🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب : المساجد في الدور
باب: گھروں میں مساجد بنانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 755
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ الْمُقْرِي ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ،" أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ أَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعَالَ فَخُطَّ لِي مَسْجِدًا فِي دَارِي أُصَلِّي فِيهِ، وَذَلِكَ بَعْدَ مَا عَمِيَ، فَجَاءَ فَفَعَلَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ انصار کے ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خبر بھیجی کہ آپ تشریف لائیں اور میرے گھر میں مسجد کے لیے حد بندی کر دیں تاکہ میں اس میں نماز پڑھا کروں، اور یہ اس لیے کہ وہ صحابی نابینا ہو گئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور ان کی مراد پوری کر دی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 755]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ میرے گھر تشریف لا کر میرے لیے گھر میں ایک مسجد (نماز کی جگہ) مقرر کر دیجئے جہاں میں نماز پڑھا کروں۔ اس وقت وہ صحابی نابینا ہو چکے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اس صحابی کی فرمائش پوری کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 755]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12814، ومصباح الزجاجة: 283) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: انصاری آدمی سے مراد صحابی رسول عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں، جیسا کہ صحیحین میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 754
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ ، وَكَانَ قَدْ عَقَلَ مَجَّةً مَجَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ دَلْوٍ فِي بِئْرٍ لَهُمْ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ السَّالِمِيِّ ، وَكَانَ إِمَامَ قَوْمِهِ بَنِي سَالِمٍ، وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ مِنْ بَصَرِي وَإِنَّ السَّيْلَ يَأْتِي فَيَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ مَسْجِدِ قَوْمِي، وَيَشُقُّ عَلَيَّ اجْتِيَازُهُ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَأْتِيَنِي فَتُصَلِّيَ فِي بَيْتِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى فَافْعَلْ، قَالَ:" أَفْعَلُ"، فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ بَعْدَ مَا اشْتَدَّ النَّهَارُ، وَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنْتُ لَهُ، وَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى قَالَ:" أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ لَكَ مِنْ بَيْتِكَ؟" فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ فِيهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ احْتَبَسْتُهُ عَلَى خَزِيرَةٍ تُصْنَعُ لَهُمْ.
محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور ان کو وہ کلی یاد تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈول سے لے کر ان کے کنویں میں کر دی تھی، انہوں نے عتبان بن مالک سالمی رضی اللہ عنہ سے روایت کی (جو اپنی قوم بنی سالم کے امام تھے اور غزوہ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے تھے) وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میری نظر کمزور ہو گئی ہے، جب سیلاب آتا ہے تو وہ میرے اور میری قوم کی مسجد کے درمیان حائل ہو جاتا ہے، اسے پار کرنا میرے لیے دشوار ہوتا ہے، اگر آپ مناسب سمجھیں تو میرے گھر تشریف لائیں اور گھر کے کسی حصے میں نماز پڑھ دیں، تاکہ میں اس کو اپنے لیے مصلیٰ (نماز کی جگہ) بنا لوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، میں ایسا کروں گا، اگلے روز جب دن خوب چڑھ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، اور اندر آنے کی اجازت طلب کی، میں نے اجازت دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی بیٹھے بھی نہ تھے کہ فرمایا: تم اپنے گھر کے کس حصہ کو پسند کرتے ہو کہ میں تمہارے لیے وہاں نماز پڑھ دوں؟، میں جہاں نماز پڑھنا چاہتا تھا ادھر میں نے اشارہ کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، ہم نے آپ کے پیچھے صف بندی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، پھر میں نے آپ کو خزیرہ (حلیم) ۱؎ تناول کرنے کے لیے روک لیا جو ان لوگوں کے لیے تیار کیا جا رہا تھا ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 754]
حضرت محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، یہ وہ صحابی ہیں جن کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈول سے پانی لے کر ان کے کنویں میں کلی فرمائی تھی، انہوں نے حضرت عتبان بن مالک سالمی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، جو اپنے قبیلے بنو سالم (کی مسجد میں ان) کے امام تھے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جنگ بدر میں بھی شرکت فرمائی تھی۔ انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری نظر کمزور ہو گئی ہے، اور سیلاب آتا ہے تو میں اپنے قبیلے کی مسجد تک نہیں پہنچ سکتا۔ وہاں سے گزرنا میرے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو میرے ہاں تشریف لا کر میرے گھر میں ایک جگہ نماز ادا فرمائیں، اور میں وہاں نماز پڑھا کروں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اچھا) میں آؤں گا۔ جب دن کافی چڑھ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اندر آنے کی) اجازت طلب فرمائی، میں نے اجازت دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے نہیں، پہلے فرمایا: تم اپنے گھر میں کس جگہ چاہتے ہو کہ میں وہاں نماز پڑھوں؟ میں نے اس جگہ کی طرف اشارہ کر دیا جہاں میں نماز پڑھنا چاہتا تھا (اور وہ جگہ اس مقصد کے لیے مخصوص کی تھی۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے۔ ہم نے آپ کے پیچھے صف بنا لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھا دی۔ پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا کھلانے کے لیے روک لیا جو ابھی تیار ہو رہا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 754]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 45 (224)، 46 (225)، الأذان 40 (667)، 50 (686)، 154 (839)، التہجد 36 (1185)، الأطعمة 15 (5201)، صحیح مسلم/المساجد 47 (33)، سنن النسائی/الإمامة 10 (789)، 46 (845)، السھو 73 (1328)، (تحفة الأشراف: 9750، 11235)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ قصر الصلاة 24 (86)، مسند احمد (4/44، 5/449) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: خزیرہ: یہ ایک قسم کا کھانا ہے جو گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کاٹ کر آٹا ڈال کر پکایا جاتا ہے، موجودہ دور میں یہ حلیم کے نام سے مشہور ہے۔ ۲؎: اس حدیث سے بہت سی باتیں نکلتی ہیں، گھر میں مسجد بنانا، چاشت کی نماز جماعت ادا کرنا، نابینا کے لئے جماعت سے معافی، غیر کے گھر میں جانے سے پہلے اجازت لینا، نفل نماز جماعت سے جائز ہونا وغیرہ وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں