🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
41. بَابُ : فَسْخِ الْحَجِّ
باب: حج کا احرام فسخ کر کے اس کو عمرہ میں تبدیل کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2981
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ لَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ، حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا وَدَنَوْنَا، أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يَحِلَّ، فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ، دُخِلَ عَلَيْنَا بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقِيلَ: ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ، وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ذی قعدہ کے پانچ دن باقی تھے تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، جب ہم مکہ پہنچے یا اس سے قریب ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو جن لوگوں کے پاس ہدی (قربانی) کا جانور نہیں تھا احرام کھول دینے کا حکم دیا، تو سارے لوگوں نے احرام کھول دیا، سوائے ان لوگوں کے جن کے پاس ہدی (قربانی) کے جانور تھے، پھر جب نحر کا دن (ذی الحجہ کا دسواں دن) ہوا تو ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا، لوگوں نے کہا: یہ گائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے ذبح کی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2981]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ذوالقعدہ کی پانچ راتیں باقی تھیں جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مدینے سے) روانہ ہوئے۔ ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا۔ قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو احرام کھولنے کا حکم دے دیا جن کے ساتھ قربانی کے جانور نہیں تھے۔ سب لوگوں نے احرام کھول دیا سوائے اس کے جس کے پاس قربانی تھی۔ جب قربانی کا دن آیا تو ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا اور بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے (گائے کی) قربانی کی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2981]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 34 (1561)، 115 (1709)، 124 (1720)، الجہاد 105 (2952)، صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، سنن النسائی/الحج 16 (2651)، 77 (2805، 2806)، (تحفة الأشراف: 17933)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج 23 (1781)، موطا امام مالک/الحج 58 (179)، مسند احمد (6/122، 266، 273) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3000
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ نُوَافِي هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهْلِلْ، فَلَوْلَا أَنِّي أَهْدَيْتُ، لَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ"، قَالَتْ: فَكَانَ مِنَ الْقَوْمِ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ، فَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَتْ: فَخَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ، فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ، وَأَنَا حَائِضٌ لَمْ أَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِي، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" دَعِي عُمْرَتَكِ، وَانْقُضِي رَأْسَكِ، وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ"، قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ، وَقَدْ قَضَى اللَّهُ حَجَّنَا أَرْسَلَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْدَفَنِي وَخَرَجَ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَأَحْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ فَقَضَى اللَّهُ حَجَّنَا وَعُمْرَتَنَا، وَلَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ هَدْيٌ وَلَا صَدَقَةٌ وَلَا صَوْمٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مدینہ سے) اس حال میں نکلے کہ ہم ذی الحجہ کے چاند کا استقبال کرنے والے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو عمرہ کا تلبیہ پکارنا چاہے، پکارے، اور اگر میں ہدی نہ لاتا تو میں بھی عمرہ کا تلبیہ پکارتا، تو لوگوں میں کچھ ایسے تھے جنہوں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، اور کچھ ایسے جنہوں نے حج کا، اور میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، ہم نکلے یہاں تک کہ مکہ آئے، اور اتفاق ایسا ہوا کہ عرفہ کا دن آ گیا، اور میں حیض سے تھی، عمرہ سے ابھی حلال نہیں ہوئی تھی، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا عمرہ چھوڑ دو، اور اپنا سر کھول لو، اور بالوں میں کنگھا کر لو، اور نئے سرے سے حج کا تلبیہ پکارو، چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا، پھر جب محصب کی رات (بارہویں ذی الحجہ کی رات) ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ہمارا حج پورا کرا دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو بھیجا، وہ مجھے اپنے پیچھے اونٹ پر بیٹھا کر تنعیم لے گئے، اور وہاں سے میں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا (اور آ کر اس عمرے کے قضاء کی جو حیض کی وجہ سے چھوٹ گیا تھا) اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمارے حج اور عمرہ دونوں کو پورا کرا دیا، ہم پر نہ «هدي» (قربانی) لازم ہوئی، نہ صدقہ دینا پڑا، اور نہ روزے رکھنے پڑے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3000]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم لوگ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مدینہ سے) روانہ ہوئے اور ذوالحجہ کا چاند چڑھنے ہی والا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو شخص عمرے کا احرام باندھنا چاہے باندھ لے۔ اگر میں قربانی نہ لایا ہوتا تو میں بھی «لَبَّيْكَ» میں حاضر ہوں عمرے کی نیت سے پکارتا۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تو لوگوں میں سے کسی نے عمرے کا احرام باندھا، اور کسی نے حج کا احرام باندھا۔ میں عمرے کا احرام باندھنے والوں میں شامل تھی۔ انہوں نے فرمایا: ہم لوگ روانہ ہوئے حتیٰ کہ مکہ شریف پہنچ گئے۔ ابھی میں حیض سے تھی کہ عرفہ کا دن آ پہنچا، اور میں نے ابھی عمرے کا احرام نہیں کھولا تھا۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صورت حال عرض کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا عمرہ رہنے دو، سر کے بال کھول کر کنگھی کر لو، اور حج کا احرام باندھ لو۔ انہوں نے فرمایا: میں نے ایسے ہی کیا۔ جب حصبہ کی رات آئی اور اللہ تعالیٰ نے ہمارا حج مکمل کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ وہ مجھے سواری پر اپنے پیچھے بٹھا کر تنعیم لے گئے۔ (اور میں نے وہاں سے احرام باندھ کر عمرہ کیا۔) چنانچہ میں نے عمرہ کر کے احرام کھول دیا۔ اس طرح اللہ نے ہمارا حج اور عمرہ دونوں پورے کر دیے اور اس میں نہ قربانی تھی، نہ صدقہ اور نہ روزے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3000]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العمرة 5 (1783)، صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، (تحفة الأشراف: 17048) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کیونکہ «هدي» حج تمتع کرنے والے پر واجب ہوتی ہے، اور عائشہ رضی اللہ عنہا کا حج حج افراد تھا کیونکہ حیض آ جانے کی وجہ سے انہیں عمرہ چھوڑ دینا پڑا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3075
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَجِّ عَلَى أَنْوَاعٍ ثَلَاثَةٍ: فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ مَعًا، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ مُفْرَدٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مُفْرَدَةٍ، فَمَنْ كَانَ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ مَعًا لَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَيْءٍ مِمَّا حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ مَنَاسِكَ الْحَجِّ، وَمَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا لَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَيْءٍ مِمَّا حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ مَنَاسِكَ الْحَجِّ، وَمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مُفْرَدَةٍ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ حَلَّ مَا حَرُمَ منْهُ حَتَّى يَسْتَقْبِلَ حَجًّا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے تین صورتوں میں نکلے، ہم میں تین قسم کے لوگ تھے، کچھ لوگوں نے آپ کے ساتھ حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارا، اور کچھ لوگوں نے حج افراد کا، اور کچھ لوگوں نے صرف عمرہ کا، جنہوں نے حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ ایک ساتھ پکارا تھا (یعنی قران کیا تھا) وہ حج کے سارے مناسک پورے کر لینے کے بعد حلال ہوئے، اور جس نے حج افراد کا تلبیہ پکارا تھا اس کا بھی یہی حال رہا، وہ بھی اس وقت تک حلال نہیں ہوا جب تک حج کے سارے مناسک پورے نہ کر لیے، اور جس نے صرف عمرہ کا تلبیہ پکارا تھا وہ خانہ کعبہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر کے حلال ہو گیا، یہاں تک کہ (یوم الترویہ کو) نئے سرے سے حج کا احرام باندھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3075]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کے لیے تین قسم کے حج کی نیت سے روانہ ہوئے۔ کسی نے حج کی نیت سے احرام باندھا تھا، کسی نے صرف عمرے کی نیت سے لبیک کہا تھا۔ تو جس نے حج اور عمرے دونوں کی نیت سے احرام باندھا تھا، اس پر حج کے اعمال ادا کرنے تک کوئی (احرام کی وجہ سے) حرام ہونے والی چیز حلال نہ ہوئی۔ جس نے صرف حج کا احرام باندھا تھا، اس پر بھی حج کے اعمال ادا کر چکنے تک کوئی حرام ہونے والی چیز حلال نہ ہوئی۔ اور جس نے صرف عمرے کی نیت کی تھی، اس نے کعبہ کا طواف کیا، صفا و مروہ کی سعی کی، اور اس پر (احرام کی وجہ سے) حرام ہونے والی سب چیزیں (احرام کھولنے کی وجہ سے) حلال ہو گئیں حتی کہ وہ حج کے لیے احرام باندھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3075]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17684)، وقد أخرجہ: (6/141) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں