سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب : النفل
باب: مال غنیمت میں سے ہبہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2853
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ ، أَنْبَأَنَا رَجَاءُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ:" لَا نَفَلَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَرُدُّ الْمُسْلِمُونَ قَوِيُّهُمْ عَلَى ضَعِيفِهِمْ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ قَالَ رَجَاءٌ : فَسَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى ، يَقُولُ لَهُ: حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ فِي الْبَدْأَةِ الرُّبُعَ، وَحِينَ قَفَلَ الثُّلُثَ"، فَقَالَ عَمْرٌو: أُحَدِّثُكَ عَنْ أَبِي، عَنْ جَدِّي، وَتُحَدِّثُنِي عَنْ مَكْحُولٍ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مال غنیمت سے ہبہ اور عطیہ کا سلسلہ ختم ہو گیا، اب طاقتور مسلمان کمزور مسلمانوں کو مال لوٹائیں گے ۱؎۔ حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع لڑائی میں ملنے والے کو مال غنیمت کا چوتھائی حصہ بطور ہبہ اور عطیہ دیا، اور لوٹتے وقت تہائی حصہ دیا ۲؎۔ تو عمرو بن شعیب نے سلیمان بن موسیٰ سے کہا کہ میں تمہیں اپنے والد کے واسطہ سے اپنے دادا (عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما) سے روایت کر رہا ہوں اور تم مجھ سے مکحول کے حوالے سے بیان کر رہے ہو؟ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2853]
حضرت رجاء بن ابوسلمہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں عمرو بن شعیب نے اپنے والد کے واسطے سے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت بیان کی کہ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی زائد انعام نہیں، قوی مسلمان ضعیف مسلمانوں کو بھی (غنیمت میں سے) حصہ دیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2853]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث عبد اللہ بن عمرو تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8705، ومصباح الزجاجة: 1010)، وحدیث حبیب بن مسلمة تقدم تخریجہ، (2851) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی طاقتور لوگوں کے ذریعہ حاصل شدہ مال میں کمزوروں کا بھی حصہ ہو گا۔
۲؎: یعنی مال غنیمت میں سب مسلمان برابر کے شریک ہوں گے اور برابر حصہ پائیں گے۔
۲؎: یعنی مال غنیمت میں سب مسلمان برابر کے شریک ہوں گے اور برابر حصہ پائیں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون الموقوف على جد عمرو
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 2851
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جَارِيَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ الثُّلُثَ بَعْدَ الْخُمُسِ".
حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت میں سے خمس (پانچواں حصہ جو اللہ اور اس کے رسول کا حق ہے) نکال لینے کے بعد مال غنیمت کا ایک تہائی بطور نفل ہبہ اور عطیہ دیتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2851]
حضرت حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”خمس کے بعد تہائی حصہ بطور انعام دیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2851]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجہاد 158 (2748، 2749، 2750)، (تحفة الأشراف: 3293)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/159، 160)، سنن الدارمی/السیر 43 (2526) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ اللہ اور رسول کا ہے، اور باقی چار حصے مجاہدین میں تقسیم کئے جائیں، اور امام کو اختیار ہے کہ باقی ان چارحصوں ۴/۵ میں جسے جتنا چاہے، عطیہ دے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح