سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب : من جهز غازيا
باب: مجاہد کو سامان جہاد فراہم کرنے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2759
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَجْرِ الْغَازِي شَيْئًا".
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مجاہد فی سبیل اللہ کو ساز و سامان سے لیس کر دے، اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس مجاہد کو ملے گا، بغیر اس کے کہ اس کے ثواب میں کچھ کمی کی جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2759]
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں جنگ کرنے والے کو سامان مہیا کیا، اسے بھی اس (مجاہد) کے برابر ثواب ملے گا جب کہ مجاہد کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2759]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/فضائل الجہاد 6 (1629 1630)، (تحفة الأشراف: 3761)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 38 (2843)، صحیح مسلم/الإمارة 38 (1895)، سنن ابی داود/الجہاد 21 (2509)، سنن النسائی/الجہاد 44 (3182)، مسند احمد (4/115، 116، 117، 5/192، 193)، سنن الدارمی/الجہاد 27 (2463) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 1746
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، وَخَالِي يَعْلَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ حَجَّاجٍ كُلُّهُمْ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا".
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی کسی روزہ دار کو افطار کرا دے تو اس کو روزہ دار کے برابر ثواب ملے گا، اور روزہ دار کے ثواب میں سے کوئی کمی نہیں ہو گی“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 1746]
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے روزے دار کا روزہ افطار کرایا، اسے اس (روزے داروں) کے برابر ثواب ملے گا، لیکن ان کے ثواب میں کچھ کمی نہیں ہو گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 1746]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصوم 82 (807)، (تحفة الأشراف: 3760)، (4/114، 116، 5/192) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سبحان اللہ، روزہ دار کا روزہ افطار کرانا، اس میں بھی روزے کے برابر ثواب ہے، دوسری روایت میں ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہر شخص میں اتنی استعداد کہاں ہوتی ہے کہ روزہ دار کا روزہ افطار کرائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ثواب اس کو بھی ملے گا جو روزہ دار کا روزہ دودھ ملے ہوئے ایک گھونٹ پانی سے کھلوا دے، یا ایک کھجور، یا ایک گھونٹ پانی سے کھلوا دے، اور جو کوئی روزہ دار کو پیٹ بھر کے کھلا دے اس کو تو اللہ تعالی میرے حوض سے ایک گھونٹ پلائے گا، اس کے بعد وہ پیاسا نہ ہو گا یہاں تک کہ جنت میں داخل ہو گا“ (سنن بیہقی)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح