سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب : المشي إلى الصلاة
باب: نماز کے لیے چل کر مسجد جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 774
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ، لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ، لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً، حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَتِ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر مسجد آئے، اور نماز ہی اس کے گھر سے نکلنے کا سبب ہو، اور وہ نماز کے علاوہ کوئی اور ارادہ نہ رکھتا ہو، تو ہر قدم پہ اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ مٹاتا ہے، یہاں تک کہ مسجد میں داخل ہو جائے، پھر مسجد میں داخل ہو گیا تو جب تک نماز اسے روکے رکھے نماز ہی میں رہتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 774]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص وضو کرتا ہے، اور وضو بھی خوب سنوار کر کرتا ہے، پھر مسجد کی طرف آتا ہے، تو صرف نماز کے لیے (گھر سے) نکلتا ہے، نماز کے سوا اور کوئی مقصد نہیں ہوتا، تو وہ جو قدم بھی اٹھاتا ہے، اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند فرماتا ہے، اور ایک گناہ معاف کرتا ہے (اس کو اسی طرح ثواب ملتا رہتا ہے) حتی کہ وہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے، پھر جب وہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے تو جب تک وہ نماز کی وجہ سے رکا رہتا ہے (ثواب کے لحاظ سے) نماز ہی میں (شمار) ہوتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 774]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12552) (الف)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 30 (647)، سنن ابی داود/الصلاة 49 (559)، سنن الترمذی/الجمعة 70 (330)، مسند احمد (2/176) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 281
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ، لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جب کوئی وضو کرتا ہے، اور اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر مسجد آتا ہے، اور اس کے گھر سے نکلنے کا سبب صرف نماز ہی ہوتی ہے، تو اس کے ہر قدم کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند کرتا اور ایک گناہ مٹاتا ہے، یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہو جائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 281]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص جب وضو کرتا ہے اور اچھی طرح (خوب سنوار کر) وضو کرتا ہے، پھر مسجد میں آتا ہے، اسے نماز کے علاوہ کوئی اور مقصد گھر سے نہیں نکالتا، (ایسا شخص) جو قدم بھی اٹھاتا ہے، اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند فرماتا ہے اور ایک گناہ معاف کرتا ہے (اسے مسلسل یہ ثواب ملتا رہتا ہے) حتی کہ وہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 281]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12552 (ألف)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ الصلاة 87 (477)، سنن ابی داود/الصلاة 52 (564)، مسند احمد (2/252، 475)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 774) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح