Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب : طلب الشفعة
باب: شفعہ کا مطالبہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2501
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا شُفْعَةَ لِشَرِيكٍ عَلَى شَرِيكٍ إِذَا سَبَقَهُ بِالشِّرَاءِ وَلَا لِصَغِيرٍ وَلَا لِغَائِبٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شریک کو شریک پر اس وقت شفعہ نہیں رہتا ہے، جب وہ خریداری میں اس سے سبقت کر جائے، اسی طرح نہ کم سن (نابالغ) کے لیے شفعہ ہے، اور نہ غائب کے لیے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الشفعة/حدیث: 2501]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7293، ومصباح الزجاجة: 887) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (سند میں محمد بن الحارث ضعیف راوی ہیں، اور محمد بن عبد الرحمن البیلمانی متہم با لکذب راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 4804)
وضاحت: ۱؎: مثلاً کسی جائیداد میں زید، عمر اور بکر شریک ہیں،بکر نے اپنا حصہ زید کے ہاتھ بیچ دیا، تو عمر کو زید پر شفعہ کے دعویٰ کا حق حاصل نہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
انظر الحديث السابق (2500)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 469

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2500
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشُّفْعَةُ كَحَلِّ الْعِقَالِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شفعہ اونٹ کی رسی کھولنے کے مانند ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الشفعة/حدیث: 2500]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7292، ومصباح الزجاجة: 886) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (سند میں محمد بن الحارث ضعیف ہے، اور محمد بن عبد الرحمن البیلمانی متہم بالکذب ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 1542)
وضاحت: ۱؎: یعنی جیسے اونٹ کے کھٹنے کی رسی کھول دی جائے تو اونٹ فوراً اٹھ کھڑا ہوتا ہے اسی طرح بیع کی خبر ہوتے ہی اگر شفیع شفعہ لے تو ٹھیک ہے، اور اگر دیر کرے تو شفعہ کا حق باطل ہو گیا، یہ حدیث حنفیہ کی دلیل ہے جن کے نزدیک شفیع کو جب بیع کی خبر پہنچے تو فوراً اس کو طلب کرنا چاہئے، فقہ حنفی میں ہے کہ مجلس علم میں شفعہ طلب کرنا کافی ہے، اگرچہ مجلس دیر تک رہے، پس احناف کے نزدیک اگر شفیع فوراً یا اس مجلس میں شفعہ کا مطالبہ نہ کرے تو اس کا حق باطل ہو جاتا ہے۔ اور اہل حدیث کے نزدیک دیر کرنے سے شفعہ کا حق باطل نہیں ہوتا کیونکہ شفعہ کی احادیث مطلق ہیں، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی یہ حدیث جس سے حنفیہ نے استدلال کیا ہے سخت ضعیف ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
محمد بن الحارث: ضعيف
وشيخه محمد بن عبد الرحمٰن بن البيلماني: ضعيف
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 469

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں