🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
162. . باب : ما جاء في الخروج يوم العيد من طريق والرجوع من غيره
باب: عید کے دن ایک راستے سے عیدگاہ جانے اور دوسرے راستے سے واپس آنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1298
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى الْعِيدَيْنِ سَلَكَ عَلَى دَارِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، ثُمَّ عَلَى أَصْحَابِ الْفَسَاطِيطِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فِي الطَّرِيقِ الْأُخْرَى طَرِيقِ بَنِي زُرَيْقٍ، ثُمَّ يَخْرُجُ عَلَى دَارِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، وَدَارِ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَى الْبَلَاطِ".
مؤذن رسول سعد القرظ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عیدین کی نماز کے لیے نکلتے تو سعید بن ابی العاص کے مکان سے گزرتے، پھر خیمہ والوں کی طرف تشریف لے جاتے، پھر دوسرے راستے سے واپس ہوتے، اور قبیلہ بنی زریق کے راستے سے عمار بن یاسر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کے مکانات کو پار کرتے ہوئے مقام بلاط پر تشریف لے جاتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1298]
حضرت سعد القرظ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب عیدین کی نماز کے لیے تشریف لے جاتے تو سعید بن ابی العاص کے گھر کے پاس سے گزرتے، پھر خیموں والوں کے پاس سے گزرتے، پھر (نماز کے بعد) دوسرے راستے سے، یعنی بنو زریق کے راستے سے واپس ہوتے، پھر حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس سے اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس سے گزر کر میدان میں پہنچتے (اور وہاں سے مسجد نبوی اور امہات المومنین کے گھروں کی طرف چلتے)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1298]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3832، ومصباح الزجاجة: 456) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (عبدالرحمن اور ان کے والد ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: بلاط ایک مقام کا نام ہے، جو مسجد نبوی اور بازار کے درمیان واقع تھا۔ ۲؎: علماء نے راستہ بدلنے کی بہت سی حکمتیں بیان فرمائی ہیں، امام نووی ؒنے اس کی حکمت مقامات عبادت کا زیادہ ہونا بتلایا ہے، بعض کہتے ہیں کہ ایسا اس لئے کہ دونوں راستے قیامت والے دن گواہی دیں گے کہ یا اللہ تیری تکبیر و تہلیل کرتا ہوا یہ بندہ ہمارے اوپر سے گزرا تھا کیونکہ نماز عید کے لئے یہ حکم ہے کہ آتے جاتے راستوں میں بہ آواز بلند تکبیریں پڑھتے اور اللہ کا ذکر کرتے رہو، یا مقصد ہے کہ ایک کے بجائے دو راستوں کے فقراء، لوگوں کے صدقہ و خیرات سے بہرمند ہوں، یا اس لئے کہ مسلمانوں کی قوت و اجتماعیت کا زیادہ سے زیادہ مظاہرہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد الرحمٰن بن سعد: ضعيف
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 422

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3156
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ ، مُؤَذِّنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَبَحَ أُضْحِيَّتَهُ عِنْدَ طَرَفِ الزُّقَاقِ طَرِيقِ بَنِي زُرَيْقٍ بِيَدِهِ بِشَفْرَةٍ".
مؤذن رسول سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی زریق کے راستے میں گلی کے کنارے اپنی قربانی اپنے ہاتھ سے ایک چھری سے ذبح کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 3156]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنو زریق کے محلے کی طرف جانے والے راستے پر گلی کے کنارے اپنی قربانی اپنے ہاتھ سے چھری کے ساتھ ذبح کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 3156]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3833، ومصباح الزجاجة: 1093) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (عبدالرحمن بن سعد اور ان کے والد دونوں ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد الرحمٰن بن سعد: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 490

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں