سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
161. باب الرخصة في ذلك للضرورة
باب: ضرورت کے وقت سجدہ میں کہنیوں کو زانو پر لگانے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 902
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: اشْتَكَى أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشَقَّةَ السُّجُودِ عَلَيْهِمْ إِذَا انْفَرَجُوا، فَقَالَ:" اسْتَعِينُوا بِالرُّكَبِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ سے شکایت کی کہ جب لوگ پھیل کر سجدہ کرتے ہیں تو سجدے میں ہمیں تکلیف ہوتی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زانو (گھٹنے) سے مدد لے لیا کرو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 902]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ جب وہ سجدے میں اپنے بازوؤں کو کشادہ کرتے ہیں تو اس سے بہت مشقت ہوتی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھٹنوں سے مدد لے لیا کرو۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 902]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 100 (286)، (تحفة الأشراف: 12580)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/339، 417) (ضعیف)» (محمد بن عجلان کی اس حدیث کو سمی سے ان سے زیادہ ثقہ، اور معتبر رواة نے مرسلا ذکر کیا ہے، اور ابوہریرہ کا تذکرہ نہیں کیا ہے، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود: 9؍ 832)
وضاحت: ۱؎: یعنی کہنیوں کو گھٹنوں پر ٹیک دیا کرو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (286)
ابن عجلان مدلس و عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 45
إسناده ضعيف
ترمذي (286)
ابن عجلان مدلس و عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 45
حدیث نمبر: 900
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، حَدَّثَنَا أَحْمَرُ بْنُ جَزْءٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا سَجَدَ جَافَى عَضُدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ حَتَّى نَأْوِيَ لَهُ".
احمر بن جزء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں بازو اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھتے یہاں تک کہ ہمیں (آپ کی تکلیف و مشقت پر) رحم آ جاتا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 900]
سیدنا احمر بن جزء رضی اللہ عنہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتے ہیں کہ: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں کو اپنے پہلوؤں سے (اس قدر) دور رکھتے تھے کہ ہمیں (آپ کی مشقت کو دیکھتے ہوئے) آپ پر ترس آتا۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 900]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 19 (880)، (تحفة الأشراف: 80)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/30، 4/342، 5/31) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه ابن ماجه (886 وسنده حسن)
أخرجه ابن ماجه (886 وسنده حسن)