🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب : صدقة الغنم
باب: بکریوں کی زکاۃ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1805
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَقْرَأَنِي سَالِمٌ كِتَابًا كَتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّدَقَاتِ قَبْلَ أَنْ يَتَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَوَجَدْتُ فِيهِ فِي أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ، إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً، فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً، فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلاثِ مِائَةٍ، فَإِذَا كَثُرَتْ، فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ، وَوَجَدْتُ فِيهِ لَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ، وَوَجَدْتُ فِيهِ لَا يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ تَيْسٌ، وَلَا هَرِمَةٌ، وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے سالم نے ایک تحریر پڑھائی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کے سلسلے میں اپنی وفات سے پہلے لکھوائی تھی، اس تحریر میں میں نے لکھا پایا: چالیس سے ایک سو بیس بکریوں تک ایک بکری زکاۃ ہے، اگر ۱۲۰ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں دو سو تک دو بکریاں ہیں، اور اگر ۲۰۰ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں ۳۰۰ تک تین بکریاں ہیں، اور اگر اس سے بھی زیادہ ہو تو ہر سو میں ایک بکری زکاۃ ہے، اور میں نے اس میں یہ بھی پایا: متفرق مال اکٹھا نہ کیا جائے، اور اکٹھا مال متفرق نہ کیا جائے، اور اس میں یہ بھی پایا: زکاۃ میں جفتی کے لیے مخصوص بکرا، بوڑھا اور عیب دار جانور نہ لیا جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1805]
امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ نے حضرت سالم رحمہ اللہ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: مجھے حضرت سالم رحمہ اللہ نے وہ دستاویز پڑھوائی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوت ہونے سے پہلے زکاۃ کے بارے میں تحریر فرمائی تھی۔ (امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں) مجھے اس دستاویز میں یہ عبارت لکھی ہوئی ملی: چالیس سے ایک سو بیس بکریوں تک ایک بکری (زکاۃ) ہے۔ اگر ایک بھی زیادہ ہو جائے تو (ایک سو اکیس سے لے کر) دو سو تک دو بکریاں (واجب الادا) ہیں۔ اگر ان میں ایک بھی زیادہ ہو تو (دو سو ایک سے لے کر) تین سو تک تین بکریاں ہیں۔ اگر اس سے زیادہ ہوں تو ہر سو پر ایک بکری ہے۔ میں نے اس میں یہ (حکم) بھی پایا: الگ الگ (ریوڑوں) کو جمع نہ کیا جائے اور اکٹھے (ایک) ریوڑ کو الگ الگ نہ کیا جائے۔ اور مجھے اس میں یہ (حکم) بھی (لکھا ہوا) ملا: زکاۃ میں نہ سانڈ وصول کیا جائے، نہ بوڑھا جانور اور نہ عیب دار جانور۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1805]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الزکاة 4 (1568)، سنن الترمذی/الزکاة 4 (621)، (تحفة الأشراف: 6837)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة 11 (23)، مسند احمد (2/14، 15)، سنن الدارمی/الزکاة 4 (1666) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1798
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَقْرَأَنِي سَالِمٌ كِتَابًا كَتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّدَقَاتِ قَبْلَ أَنْ يَتَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَوَجَدْتُ فِيهِ فِي خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ شَاةٌ، وَفِي عَشْرٍ شَاتَانِ، وَفِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثُ شِيَاهٍ، وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ، وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ بِنْتُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، فَإِنْ لَمْ تُوجَدْ بِنْتُ مَخَاضٍ، فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ، فَإِنْ زَادَتْ عَلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ وَاحِدَةً، فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسَةٍ وَأَرْبَعِينَ، فَإِنْ زَادَتْ عَلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ وَاحِدَةً، فَفِيهَا حِقَّةٌ إِلَى سِتِّينَ، فَإِنْ زَادَتْ عَلَى سِتِّينَ وَاحِدَةً، فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ، فَإِنْ زَادَتْ عَلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ وَاحِدَةً، فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ، فَإِنْ زَادَتْ عَلَى تِسْعِينَ وَاحِدَةً، فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا كَثُرَتْ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے سالم نے ایک تحریر پڑھوائی، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کے بیان میں اپنی وفات سے پہلے لکھوائی تھی، اس تحریر میں میں نے یہ لکھا پایا: پانچ اونٹ میں ایک بکری ہے، اور دس اونٹ میں دو بکریاں ہیں، اور پندرہ اونٹ میں تین بکریاں ہیں، اور بیس اونٹ میں چار بکریاں ہیں، اور پچیس سے پینتیس اونٹوں تک میں ایک بنت مخاض ۱؎ ہے، اگر بنت مخاض نہ ہو تو ابن لبون ۲؎ ہے، اور اگر پینتیس سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو ۴۵ تک بنت لبون ۳؎ ہے، اور اگر ۴۵ سے بھی زیادہ ہو جائے تو ساٹھ تک ایک حقہ ۴؎ ہے، اور اگر ساٹھ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے، تو ۷۵ تک ایک جذعہ ۵؎، اور اگر ۷۵ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو نوے تک دو بنت لبون ہیں، اور اگر نوے سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو ۱۲۰ تک دو حقے ہیں، اور اگر ۱۲۰ سے زیادہ ہوں تو ہر پچاس میں ایک حقہ، اور ہر چالیس میں ایک بنت لبون ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1798]
امام ابن شہاب زہری نے سالم بن عبداللہ اور ان کے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: مجھے حضرت سالم رضی اللہ عنہ نے وہ تحریر پڑھوائی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کے بارے میں وفات سے پہلے لکھوائی تھی۔ میں نے اس میں یہ باتیں (لکھی ہوئی) پائیں: پانچ اونٹوں پر ایک بکری (زکاۃ) ہے، دس اونٹوں پر دو بکریاں، پندرہ اونٹوں پر تین بکریاں، بیس اونٹوں پر چار بکریاں، پچیس سے پینتیس پر ایک سال کی ایک اونٹنی ہے۔ اگر ایک سالہ اونٹنی نہ ملے تو دو سالہ مذکر اونٹ ہے۔ اگر پینتیس سے ایک اونٹ بھی زیادہ ہو تو ان پر دو سالہ اونٹنی ہے۔ پینتالیس تک (یہی زکاۃ ہے۔) اگر پینتالیس سے ایک اونٹ بھی زیادہ ہو تو (چھیالیس سے) ساٹھ تک تین سالہ اونٹنی ہے۔ اگر (گلے کی تعداد) ساٹھ سے ایک زیادہ ہو تو پچھتر تک چار سالہ اونٹنی ہے۔ اگر پچھتر سے ایک بھی زائد ہو تو نوے تک ان میں دو سالہ دو اونٹنیاں زکاۃ ہے۔ اگر نوے سے ایک بھی زیادہ ہو تو ایک سو بیس تک تین تین سال کی دو اونٹنیاں ہیں۔ اگر (اونٹ) اس سے زیادہ ہوں تو ہر پچاس میں تین سالہ اونٹنی اور ہر چالیس میں دو سالہ اونٹنی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1798]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6837)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الزکاة 4 (1568)، سنن الترمذی/الزکاة 4 (621)، موطا امام مالک/الزکاة 11 (23)، مسند احمد (2/14، 15)، سنن الدارمی/الزکاة 6 (1666) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بنت مخاض: اونٹ کا وہ مادہ بچہ جو اپنی عمر کا ایک سال پورا کر چکا ہو۔
۲؎: ابن لبون: اونٹ کا وہ نر بچہ جو اپنی عمر کے دو سال پورے کر چکا ہو۔
۳؎: بنت لبون: اونٹ کا وہ مادہ بچہ جو اپنی عمر کے دو سال پور ے کر چکا ہو۔
۴؎: حقہ: اونٹ کا وہ مادہ بچہ جو اپنی عمر کے تین سال پورے کر چکا ہو۔
۵؎: جذعہ: اونٹ کا وہ مادہ بچہ جو عمر کے چار سال پورے کر چکا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1807
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِي أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً، فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً، فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلاثِ مِائَةٍ، فَإِنْ زَادَتْ، فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ، لَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ، وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ، وَكُلُّ خَلِيطَيْنِ يَتَرَاجَعَانِ بِالسَّوِيَّةِ، وَلَيْسَ لِلْمُصَدِّقِ هَرِمَةٌ، وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ، وَلَا تَيْسٌ، إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَّدِّقُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس سے لے کر ایک سو بیس بکریوں تک ایک بکری زکاۃ ہے، اگر ایک سو بیس سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو دو سو تک دو بکریاں ہیں، اور اگر دو سو سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو تین سو تک تین بکریاں ہیں، اور اگر تین سو سے زیادہ ہوں تو ہر سو میں ایک بکری ہے، اور جو جانور اکٹھے ہوں انہیں زکاۃ کے ڈر سے الگ الگ نہ کیا جائے، اور نہ ہی جو الگ الگ ہوں انہیں اکٹھا کیا جائے، اور اگر مال میں دو شخص شریک ہوں تو دونوں اپنے اپنے حصہ کے موافق زکاۃ پوری کریں ۱؎، اور زکاۃ میں عامل زکاۃ کو بوڑھا، عیب دار اور جفتی کا مخصوص بکرا نہ دیا جائے، الا یہ کہ عامل زکاۃ خود ہی لینا چاہے ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1807]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس بکریوں میں ایک بکری (زکاۃ) ہے، ایک سو بیس تک (یہی حکم ہے)۔ اگر ایک زیادہ ہو جائے تو دو بکریاں ہیں، دو سو تک۔ اگر (دو سو سے) ایک بکری زیادہ ہو تو تین سو تک تین بکریاں ہیں۔ اگر اس سے زیادہ ہوں تو ہر سو میں ایک بکری (زکاۃ) ہے۔ زکاۃ کے ڈر سے اکٹھے (ریوڑ) کو الگ الگ نہ کیا جائے، اور الگ الگ (ریوڑوں) کو اکٹھا نہ کیا جائے۔ اور ریوڑ میں شریک دو افراد برابری کی بنیاد پر ایک دوسرے سے حساب کتاب کر لیں۔ اور زکاۃ وصول کرنے والے (عامل) کو بوڑھا یا عیب دار جانور نہ دیا جائے اور نہ سانڈ دیا جائے، الا یہ کہ زکاۃ دینے والا چاہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1807]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8545) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مثلاً دو شریک ہیں ایک کی ایک ہزار بکریاں ہیں، اور دوسرے کی صرف چالیس بکریاں ہیں، اس طرح کل ایک ہزار چالیس بکریاں ہوئیں،زکاۃ وصول کرنے والا آیا اور اس نے دس بکریاں زکاۃ میں لے لیں، فرض کیجیے ہر بکری کی قیمت چھبیس چھبیس روپے ہے، اس طرح ان کی مجموعی قیمت دو سو ساٹھ روپے ہوئی جس میں دس روپے اس شخص کے ذمہ ہوں گے جس کی چالیس بکریاں ہیں، اور دو سو پچاس روپے اس پر ہوں گے جس کی ایک ہزار بکریاں ہیں کیونکہ ایک ہزار چالیس کے چھبیس چالیسے بنتے ہیں جن میں سے ایک چالیسہ کی زکاۃ چالیس بکریوں والے پر ہو گی اور ۲۵ چالیسوں کی زکاۃ ایک ہزار بکریوں والے پر ہو گی، اب اگر زکاۃ وصول کرنے والے نے چالیس بکریوں والے شخص کی بکریوں سے دس بکریاں زکاۃ میں لی ہیں جن کی مجموعی قیمت دو سو ساٹھ روپے بنتی ہے تو ہزار بکریوں والا اسے ڈھائی سو روپئے واپس کرے گا، اور اگر زکاۃ وصول کرنے والے نے ایک ہزار بکریوں والے شخص کی بکریوں میں سے دس بکریاں لی ہیں تو چالیس بکریوں والا اسے دس روپیہ ادا کرے گا۔
۲؎: یعنی جب کسی مصلحت کی وجہ سے محصل (زکاۃ وصول کرنے والا) کسی عیب دار یا بوڑھے یا نر جانور کو لینا چاہے تو صاحب مال پر کوئی زور نہیں کہ وہ دے ہی دے اور محصل کی مرضی کے بغیر اس قسم کے جانور کو زکاۃ میں دینا منع ہے، مصلحت یہ ہے کہ مثلاً عیب دار جانور قوی اورموٹا ہو، دودھ کی زیادہ توقع ہو، یا زکاۃ کے جانور سب مادہ ہوں، ان میں نر کی ضرورت ہو تو نر قبول کرے یا بوڑھا جانور ہو لیکن عمدہ نسل کا ہو تو اس کو قبول کرے۔ «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں