سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
105. . باب : ما جاء في الأربع ركعات قبل الظهر
باب: ظہر سے پہلے کی چار رکعت سنت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1156
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ قَابُوسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَرْسَلَ أَبِي إِلَى عَائِشَةَ ، أَيُّ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ أَنْ يُوَاظِبَ عَلَيْهَا؟، قَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّي أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ، يُطِيلُ فِيهِنَّ الْقِيَامَ، وَيُحْسِنُ فِيهِنَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ".
قابوس اپنے والد (ابوظبیان) سے روایت کرتے ہیں کہ میرے والد نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس (یہ پوچھنے کے لیے) بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ان سنتوں میں سے) کس سنت پر مداومت پسند فرماتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعت پڑھتے تھے، ان میں قیام لمبا، اور رکوع و سجود اچھی طرح کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1156]
حضرت قابوس رحمہ اللہ اپنے والد (حضرت ابو ظبیان حصین بن جندب رحمہ اللہ) سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میرے والد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس (کسی کو) یہ دریافت کرنے کے لیے بھیجا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی نماز پر دوام کرنا زیادہ پسند کرتے تھے؟“ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر (کے فرضوں) سے پہلے چار رکعت پڑھتے تھے، جن میں طویل قیام فرماتے اور رکوع اور سجدے خوب اچھی طرح کرتے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1156]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16060، ومصباح الزجاجة: 412)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/43) (ضعیف)» (اس کی سند میں قابوس بن ابی ظبیان ضعیف ہیں، ابو ظبیان حصین بن جندب تابعی ہیں، انہوں نے جو واسطہ ذکر کیا ہے، مبہم ہے، ملاحظہ ہو: الترغیب و الترہیب للمنذری 1/ 400)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قابوس: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 418
إسناده ضعيف
قابوس: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 418
حدیث نمبر: 1164
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب پڑھتے، پھر میرے گھر واپس آتے، اور دو رکعت پڑھتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1164]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز ادا فرماتے، پھر میرے گھر تشریف لاتے اور دو رکعت ادا فرماتے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1164]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجمعة 39 (937)، التہجد 25 (1175)، عن ابن عمر صحیح مسلم/المسافرین 15 (730)، سنن ابی داود/الصلاة290 (1251)، سنن الترمذی/الصلاة 205 (436)، (تحفة الأشراف: 16210) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح