سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. باب : السجود على الأنف
باب: ناک پر سجدہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1097
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ لَا أَكُفَّ الشَّعْرَ وَلَا الثِّيَابَ الْجَبْهَةِ وَالْأَنْفِ وَالْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سات اعضاء: پیشانی اور ناک، دونوں ہتھیلی، دونوں گھٹنے، اور دونوں پیر پر سجدہ کروں، اور بال اور کپڑے نہ سمیٹوں“۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1097]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات اعضاء پر سجدہ کروں اور میں بال اور کپڑے نہ سمیٹوں۔ (سات اعضاء یہ ہیں: ماتھا اور ناک، دو ہاتھ، دو گھٹنے اور دو قدم)۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1097]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 134 (812)، صحیح مسلم/الصلاة 44 (490)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 19 (884)، (تحفة الأشراف: 5708)، مسند احمد 1/222، 292، 305، سنن الدارمی/الصلاة 73 (1358)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 1098، 1099 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1094
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال:" أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْضَاءٍ وَلَا يَكُفَّ شَعْرَهُ وَلَا ثِيَابَهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ آپ سات اعضاء ۱؎ پر سجدہ کریں، اور اپنے بال اور کپڑے نہ سمیٹیں ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1094]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ سات اعضاء پر سجدہ کریں اور نماز کے دوران میں اپنے بالوں اور کپڑوں کو اکٹھا نہ کریں۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1094]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 133 (809، 810)، 137 (815)، 138 (816)، صحیح مسلم/الصلاة 44 (490)، سنن ابی داود/الصلاة 155 (889، 890)، سنن الترمذی/الصلاة 88 (273)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 19 (883)، 67 (1040)، (تحفة الأشراف: 5734)، مسند احمد 1/221، 222، 255، 270، 279، 280، 285، 286، 290، 305، 324، سنن الدارمی/الصلاة 73 (1357)، وأعادہ المؤلف بأرقام: 1114، 1116 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سات اعضاء سے مراد پیشانی ناک کے ساتھ، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں ہیں، جیسا کہ اگلی حدیث میں اس کی تفسیر آ رہی ہے۔ ۲؎: بالوں کو سمیٹنا یہ ہے کہ سب کو اکٹھا کر کے جوڑا باندھ لے، یا دستار میں رکھ لے، اور کپڑوں کا سمیٹنا یہ ہے کہ سجدے یا رکوع میں جاتے وقت کپڑوں کو اس خیال سے سمیٹے کہ کپڑوں میں گرد نہ لگے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1095
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا بَكْرٌ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا سَجَدَ الْعَبْدُ سَجَدَ مِنْهُ سَبْعَةُ آرَابٍ وَجْهُهُ وَكَفَّاهُ وَرُكْبَتَاهُ وَقَدَمَاهُ".
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتوں اعضاء: اس کا چہرہ، اس کے دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے، اور دونوں پیر بھی سجدہ کرتے ہیں“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1095]
حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جب انسان سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات اعضاء سجدہ کرتے ہیں: اس کا چہرہ، اس کی دو ہتھیلیاں، اس کے دو گھٹنے اور اس کے دو پاؤں۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1095]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 44 (491)، سنن ابی داود/الصلاة 155 (891)، سنن الترمذی/الصلاة 88 (272)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 19 (885)، (تحفة الأشراف: 5126)، مسند احمد 1/206، 208، ویأتی عند المؤلف في باب 46 (برقم: 1100) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ناک چہرہ کا ایک جزء ہے اس لیے پیشانی اور ناک دونوں سے سجدہ کرنا ضروری ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1098
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ النَّسَائِيُّ، قال: حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قال: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ عَلَى الْجَبْهَةِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ عَلَى الْأَنْفِ وَالْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے: پیشانی پر، اور آپ نے اپنے ہاتھ سے ناک پر کا اشارہ کیا، اور دونوں ہتھیلیوں، دونوں گھٹنے، اور دونوں پیر کے کناروں یعنی انگلیوں پر۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1098]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات اعضاء پر سجدہ کروں: ماتھے پر“ اور (یہ کہتے ہوئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ناک کی طرف اشارہ کیا ”دونوں ہاتھوں پر، دونوں گھٹنوں پر اور دونوں پاؤں کے اطراف پر۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1098]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1097، (تحفة الأشراف: 5708) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1099
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَكِّيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ وَنُهِيَ أَنْ يَكْفِتَ الشَّعْرَ وَالثِّيَابَ عَلَى يَدَيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ" قَالَ سُفْيَانُ، قَالَ لَنَا ابْنُ طَاوُسٍ" وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى جَبْهَتِهِ وَأَمَرَّهَا عَلَى أَنْفِهِ" قَالَ هَذَا وَاحِدٌ وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا، اور بالوں اور کپڑوں کو سمیٹنے سے روکا گیا: اپنی دونوں ہتھیلیوں، دونوں گھٹنے اور انگلیوں کے سروں پر۔ سفیان کہتے ہیں: ابن طاؤس نے اپنے دونوں ہاتھ پیشانی پر رکھے، اور انہیں اپنی ناک پر گزارا، اور کہا: یہ سب ایک ہے۔ امام نسائی کہتے ہیں: یہ الفاظ محمد بن منصور کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1099]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ آپ سات اعضاء پر سجدہ کریں ……… اور آپ کو بال اور کپڑے سمیٹنے سے روکا گیا ……… ”دونوں ہاتھوں پر، دونوں گھٹنوں پر اور دونوں پاؤں کی انگلیوں کے کناروں پر۔“ (حدیث کے راوی) سفیان نے کہا: ابن طاؤس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھے اور انھیں ناک پر سے گزارا اور فرمایا: ”یہ ایک عضو ہے۔“ (امام نسائی رحمہ اللہ نے فرمایا) یہ (امام نسائی رحمہ اللہ نے فرمایا) لفظ (میرے استاذ) محمد بن منصور کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1099]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1097، (تحفة الأشراف: 5708) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1100
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا سَجَدَ الْعَبْدُ سَجَدَ مَعَهُ سَبْعَةُ آرَابٍ وَجْهُهُ وَكَفَّاهُ وَرُكْبَتَاهُ وَقَدَمَاهُ".
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ اس کے ساتوں اعضاء یعنی اس کا چہرہ، دونوں ہتھیلی، دونوں گھٹنے اور دونوں پیر سجدہ کرتے ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1100]
حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات اعضاء سجدہ کرتے ہیں: اس کا چہرہ، اس کے دونوں ہاتھ (ہتھیلیاں)، اس کے دونوں گھٹنے اور اس کے دونوں قدم۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1100]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1095، (تحفة الأشراف: 5126) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1114
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَصْرِيُّ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَرَوْحٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ وَلَا أَكُفَّ شَعْرًا وَلَا ثَوْبًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات اعضاء پر سجدہ کروں، اور بال اور کپڑے نہ سمیٹوں“۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1114]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات اعضاء پر سجدہ کروں اور (سجدے میں جاتے وقت) بال اور کپڑے نہ سمیٹوں۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1114]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1094، (تحفة الأشراف: 5734) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1116
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال:" أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ وَنُهِيَ أَنْ يَكُفَّ الشَّعْرَ وَالثِّيَابَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور بال اور کپڑے سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1116]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ ”سات اعضاء پر سجدہ کریں اور بال یا کپڑے اکٹھے کرنے (سمیٹنے) سے منع کیا گیا۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1116]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1094، (تحفة الأشراف: 5734) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح