🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب : ما جاء في قضاء رمضان
باب: رمضان کے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضاء کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1670
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كُنَّا نَحِيضُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَأْمُرُنَا بِقَضَاءِ الصَّوْمِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حیض آتا تھا تو آپ ہمیں روزے کی قضاء کا حکم دیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1670]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطہارة 97 (130)، (تحفة الأشراف: 15974)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض20 (321)، صحیح مسلم/الحیض 15 (335)، سنن ابی داود/الطہارة 105 (263)، سنن النسائی/الحیض 17 (382)، الصیام 36 (2320)، مسند احمد (6/32، 97، 120) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 631
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْهَا أَتَقْضِي الْحَائِضُ الصَّلَاةَ؟ قَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ؟" قَدْ كُنَّا نَحِيضُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَطْهُرُ وَلَمْ يَأْمُرْنَا بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نے ان سے پوچھا: کیا حائضہ نماز کی قضاء کرے گی؟ انہوں نے کہا: کیا تو حروریہ (خارجیہ) ہے؟ ۱؎ ہمیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حیض آتا تھا، پھر ہم پاک ہو جاتے تھے، آپ ہمیں نماز کی قضاء کا حکم نہیں دیتے تھے ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 631]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الحیض 20 (231)، صحیح مسلم/الحیض 15 (335)، سنن ابی داود/الطہارة 105 (262، 263)، سنن الترمذی/الطہارة 97 (130)، سنن النسائی/الحیض 17 (382)، الصوم 36 (2320)، (تحفة الأشراف: 17964)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/32، 97، 120، 185، 231)، سنن الدارمی/الطہارة 84 (800) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: حروریہ: حروراء کی طرف منسوب ہے جو کوفہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے، یہ خوارج کے ایک گروہ کا نام ہے، یہ لوگ حیض کے مسئلہ میں متشدد تھے ان کا کہنا تھا کہ حائضہ روزے کی طرح نماز کی بھی قضا کرے گی، اسی وجہ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس عورت سے کہا «أحرورية أنت» کیا تو حروریہ ہے یعنی تو بھی وہی عقیدہ رکھتی ہے جو حروری (خارجی) رکھتے ہیں۔ ۲؎: حائضہ پر نماز کی قضا نہیں ہے، لیکن روزہ کی قضا ہے، ابن منذر اور نووی نے اس پر امت کا اجماع نقل کیا ہے، نیز صحیحین میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک حدیث میں ہے کہ ہم کو روزے کی قضا کرنے کا حکم ہوتا، اور نماز کے قضا کرنے کا حکم نہیں ہوتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں