🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. باب : المحرم يغسل رأسه
باب: محرم اپنا سر دھو سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2934
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ اخْتَلَفَا بِالْأَبْوَاءِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ: يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ، وَقَالَ الْمِسْوَرُ: لَا يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ، فَأَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ، وَهُوَ يَسْتَتِرُ بِثَوْبٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟، قُلْتُ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُنَيْنٍ، أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، أَسْأَلُكَ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ، وَهُوَ مُحْرِمٌ؟، قَالَ: فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ يَدَهُ عَلَى الثَّوْبِ، فَطَأْطَأَهُ حَتَّى بَدَا لِي رَأْسُهُ، ثُمَّ قَالَ لِإِنْسَانٍ يَصُبُّ عَلَيْهِ: اصْبُبْ فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ، ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ".
عبداللہ بن حنین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہم کے درمیان مقام ابواء میں اختلاف ہوا تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: محرم اپنا سر دھو سکتا ہے، اور مسور رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں دھو سکتا، چنانچہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، تاکہ میں ان سے اس سلسلے میں معلوم کروں، میں نے انہیں کنویں کے کنارے دو لکڑیوں کے درمیان ایک کپڑے کی آڑ لیے ہوئے نہاتے پایا، میں نے سلام عرض کیا، تو انہوں نے پوچھا: کون ہے؟ میں نے کہا: میں عبداللہ بن حنین ہوں، مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ میں آپ سے معلوم کروں کہ حالت احرام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو کیسے دھوتے تھے، ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھا اور اسے جھکایا یہاں تک کہ مجھے ان کا سر دکھائی دینے لگا، پھر ایک شخص سے جو پانی ڈال رہا تھا، کہا: پانی ڈالو، تو اس نے آپ کے سر پر پانی ڈالا، پھر آپ نے اپنے ہاتھوں سے سر کو ملا، اور دونوں ہاتھ سر کے آگے سے لے گئے، اور پیچھے سے لائے، پھر بولے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2934]
حضرت عبداللہ بن حنین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مقامِ ابواء پر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کے درمیان (ایک مسئلہ میں) اختلاف ہو گیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ محرم سر دھو سکتا ہے جبکہ حضرت مسور رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ محرم سر نہیں دھو سکتا۔ (حضرت عبداللہ بن حنین رضی اللہ عنہ نے کہا) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ مسئلہ معلوم کرنے کے لیے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا۔ میں نے انہیں کنویں کی دو لکڑیوں کے پاس غسل کرتے پایا۔ انہوں نے ایک کپڑے سے پردہ کر رکھا تھا۔ میں نے سلام کیا تو انہوں نے فرمایا: کون ہے؟ میں نے کہا: میں عبداللہ بن حنین ہوں۔ مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں یہ پوچھنے کے لیے بھیجا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرام کی حالت میں اپنا سر کس طرح دھوتے تھے؟ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے ہاتھ رکھ کر اسے اتنا نیچے کر دیا کہ مجھے ان کا سر نظر آنے لگا، پھر اس شخص کو جو (نہانے میں مدد دیتے ہوئے) آپ پر پانی ڈال رہا تھا، فرمایا: پانی ڈالو۔ اس نے آپ رضی اللہ عنہ کے سر پر پانی ڈالا تو آپ رضی اللہ عنہ نے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر (کے بالوں) کو حرکت دی۔ آپ اپنے ہاتھوں کو آگے کی طرف بھی لائے اور پیچھے بھی لے گئے۔ پھر فرمایا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے دیکھا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2934]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/جزاء الصید 14 (1840)، صحیح مسلم/الحج 13 (1205)، سنن ابی داود/الحج 38 (1840)، سنن النسائی/الحج 27 (2666)، (تحفة الأشراف: 3463)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 2 (4)، مسند احمد (5/416، 418، 421)، سنن الدارمی/المناسک 6 (1834) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: حالت احرام میں سر کا دھونا صرف پانی سے جائز ہے کسی بھی ایسی چیز سے پرہیز ضروری ہے جس سے جوؤں کے مرنے کا خوف ہو اسی طرح سر دھوتے وقت اتنا زور سے سے نہ رگڑیں کہ بال گریں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 433
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ الْكِلَابِيُّ ، حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ السَّائِبِ الرَّقَاشِيُّ ، عَنْ أَبِي سَوْرَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ فَخَلَّلَ لِحْيَتَهُ".
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور اپنی داڑھی کا خلال کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 433]
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا تو داڑھی مبارک کا خلال کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 433]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3497، ومصباح الزجاجة: 179)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/ 417) (صحیح)» ‏‏‏‏ (واصل الرقاشی اور أبو سورہ دونوں ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات وشواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، کما تقدم)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں