🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
64. باب : ما جاء في المعتكف يغسل رأسه ويرجله
باب: معتکف اپنا سر دھو سکتا ہے اور کنگھی کر سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1778
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ وَهُوَ مُجَاوِرٌ، فَأَغْسِلُهُ، وَأُرَجِّلُهُ، وَأَنَا فِي حُجْرَتِي، وَأَنَا حَائِضٌ، وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں مسجد سے اپنا سر میری طرف بڑھا دیتے تو میں اسے دھو دیتی اور کنگھی کر دیتی، اس وقت میں اپنے حجرے ہی میں ہوتی، اور حائضہ ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ہوتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1778]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17288)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض 6 (301)، الاعتکاف 4 (2021)، اللباس 76 (5925)، صحیح مسلم/الحیض 3 (297)، سنن ابی داود/الصوم 79 (2468)، سنن النسائی/الطہارة 176 (276)، الحیض 21 (387)، موطا امام مالک/الاعتکاف 1 (1)، 7 (7) مسند احمد (6/32، 55، 86، 170، 204، سنن الدارمی/الطہارة 108 (1098)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 633) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ معتکف اعتکاف کی حالت میں اپنے بدن میں سے بعض اجزاء باہر نکال سکتا ہے، اور حجرے کا دروازہ مسجد کی طرف تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی اخیر میں بیٹھ جاتے ہوں گے اور سر مبارک حجرے کے اندر کر دیتے ہوں گے، اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا اس کو دھو دیتی ہوں گی،تو اس طرح ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا حجرے کے اندر رہتی ہوں گی ٕاور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے اندر۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 633
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُدْنِي رَأْسَهُ إِلَيَّ وَأَنَا حَائِضٌ، وَهُوَ مُجَاوِرٌ تَعْنِي: مُعْتَكِفًا، فَأَغْسِلُهُ، وَأُرَجِّلُهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں حیض کی حالت میں ہوتی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں معتکف ہوتے، تو آپ اپنا سر مبارک میری طرف بڑھا دیتے، میں آپ کا سر دھو کر کنگھا کر دیتی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 633]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17288)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض 6 (301)، الاعتکاف 4 (2021)، اللباس 76 (5925)، صحیح مسلم/الحیض 3 (297) سنن النسائی/الطہارة 176 (278)، الحیض 21 (387)، موطا امام مالک/الطہارة 28 (102)، مسند احمد (6/32، 55، 86، 170، 204)، سنن الدارمی/الطہارة 108 (1098) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: حجرہ کا دروازہ مسجد ہی میں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے کے اندر اپنا سر مبارک کر دیتے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کنگھی کر دیتیں، بال دھو دیتیں، آپ ہمیشہ بال رکھتے تھے، آپ نے صرف حج میں بال منڈائے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں