سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
44. باب : المبالغة في الاستنشاق والاستنثار
باب: ناک میں پانی چڑھانے اور ناک جھاڑنے میں مبالغہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 409
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، وَدَاوُدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص وضو کرے تو اچھی طرح ناک میں پانی چڑھا کر جھاڑے، اور جب استنجاء کرے تو طاق ڈھیلے استعمال کرے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 409]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص وضو کرے، اسے چاہیے کہ ناک جھاڑے اور جو (استنجا کے لیے) ڈھیلے استعمال کرے، اسے چاہیے کہ طاق تعداد میں استعمال کرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 409]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 25 (161)، صحیح مسلم/الطہارة 8 (237)، سنن النسائی/الطہارة 72 (88)، (تحفة الأشراف: 13547)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہار ة 1 (3)، مسند احمد (2/236، 277، 401)، سنن الدارمی/الطہارة 32 (730) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 406
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا تَوَضَّأْتَ فَانْثُرْ، وَإِذَا اسْتَجْمَرْتَ فَأَوْتِرْ".
سلمہ بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تم وضو کرو تو ناک جھاڑو، اور جب استنجاء کرو تو طاق ڈھیلے استعمال کرو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 406]
حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تو وضو کرے تو ناک صاف کیا کر اور جب (قضائے حاجت کے بعد) ڈھیلے استعمال کرے تو طاق تعداد میں استعمال کر۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 406]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطہارة 21 (27)، سنن النسائی/الطہارة 39 (43)، 72 (89)، (تحفة الأشراف: 4556)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/313، 339) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح