🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. بَابٌ في الْقَدَرِ
باب: قضا و قدر (تقدیر) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 89
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَى ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي جَارِيَةً أَعْزِلُ عَنْهَا؟ قَالَ:" سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا"، فَأَتَاهُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: قَدْ حَمَلَتِ الْجَارِيَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا قُدِّرَ لِنَفْسٍ شَيْءٌ إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: انصار کا ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک لونڈی ہے میں اس سے عزل کرتا ہوں ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اس کے مقدر میں ہو گا وہ اس کے پاس آ کر رہے گا، کچھ دنوں کے بعد وہ آدمی حاضر ہوا اور کہا: لونڈی حاملہ ہو گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی تقدیر میں جو ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 89]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری صحابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ایک لونڈی ہے، کیا میں اس سے عزل کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اس کی قسمت میں ہے وہ اسے مل ہی جائے گا۔ بعد میں وہ صحابی دوبارہ حاضر ہوئے اور عرض کیا: لونڈی امید سے ہو گئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ کسی کی قسمت میں ہوتا ہے، وہ ہو کے رہتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 89]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2249، ومصباح الزجاجة: 33)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/النکاح 22 (1439)، سنن ابی داود/النکاح 49 (2173)، مسند احمد (3/313، 388) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: عضو تناسل کو عورت کی شرمگاہ سے باہر نکال کر منی گرانے کا نام عزل ہے۔ ۲؎: اس سے بھی معلوم ہوا کہ لڑکا اور لڑکی کی پیدائش اللہ کی تقدیر سے ہوتی ہے، کسی پیر و فقیر اور ولی و مرشد کی نذر و نیاز اور منت ماننے سے نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1926
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ؟، فَقَالَ:" أَوَ تَفْعَلُونَ لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا، فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَسَمَةٍ قَضَى اللَّهُ لَهَا، أَنْ تَكُونَ إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ".
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ ایسا کرتے ہو؟ ایسا نہ کرنے میں تمہیں کوئی نقصان نہیں ہے، اس لیے کہ جس جان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا ہونا مقدر کیا ہے وہ ضرور پیدا ہو گی۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 1926]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ کام کرتے ہو؟ اگر نہ کرو تو کوئی حرج نہیں، جس روح کو پیدا کرنے کا اللہ نے فیصلہ کر لیا ہے، وہ ہو کر رہے گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 1926]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4141)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 109 (2229)، العتق 13 (2542)، المغازي 32 (4138)، النکاح 96 (5210)، القدر 6 (6603)، التوحید 18 (7409)، صحیح مسلم/النکاح 22 (1438)، سنن ابی داود/النکاح 49 (2170)، سنن الترمذی/النکاح 40 (1138)، سنن النسائی/النکاح 55 (3329)، موطا امام مالک/الطلاق 34 (95)، مسند احمد (2/22، 26، 47، 49، 51، 53، 59، 68، 72، 78، 88، 93)، سنن الدارمی/النکاح 36 (226) (صحیح) 192
وضاحت: ۱؎: عزل: شرمگاہ سے باہر منی نکالنے کو عزل کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1927
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عزل کیا کرتے تھے، اور قرآن اترا کرتا تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 1927]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم لوگ عزل کر لیا کرتے تھے جب کہ قرآن نازل ہو رہا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 1927]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/النکاح 96 (5208)، صحیح مسلم/النکاح 22 (1440)، سنن الترمذی/النکاح 38 (1137)، (تحفة الأشراف: 2468) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی اگر عزل منع ہوتا تو اللہ تعالی اس کی ممانعت نازل کر دیتا، البتہ لونڈی سے اس کی اجازت کے بغیر بھی عزل درست ہے، اہل حدیث کا مذہب یہ ہے کہ عزل مکروہ ہے، لیکن حرام نہیں ہے، اور بہت صحابہ اور تابعین سے اس کی اجازت منقول ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں