، مسند احمد (3/109، 115، 177، 179، 191، 202، 214، 231، 274، 279، 291)، سنن الدارمی/الصلاة 75 (1361) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اپنی ہیئت درمیانی رکھو اس طرح کہ پیٹ ہموار ہو اور دونوں کہنیاں زمین سے اٹھی ہوئی اور پہلووں سے جدا ہوں اور پیٹ ران سے جدا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (822) صحيح مسلم (494)