🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب : ما يقال إذا أذن المؤذن
باب: مؤذن کی اذان کے جواب میں کیا کہا جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 722
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ الْأَلْهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ: اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ، إِلَّا حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اذان سن کر یہ دعا پڑھی:   «اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته» اے اللہ! اس مکمل پکار اور قائم ہونے والی نماز کے مالک، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ ۱؎ اور فضیلت ۲؎ عطا فرما، آپ کو اس مقام محمود ۳؎ تک پہنچا جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے تو اس کے لیے قیامت کے دن شفاعت حلال ہو گئی ۴؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأذان والسنة فيه/حدیث: 722]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 8 (614)، تفسیر الإسراء 11 (4719)، سنن ابی داود/الصلاة 38 (529)، سنن الترمذی/الصلاة 43 (211)، سنن النسائی/الأذان 38 (681)، (تحفة الأشراف: 3046)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/354) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اذان سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ و سلام (درود) پڑھنا، اور پھر یہ دعا پڑھنا جیسا کہ صحیح روایات میں وارد ہے باعث اجر و ثواب ہے، اس کے برخلاف اذان سے پہلے اور بعد میں جو کلمات ایجاد کر لئے گئے ہیں، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح مخالفت ہے، جو شفاعت رسول سے محرومی کا باعث ہو سکتی ہے،  «أعاذنا الله منها» ۔ ۲؎: «وسیلہ» کے معنی قرب کے اور اس طریقے کے ہیں جس سے انسان اپنے مقصود تک پہنچ جاتا ہو، یہاں مراد جنت کا وہ درجہ ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا جائے گا۔ ۳؎: «فضیلۃ» : یہ بھی ایک اعلیٰ مرتبہ ہے، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خصوصیت کے ساتھ تمام مخلوقات پر حاصل ہو گا نیز یہ بھی احتمال ہے کہ یہ «وسیلہ» کی تفسیر ہو۔ ۴؎: «مقام محمود» : یہ وہ مقام ہے، جو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائے گا، اور اس جگہ آپ شفاعت عظمیٰ فرمائیں گے، جس کے بعد لوگوں کا حساب و کتاب ہوگا۔ «الذی وعدتہ» : یہ وعدہ آیت کریمہ «عسى أن يبعثك ربك مقاما محمودا» «عسى أن يبعثك ربك مقاما محمودا» (سورة الإسراء: 79) میں کیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 721
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ: وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے مؤذن کی اذان سن کر یہ دعا پڑھی: «وأنا أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی حقیقی معبود نہیں، وہ تن تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، میں اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے سے راضی ہوں تو اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأذان والسنة فيه/حدیث: 721]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 7 (386)، سنن ابی داود/الصلاة 36 (525)، سنن الترمذی/الصلاة 42 (210)، سنن النسائی/الأذان 38 (680)، (تحفة الأشراف: 3877)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/181) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی صغیرہ گناہ اور کیا عجب ہے کہ اللہ جل جلالہ کبائر بخش دے، کیونکہ وہ أرحم الراحمین ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں