سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب : لبس الحرير والديباج في الحرب
باب: جنگ میں حریر و دیبا (ریشمی کپڑوں) کے پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2819
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِي عُمَرَ مَوْلَى أَسْمَاءَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا أَخْرَجَتْ جُبَّةً مُزَرَّرَةً بِالدِّيبَاجِ فَقَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ هَذِهِ إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ".
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ریشم کی گھنڈیاں لگا ہوا جبہ نکالا اور کہنے لگیں: دشمن سے مقابلہ کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہنتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2819]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس و الزینة 2 (2069)، سنن ابی داود/اللباس 12 (4054)، سنن النسائی/الکبری الزینة (9619)، (تحفة الأشراف: 15721)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/47، 348، 353)، الأدب المفرد (348) (صحیح) (اس کی سند میں حجاج بن ارطاہ ضعیف ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، کما فی التخریج)»
وضاحت: ۱؎: اکثر اہل علم کے نزدیک لڑائی میں ریشمی کپڑا پہننا جائز ہے کیونکہ تلوار ریشم کو مشکل سے کاٹتی ہے، حریر اور دیباج میں یہ فرق ہے کہ دیباج خالص ریشم ہوتا ہے اور حریر میں ریشم ملا ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حجاج بن أرطاة ضعيف مدلس و عنعن
وأصل الحديث في صحيح مسلم (2069) وغيره بدون ’’إذا لقي العدو‘‘ و انظر الحديث الآتي (الأصل: 3594)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 480
إسناده ضعيف
حجاج بن أرطاة ضعيف مدلس و عنعن
وأصل الحديث في صحيح مسلم (2069) وغيره بدون ’’إذا لقي العدو‘‘ و انظر الحديث الآتي (الأصل: 3594)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 480
حدیث نمبر: 3594
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ زِيَادٍ , عَنْ أَبِي عُمَرَ مَوْلَى أَسْمَاءَ , قَالَ: رَأَيْتُ بْنَ عُمَرَ اشْتَرَى عِمَامَةً لَهَا عَلَمٌ , فَدَعَا بِالْجَلَمَيْنِ فَقَصَّهُ , فَدَخَلْتُ عَلَى أَسْمَاءَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا , فَقَالَتْ:" بُؤْسًا لِعَبْدِ اللَّهِ , يَا جَارِيَةُ , هَاتِي جُبَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَجَاءَتْ بِجُبَّةٍ مَكْفُوفَةِ الْكُمَّيْنِ , وَالْجَيْبِ , وَالْفَرْجَيْنِ بِالدِّيبَاجِ".
اسماء رضی اللہ عنہا کے غلام ابوعمر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے ایک عمامہ خریدا جس میں گوٹے بنے تھے، پھر قینچی منگا کر انہیں کتر دیا ۱؎، میں اسماء رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اس کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے کہا: تعجب ہے عبداللہ پر، (ایک اپنی خادمہ کو پکار کر کہا:) اے لڑکی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جبہ لے آ، چنانچہ وہ ایک ایسا جبہ لے کر آئی جس کی دونوں آستینوں، گریبان اور کلیوں کے دامن پر ریشمی گوٹے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 3594]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 2 (2069)، سنن ابی داود/اللباس 12 (4054)، (تحفة الأشراف: 15721)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/348، 353، 354، 355) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: شاید ابن عمر رضی اللہ عنہما اس رخصت کی خبر نہ ہو گی، اور شاید ان کے عمامہ کا حاشیہ چار انگل سے زیادہ ہو گا، اس لئے انہوں نے کاٹ ڈالا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن