سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب : من اشترط الخلاص
باب: (خرید و فروخت میں) خلاصی کی شرط لگانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2344
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا بِيعَ الْبَيْعُ مِنْ رَجُلَيْنِ فَالْبَيْعُ لِلْأَوَّلِ"، قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: إِبْطَالُ الْخَلَاصِ.
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مال دو آدمیوں کے ہاتھ بیچا جائے تو وہ مال اس شخص کا ہو گا جس نے پہلے خریدا“ ۱؎۔ ابوالولید کہتے ہیں کہ اس حدیث سے خلاصی کی شرط باطل ہوتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2344]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ایک چیز دو آدمیوں کے ہاتھ فروخت کر دی جائے تو پہلے کے ہاتھ بیچنا ہی معتبر ہو گا۔“ ابوالولید نے کہا: ”اس حدیث سے (دوسرے خریدار کی طرف سے) قبضہ دلوانے کی شرط ناجائز ثابت ہوتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2344]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4582، 9918)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/النکاح 20 (1110)، سنن النسائی/البیوع 94 (4686)، مسند احمد (5/8، 11، 12، 18، 22)، سنن الدارمی/النکاح 15 (2239) (ضعیف)» (سند میں حسن بصری مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اور عقیقہ کی حدیث کے علاوہ سمرہ رضی اللہ عنہ سے ان کا سماع ثابت نہیں ہے)
وضاحت: ۱؎: یعنی اگر دوسرے خریدار نے اپنے بائع سے یہ شرط لگائی تھی کہ جس طرح تم سے ہو سکے یہ مال چھڑا کر مجھ کو دینا تو یہ شرط مفید نہ ہو گی اور بائع پہلے خریدار سے اس کے چھڑانے پر مجبور نہ کیا جائے گا، مسئلہ کی صورت یہ ہے کہ مثلاً زید کے پاس ایک گھوڑا تھا، زید نے اس کو عمرو کے ہاتھ بیچ دیا، اس کے بعد زید کے وکیل (ایجنٹ) نے اس کو بکر کے ہاتھ بیچ دیا اور بکر نے وکیل سے شرط لگائی کہ اس گھوڑے کو چھڑا کر میرے حوالہ کرنا تمہارے ذمہ ہے، اس نے قبول کیا جب بھی وہ گھوڑا عمرو ہی کو ملے گا کیونکہ اس کی بیع پہلی تھی اور بکر کی بیع دوبارہ صحیح نہیں ہوئی۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 2191
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا بَاعَ الْمُجِيزَانِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ".
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو اختیار رکھنے والے ایک چیز کی بیع کریں تو جس نے پہلے بیع کی، اس کا اعتبار ہو گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2191]
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو صاحبِ اختیار بیع کریں تو وہ پہلے کی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2191]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4582، 9918) (ضعیف)» (سند میں حسن بصری ہیں جن کا سماع سمرة رضی اللہ عنہ سے صرف عقیقہ کی حدیث کا ہے، دوسری احادیث کا نہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن