🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

41. بَابُ: فَسْخِ الْحَجِّ
باب: حج کا احرام فسخ کر کے اس کو عمرہ میں تبدیل کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2980
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَهْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا لَا نَخْلِطُهُ بِعُمْرَةٍ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ لِأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَلَمَّا طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَسَعَيْنَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً، وَأَنْ نَحِلَّ إِلَى النِّسَاءِ، فَقُلْنَا مَا بَيْنَنَا: لَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ فَنَخْرُجُ إِلَيْهَا، وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ مَنِيًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَأَبَرُّكُمْ وَأَصْدَقُكُمْ، وَلَوْلَا الْهَدْيُ، لَأَحْلَلْتُ"، فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ: أَمُتْعَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا، أَمْ لِأَبَدٍ، فَقَالَ:" لَا بَلْ لِأَبَدِ، الْأَبَدِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حج کا تلبیہ کہا (یعنی احرام باندھا)، اس میں عمرہ کو شریک نہیں کیا ۱؎، پھر ہم مکہ پہنچے تو ذی الحجہ کی چار راتیں گزر چکی تھیں، جب ہم نے خانہ کعبہ کا طواف کیا، اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو حکم دیا کہ ہم اسے عمرہ میں تبدیل کر دیں، اور اپنی بیویوں کے لیے حلال ہو جائیں، ہم نے عرض کیا: اب عرفہ میں صرف پانچ دن رہ گئے ہیں، اور کیا ہم عرفات کو اس حال میں نکلیں کہ شرمگاہوں سے منی ٹپک رہی ہو؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم میں سب سے زیادہ نیک اور سچا ہوں ۲؎، اگر میرے ساتھ ہدی (قربانی کا جانور) نہ ہوتا تو میں بھی (عمرہ کر کے) حلال ہو جاتا (یعنی احرام کھول ڈالتا اور حج کو عمرہ میں تبدیل کر دیتا)۔ سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے اس وقت عرض کیا: حج میں یہ تمتع ہمارے لیے صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ ہمیش کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، ہمیشہ ہمیش کے لیے ہے ۳؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2980]
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محض حج کی نیت سے (احرام باندھ کر) لبیک پکارا، ہمارا ارادہ اس کے ساتھ عمرہ ملانے کا نہ تھا، چنانچہ ہم ذوالحجہ کی چار راتیں گزرنے پر (چار تاریخ کو) مکہ پہنچے۔ جب ہم نے بیت اللہ کا طواف کر کے صفا و مروہ کی سعی کر لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس (طواف اور سعی) کو عمرہ بنا دیں اور (احرام کھول کر) عورتوں سے خلوت کریں۔ ہم نے آپس میں کہا: عرفہ جانے میں صرف پانچ راتیں باقی ہیں، تو کیا اس حال میں عرفہ جائیں گے کہ ہمارے مخصوص اعضاء سے منی کے قطرے ٹپک رہے ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم سب سے بڑھ کر نیک اور سچا ہوں، اگر (میرے ساتھ) قربانی کے جانور نہ ہوتے تو میں بھی احرام کھول دیتا۔ حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا یہ تمتع (کی اجازت) صرف اس سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2980]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/المناسک 23 (1787)، (تحفة الأشراف: 2426)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 17 (1216)، سنن النسائی/الحج 77 (2807) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی حج افراد کا احرام باندھا۔
۲؎: یعنی جو کہہ رہا ہوں کسی پس و پیش کے بغیر انجام دو، میری کوئی بات تقویٰ و پرہیز گاری کے منافی نہیں ہو سکتی۔
۳؎: ہر ایک شخص کے لیے قیامت تک تمتع کرنا جائز ہے، اس حدیث کے ظاہر سے یہ معلوم ہوا کہ اگر کوئی احرام باندھے لیکن ہدی کا جانور ساتھ نہ ہو تو وہ مکہ میں جا کر حج کی نیت فسخ کر سکتا ہے، اور عمرہ کر کے احرام کھول سکتا ہے، پھر یوم الترویہ یعنی ذی الحجہ کی ۸ تاریخ کو حج کے لئے نیا احرام باندھے، اور اس تاریخ (آٹھ) تک سب کام کر سکتا ہے جو احرام کی حالت میں جائز نہ تھے، امام ابن القیم اعلام الموقعین میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا دینے کا فتوی ٰ دیا، پھر فتویٰ دیا کہ یہ امر مستحب ہے ضرور اس کام کو کرنا چاہئے، اور یہ حکم کسی دوسرے حکم سے منسوخ نہیں ہوا، اور دین اللہ تعالیٰ کا ہے، بلکہ ہم کہتے ہیں کہ حج کو فسخ کر ڈالنا اور عمرہ کر دینا اگر کوئی ان احادیث کی روسے واجب کہے تو اس کا قول قوی ہو گا، بہ نسبت اس شخص کے قول کے جو اس سے منع کرتا ہے ... الی آخرہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2981
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ لَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ، حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا وَدَنَوْنَا، أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يَحِلَّ، فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ، دُخِلَ عَلَيْنَا بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقِيلَ: ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ، وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ذی قعدہ کے پانچ دن باقی تھے تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، جب ہم مکہ پہنچے یا اس سے قریب ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو جن لوگوں کے پاس ہدی (قربانی) کا جانور نہیں تھا احرام کھول دینے کا حکم دیا، تو سارے لوگوں نے احرام کھول دیا، سوائے ان لوگوں کے جن کے پاس ہدی (قربانی) کے جانور تھے، پھر جب نحر کا دن (ذی الحجہ کا دسواں دن) ہوا تو ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا، لوگوں نے کہا: یہ گائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے ذبح کی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2981]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ذوالقعدہ کی پانچ راتیں باقی تھیں جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مدینے سے) روانہ ہوئے۔ ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا۔ قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو احرام کھولنے کا حکم دے دیا جن کے ساتھ قربانی کے جانور نہیں تھے۔ سب لوگوں نے احرام کھول دیا سوائے اس کے جس کے پاس قربانی تھی۔ جب قربانی کا دن آیا تو ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا اور بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے (گائے کی) قربانی کی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2981]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 34 (1561)، 115 (1709)، 124 (1720)، الجہاد 105 (2952)، صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، سنن النسائی/الحج 16 (2651)، 77 (2805، 2806)، (تحفة الأشراف: 17933)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج 23 (1781)، موطا امام مالک/الحج 58 (179)، مسند احمد (6/122، 266، 273) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2982
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ فَأَحْرَمْنَا بِالْحَجِّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ، قَالَ:" اجْعَلُوا حِجَّتَكُمْ عُمْرَةً"، فَقَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ أَحْرَمْنَا بِالْحَجِّ، فَكَيْفَ نَجْعَلُهَا عُمْرَةً؟، قَالَ:" انْظُرُوا مَا آمُرُكُمْ بِهِ، فَافْعَلُوا"، فَرَدُّوا عَلَيْهِ الْقَوْلَ، فَغَضِبَ فَانْطَلَقَ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ غَضْبَانَ، فَرَأَتِ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَتْ: مَنْ أَغْضَبَكَ، أَغْضَبَهُ اللَّهُ؟، قَالَ:" وَمَا لِي لَا أَغْضَبُ، وَأَنَا آمُرُ أَمْرًا فَلَا أُتْبَعُ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نکلے، ہم نے حج کا احرام باندھا، جب ہم مکہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے حج کو عمرہ کر دو، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے حج کا احرام باندھا ہے ہم اس کو عمرہ کیسے کر لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو جس کا میں تم کو حکم دیتا ہوں اس پر عمل کرو، لوگوں نے پھر وہی بات دہرائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو کر چل دئیے اور غصہ کی ہی حالت میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، انہوں نے آپ کے چہرے پر غصہ کے آثار دیکھے تو بولیں: کس نے آپ کو ناراض کیا ہے؟ اللہ اسے ناراض کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کیوں کر غصہ نہ کروں جب کہ میں ایک کام کا حکم دیتا ہوں اور میری بات نہیں مانی جاتی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2982]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم باہر ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے حج کا احرام باندھا تھا، جب ہم مکہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے حج کو عمرہ بنا دو۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے حج کا احرام باندھا ہے، اسے عمرہ کس طرح بنائیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو! میں تمہیں جو حکم دیتا ہوں اس پر عمل کرو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے دوبارہ وہی بات عرض کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو کر چل دیے، آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے تو (ابھی تک) غصے کی حالت میں تھے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ اقدس پر ناراضی کے آثار دیکھے تو عرض کیا: آپ کو کس نے ناراض کیا؟ اللہ اسے غصے میں مبتلا کر دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کیوں ناراض نہ ہوں؟ میں ایک حکم دیتا ہوں اور میرے حکم کی تعمیل نہیں کی جاتی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2982]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1907، ومصباح الزجاجة: 1046)، وقد أخرجہ: (4/286) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ابو بکر بن عیاش بڑھاپے کی وجہ سے سئی الحفظ (حافظہ کے کمزور) ہو گئے تھے، اور ابو اسحاق اختلاط کا شکار تھے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 4753)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو سن کر اس پر عمل کرنے میں صرف اس خیال سے دیر کرے کہ یہ حدیث اس کے ملک کے رسم و رواج کے خلاف ہے، یا اس کے ملک یا قوم کے یا مذہب کے عالموں اور درویشوں یا اگلے بزرگوں نے اس پرعمل نہیں کیا، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ دلاتا اور آپ کو ناراض کرتا ہے، اور جو اللہ تعالی کے رسول کو غصہ دلائے اور اس کو ناراض کرے اس کا ٹھکانا کہیں نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: مومن کا کام یہ ہے کہ اس کو سنتے ہی جان و دل سے قبول کرے، اور فوراً اس پر عمل کرے، اگر چہ تمام جہاں کے مولوی، ملا، درویش، پیر، مرشد، عالم اور مجتہد اس کے خلاف ہوں، اور یہ بھی ضروری ہے کہ اس پر عمل کرنے میں دل نہایت خوش اور ہشاش بشاش ہو اور ذرا بھی کدورت اورتنگی نہ ہو بلکہ اپنے کو بڑا خوش قسمت سمجھے کہ اس کو حدیث رسول پر عمل کرنے کی توفیق ہوئی۔ اگر ایسا نہ کرے یعنی عمل ہی نہ کرے یا عمل تو کرے مگر ذرا لیت ولعل یا اداسی کے ساتھ اس خیال سے کہ درویش اور مولوی اس کے خلاف ہیں، آخر ان لوگوں کا بھی کچھ درجہ اور مقام ہے، اور کچھ سمجھ کر ہی ان لوگوں نے حدیث کے خلاف کیا ہو گا؟ تو جان لینا چاہئے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ناراض ہیں، اور ان کا کوئی ٹھکانہ نہیں جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ناراض ہو گئے اور بالفرض سارے زمانے کے مولوی یا درویش ہم سے خوش بھی ہوئے تو ہم ان کی خوشی کو کیا کریں گے، وہ خوش ہوں یا ناخوش ہوں ہمارے آقا، ہمارے مولیٰ ہمارے رسول ہم سے خوش رہیں تو ہمارا بیڑا پار ہے، یااللہ مرتے ہی ہمیں ہمارے رسول اور آل و اصحاب رسول سے ملا دے، ہم دنیا میں بھی ان ہی کے پیرو تھے، عالم برزخ اور آخرت میں بھی ان ہی کی جوتیوں کے پاس رہنا چاہتے ہیں، نہ دنیا میں ہم کو کسی سے مطلب تھا، نہ عقبیٰ (آخرت) میں ہمیں کسی اور کا ساتھ چاہئے۔ اگرجنت میں جانے کا ارادہ ہے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کا پٹہ گردن میں پہن لو۔ مسلک سنت پہ سالک تو چلا چل بے ڈھرک جنت الفردوس کو سیدھی گئی ہے یہ سڑک۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 484

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2983
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمِينَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُقِمْ عَلَى إِحْرَامِهِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ"، قَالَتْ: فَلَمْ يَكُنْ مَعِي هَدْيٌ فَأَحْلَلْتُ، وَكَانَ مَعَ الزُّبَيْرِ هَدْيٌ فَلَمْ يَحِلَّ، فَلَبِسْتُ ثِيَابِي، وَجِئْتُ إِلَى الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: قُومِي عَنِّي، فَقُلْتُ: أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ.
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام باندھ کر نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے ساتھ ہدی (قربانی کا جانور) ہو، وہ اپنے احرام پر قائم رہے، اور جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ احرام کھول کر حلال ہو جائے اور میرے ساتھ ہدی کا جانور نہیں تھا چنانچہ میں نے احرام کھول دیا، اور زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہدی کا جانور تھا تو انہوں نے احرام نہیں کھولا، میں نے اپنا کپڑا پہن لیا، اور زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی تو انہوں نے کہا: میرے پاس سے چلی جاؤ، میں نے کہا: کیا آپ ڈرتے ہیں کہ میں آپ پر کود پڑوں گی؟۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2983]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے بیان فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام باندھ کر روانہ ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس قربانی کا جانور ہے وہ احرام باندھے رہے اور جس کے پاس قربانی کا جانور نہیں وہ حلال ہو جائے (احرام کھول دے)۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا: میرے ساتھ قربانی کا جانور نہیں تھا اس لیے میں نے احرام کھول دیا اور (میرے شوہر) حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس قربانی کا جانور تھا اس لیے انہوں نے احرام نہ کھولا۔ میں نے اپنے (عام) کپڑے پہن لیے اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس چلی گئی۔ انہوں نے کہا: میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔ میں نے کہا: کیا آپ کو یہ خطرہ ہے کہ میں آپ پر کود پڑوں گی؟ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2983]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 29 (1236)، سنن النسائی/الحج 186 (2995)، (تحفة الأشراف: 15739)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/351) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں