🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب : كسب الحجام
باب: حجام (پچھنا لگانے والے) کی کمائی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2165
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ".
ابومسعود عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجام (پچھنا لگانے والے) کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2165]
حضرت ابو مسعود عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگانے والے کی کمائی سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2165]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10011، ومصباح الزجاجة: 767) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2159
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ".
ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ کی کمائی اور کاہن کی اجرت سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2159]
حضرت ابو مسعود (عقبہ بن عمرو انصاری) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، طوائف کی اجرت اور کاہن کا نذرانہ لینے سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2159]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/البیوع 113 (2237)، الإجارة 20 (2282)، الطلاق 51 (5346)، الطب 46 (5761)، صحیح مسلم/المساقاة 9 (1567)، سنن ابی داود/البیوع 41 (3428)، 65 (3481)، سنن الترمذی/البیوع 46 (1276)، النکاح 37 (1133)، الطب 23 (2071)، سنن النسائی/الصید والذبائح 15 (4297)، (تحفة الأشراف: 10010)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 29 (68)، مسند احمد (1/118، 120، 140، 141)، سنن الدارمی/البیوع 34 (2610) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کتے کی خرید و فروخت جائز نہیں ہے، مگر نسائی کی روایت کے مطابق شکاری کتا اس سے مستثنی ہے یعنی اس کی قیمت جائز اور نجومی میں وہ رمال، جفار اور جوتشی وغیرہ بھی شامل ہیں جو مستقبل کی باتیں بتاتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں