سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب : المدبر
باب: مدبر غلام کا بیان۔
حدیث نمبر: 2512
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَاعَ الْمُدَبَّرِ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدبر غلام بیچا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2512]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مدبر غلام فروخت کیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2512]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 59 (2141)، 110 (2230)، الإاستقراض 16 (2403)، الخصومات 3 (2415)، العقتق 9 (2534)، کفارات الأیمان 7 (6716)، الإکراہ 4 (6947)، الأحکام 32 (7186)، سنن ابی داود/العتق 9 (3955)، سنن النسائی/البیوع 83 (4658)، (تحفة الأشراف: 2416)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزکاة 13 (997)، سنن الترمذی/البیوع 11 (1219)، مسند احمد (3/301، 308، 365، 390)، سنن الدارمی/البیوع 37 (2615) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مدبر وہ غلام یا لونڈی ہے جس سے مالک نے یہ کہہ دیا ہو کہ تم میرے مرنے کے بعد آزاد ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 2513
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" دَبَّرَ رَجُلٌ مِنَّا غُلَامًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَبَاعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاشْتَرَاهُ ابْنُ النَّحَّامِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَدِيٍّ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم میں سے ایک شخص نے غلام کو مدبر بنا دیا، اس کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی مال نہ تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیچ دیا، اور قبیلہ بنی عدی کے شخص ابن نحام نے اسے خریدا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2513]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہمارے قبیلے کے ایک آدمی نے ایک غلام کو مدبر قرار دے دیا۔ اس کے پاس اس غلام کے علاوہ کوئی مال نہیں تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (غلام) کو فروخت کر دیا۔ اسے قبیلہ بنو عدی کے ایک شخص ابن نحام (رضی اللہ عنہ) نے خرید لیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2513]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 110 (2231)، صحیح مسلم/الزکاة 13 (997)، سنن الترمذی/البیوع 11 (1219)، (تحفة الأشراف: 2526)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/308) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه