🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
150. . باب : ما جاء فيما إذا أخروا الصلاة عن وقتها
باب: جب ائمہ و حکمران نماز میں تاخیر کریں تو کیا کرنا چاہئے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1255
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَلَّكُمْ سَتُدْرِكُونَ أَقْوَامًا يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِغَيْرِ وَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتُمُوهُمْ فَصَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ لِلْوَقْتِ الَّذِي تَعْرِفُونَ، ثُمَّ صَلُّوا مَعَهُمْ، وَاجْعَلُوهَا سُبْحَةً".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید تم لوگ ایسے لوگوں کو پاؤ گے، جو نماز بے وقت پڑھیں گے، اگر تم ایسے لوگوں کو پاؤ تو نماز اپنے گھر ہی میں وقت مقررہ پر پڑھ لو، پھر ان کے ساتھ بھی پڑھ لو اور اسے نفل (سنت) بنا لو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1255]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید تمہیں ایسے لوگ ملیں جو نماز کو بے وقت ادا کرتے ہوں۔ اگر تم انہیں پاؤ تو گھروں میں اس وقت نماز ادا کر لیا کرو جو تمہیں معلوم ہے (کہ یہ صحیح وقت ہے) پھر ان کے ساتھ بھی نماز پڑھ لو اور اسے نفل سمجھ لو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1255]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الإمامة 2 (780)، (تحفة الأشراف: 9211)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 5 (534)، نحوہ، سنن ابی داود/الصلاة 10 (432)، مسند احمد (1/379، 455، 459) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی دوسری نماز کو کیونکہ وہ بے وقت ہے گو جماعت سے ہے، اور بعضوں نے کہا ہے کہ اول نماز نفل ہو جائے گی اور یہ فرض، اور بعضوں نے کہا اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے جس کو چاہے فرض کر دے اور جس کو چاہے نفل کر دے۔ اب یہ حدیث عام ہے اور ہر ایک نماز کو شامل ہے کہ جماعت کے ساتھ اس کو دوبارہ پڑھ سکتے ہیں، اور بعضوں نے کہا ہے کہ صرف ظہر اور عشاء کو دوبارہ پڑھے، بقیہ کو دوبارہ نہ پڑھے۔ «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2865
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، ح وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" سَيَلِي أُمُورَكُمْ بَعْدِي رِجَالٌ يُطْفِئُونَ السُّنَّةَ، وَيَعْمَلُونَ بِالْبِدْعَةِ، وَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ أَدْرَكْتُهُمْ كَيْفَ أَفْعَلُ؟، قَالَ:" تَسْأَلُنِي يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ، كَيْفَ تَفْعَلُ؟ لَا طَاعَةَ لِمَنْ عَصَى اللَّهَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ زمانہ قریب ہے کہ میرے بعد تمہارے معاملات کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آئے گی جو سنت کو مٹائیں گے، بدعت پر عمل پیرا ہوں گے، اور نماز کی وقت پر ادائیگی میں تاخیر کریں گے، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر میں ان کا زمانہ پاؤں تو کیا کروں؟ فرمایا: اے ام عبد کے بیٹے! مجھ سے پوچھ رہے ہو کہ کیا کروں؟ جو شخص اللہ کی نافرمانی کرے اس کی بات نہیں مانی جائے گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 2865]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد کچھ ایسے لوگ بھی تمہارے معاملات کے نگران (اور تمہارے حکمران) ہوں گے جو سنت کی روشنی بجھائیں گے، بدعت پر عمل پیرا ہوں گے اور نماز کو (افضل) وقت سے دیر کر کے پڑھیں گے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں انہیں پاؤں تو کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ام عبد کے بیٹے! مجھ سے پوچھتے ہو کہ کیا کرو گے؟ جو شخص اللہ کی نافرمانی کرے اس کی کوئی اطاعت نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 2865]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9370، ومصباح الزجاجة: 1013)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/399، 5/325، 329) (صحیح) (صحیح أبی داود: 458، و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2/ 139)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں