🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
73. باب : تسليم المأموم حين يسلم الإمام
باب: امام کے سلام پھیرنے کے وقت مقتدی کے سلام پھیرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1328
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَ: سَمِعْتُ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ , يَقُولُ: كُنْتُ أُصَلِّي بِقَوْمِي بَنِي سَالِمٍ , فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي , وَإِنَّ السُّيُولَ تَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ مَسْجِدِ قَوْمِي , فَلَوَدِدْتُ أَنَّكَ جِئْتَ فَصَلَّيْتَ فِي بَيْتِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مَسْجِدًا , قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَأَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ" , فَغَدَا عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَعَهُ بَعْدَ مَا اشْتَدَّ النَّهَارُ , فَاسْتَأْذَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَذِنْتُ لَهُ فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى , قَالَ:" أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ" , فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أُحِبُّ أَنْ يُصَلِّيَ فِيهِ ," فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ، ثُمَّ سَلَّمَ وَسَلَّمْنَا حِينَ سَلَّمَ".
محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں اپنی قوم بنی سالم کو نماز پڑھایا کرتا تھا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے عرض کیا کہ میری آنکھیں کمزور ہو گئی ہیں، اور برسات میں میرے اور میری قوم کی مسجد کے درمیان سیلاب حائل ہو جاتا ہے، لہٰذا میری خواہش ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لاتے، اور کسی جگہ میں نماز پڑھ دیتے تو میں اس جگہ کو اپنے لیے مسجد بنا لیتا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا ان شاءاللہ عنقریب آؤں گا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوب دن چڑھ آنے کے بعد میرے پاس تشریف لائے، آپ کے ساتھ ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت مانگی، میں نے آپ کو اندر تشریف لانے کے لیے کہا، آپ بیٹھے بھی نہیں کہ آپ نے پوچھا: تم اپنے گھر کے کس حصہ میں چاہتے ہو کہ میں نماز پڑھوں؟ تو میں نے اس جگہ کی طرف اشارہ کیا جہاں میں چاہتا تھا کہ آپ اس میں نماز پڑھیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، اور ہم نے آپ کے پیچھے صف باندھی، پھر آپ نے سلام پھیرا، اور ہم نے بھی سلام پھیرا جس وقت آپ نے سلام پھیرا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1328]
حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنی قوم بنو سالم کو نماز پڑھایا کرتا تھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں تقریباً نابینا ہو چکا ہوں۔ (موسم برسات میں) بارشی اور سیلابی پانی میرے اور میری قوم کی مسجد کے درمیان رکاوٹ بن جاتا ہے، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ آپ تشریف لائیں اور میرے گھر میں کسی جگہ نماز ادا فرمائیں جسے میں (گھریلو) مسجد بنا لوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِنْ شَاءَ اللَّهُ» اگر اللہ نے چاہا میں عنقریب آؤں گا۔ اگلے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ دن کافی اونچا آ چکا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت طلب کی۔ میں نے اجازت دے دی۔ آپ بیٹھے نہیں بلکہ فرمایا: تم کس جگہ چاہتے ہو کہ میں نماز پڑھوں؟ میں نے اس جگہ کی طرف اشارہ کیا جہاں میں چاہتا تھا کہ آپ نماز پڑھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، ہم نے آپ کے پیچھے صف بندی کی، (آپ نے نماز ادا کی) پھر آپ نے سلام پھیرا اور آپ کے سلام پھیرتے ہی ہم نے بھی سلام پھیر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1328]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 789 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 789
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قال: حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح، قال: وَحَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يَؤُمُّ قَوْمَهُ وَهُوَ أَعْمَى وَأَنَّهُ قال لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهَا تَكُونُ الظُّلْمَةُ وَالْمَطَرُ وَالسَّيْلُ وَأَنَا رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ فَصَلِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي بَيْتِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ لَكَ" فَأَشَارَ إِلَى مَكَانٍ مِنَ الْبَيْتِ فَصَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمود بن ربیع سے روایت ہے کہ عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے قبیلہ کی امامت کرتے تھے اور وہ نابینا تھے، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: رات میں تاریکی ہوتی ہے اور کبھی بارش ہوتی ہے اور راستے پانی میں بھر جاتا ہے، اور میں آنکھوں کا اندھا آدمی ہوں، تو اللہ کے رسول! آپ میرے گھر میں کسی جگہ نماز پڑھ دیجئیے تاکہ میں اسے مصلیٰ بنا لوں! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، اور آپ نے پوچھا: تم کہاں نماز پڑھوانی چاہتے ہو؟ انہوں نے گھر میں ایک جگہ کی طرف اشارہ کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ میں نماز پڑھی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 789]
حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی امامت کراتے تھے اور وہ نابینا تھے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی: کبھی اندھیرا، بارش یا بارشی پانی ہوتا ہے اور میں نابینا شخص ہوں (ایسی حالت میں مسجد نہیں جا سکتا) لہٰذا آپ میرے گھر میں ایک جگہ نماز ادا فرمائیں جسے میں اپنی نماز کے لیے مقرر کر لوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: تم کہاں چاہتے ہو کہ میں نماز پڑھوں؟ تو انہوں نے گھر میں ایک جگہ کی طرف اشارہ کیا۔ وہاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 789]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 45 (424)، 46 (425) مطولاً، الأذان 40 (667)، 50 (686)، 154 (840)، التھجد 36 (1186) مطولاً، الأطعمة 15 (5401) مطولاً، صحیح مسلم/الإیمان 10 (33)، المساجد 47 (33)، سنن ابن ماجہ/المساجد 8 (754)، (تحفة الأشراف: 9750)، موطا امام مالک/السفر 24 (86)، مسند احمد 4/43، 44، 5/449، 450، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 845، 1328 مطولاً (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نابینا کی امامت بغیر کراہت جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 845
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودٍ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ السُّيُولَ لَتَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ مَسْجِدِ قَوْمِي فَأُحِبُّ أَنْ تَأْتِيَنِي فَتُصَلِّيَ فِي مَكَانٍ مِنْ بَيْتِي أَتَّخِذُهُ مَسْجِدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَنَفْعَلُ" فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَيْنَ تُرِيدُ فَأَشَرْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ" فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ.
عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے اور میرے قبیلہ کی مسجد کے درمیان (برسات میں) سیلاب حائل ہو جاتا ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے گھر تشریف لاتے، اور میرے گھر میں ایک جگہ نماز پڑھ دیتے جسے میں مصلیٰ بنا لیتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا ہم آئیں گے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے پوچھا: تم کہاں چاہتے ہو؟ تو میں نے گھر کے ایک گوشہ کی جانب اشارہ کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور ہم نے آپ کے پیچھے صف بندی کی، پھر آپ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 845]
حضرت عتبان بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری قوم کی مسجد اور میرے (گھر کے) درمیان بسا اوقات بارشی پانی حائل ہو جاتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے پاس تشریف لائیں اور میرے گھر میں کسی جگہ نماز پڑھیں جسے میں نماز کی جگہ بنا لوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم ایسے کریں گے۔ جب (اگلے دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو پوچھا: تم کس جگہ چاہتے ہو کہ میں نماز پڑھوں؟ میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے۔ ہم نے آپ کے پیچھے صفیں باندھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعتیں (نفل) پڑھائیں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 845]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 789 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے جماعت کے ساتھ نفل پڑھنے کا جواز ثابت ہوا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں