سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. باب : الصفرة للرجال
باب: مردوں کے لیے زرد (پیلے) لباس کا بیان۔
حدیث نمبر: 3604
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ , عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ , قَالَ:" أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَوَضَعْنَا لَهُ مَاءً يَتَبَرَّدُ بِهِ فَاغْتَسَلَ , ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِمِلْحَفَةٍ صَفْرَاءَ , فَرَأَيْتُ أَثَرَ الْوَرْسِ عَلَى عُكَنِهِ".
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو ہم نے آپ کے لیے پانی رکھا تاکہ آپ اس سے ٹھنڈے ہوں، آپ نے اس سے غسل فرمایا، پھر میں آپ کے پاس ایک پیلی چادر لے کر آیا، (اس کو آپ نے پہنا) تو میں نے آپ کے پیٹ کی سلوٹوں پر ورس کا نشان دیکھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3604]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «(یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 466)، (تحفة الأشراف: 11095) (ضعیف)» (سند میں محمد بن شر حبیل مجہول، اور محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: ایک پیلا، خوشبودار پودا ہے جو یمن میں پایا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
انظر الحديث السابق (466)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 507
ضعيف
انظر الحديث السابق (466)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 507
حدیث نمبر: 466
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ:" أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْنَا لَهُ مَاءً فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ أَتَيْنَاهُ بِمِلْحَفَةٍ وَرْسِيَّةٍ فَاشْتَمَلَ بِهَا، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ الْوَرْسِ عَلَى عُكَنِهِ".
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ہم نے آپ کے لیے غسل کا پانی رکھا، آپ نے غسل کیا، پھر ہم آپ کے پاس ورس میں رنگی ہوئی ایک چادر لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لپیٹ لیا۔ قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس چادر کی وجہ سے آپ کے پیٹ کی سلوٹوں میں ورس کے جو نشانات پڑ گئے تھے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 466]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11095)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/7) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 3604) (ضعیف)» (اس کی سند میں محمد بن عبدالرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف اور محمد بن شرجیل مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
وانظر الحديث الآتي (3604)
محمد بن شرحبيل: مجهول (تقريب: 5956) ومحمد ابن أبي ليلي: ضعيف
وللحديث شواهد ضعيفة عند الطبراني في الأوسط (679) وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 394
إسناده ضعيف
وانظر الحديث الآتي (3604)
محمد بن شرحبيل: مجهول (تقريب: 5956) ومحمد ابن أبي ليلي: ضعيف
وللحديث شواهد ضعيفة عند الطبراني في الأوسط (679) وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 394