🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
108. باب : ثواب من توضأ كما أمر
باب: مسنون وضو کرنے والے کا ثواب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 145
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، قال: سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ، أَخْبَرَ أَبَا بُرْدَةَ فِي الْمَسْجِدِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ أَتَمَّ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَالصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ".
عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جس نے اللہ عزوجل کے حکم کے موافق وضو کو پورا کیا، پانچوں وقت کی نمازیں اس کے ان گناہوں کے لیے کفارہ ہوں گی جو ان کے درمیان سرزد ہوئے ہوں گے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 145]
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اس طرح وضو مکمل کیا جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے تو اس کے لیے پانچ نمازیں درمیان والے گناہوں کا کفارہ بن جائیں گی۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 145]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 4 (231)، سنن ابن ماجہ/فیہ 57 (459)، (تحفة الأشراف: 9789)، مسند احمد 1/57، 66، 69، وانظر ایضا الأرقام: 84، 85، 857 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 144
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ، أَنَّهُمْ غَزَوْا غَزْوَةَ السُّلَاسِلِ فَفَاتَهُمُ الْغَزْوُ فَرَابَطُوا ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى مُعَاوِيَةَ وَعِنْدَهُ أَبُو أَيُّوبَ، وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ، فَقَالَ عَاصِمٌ: يَا أَبَا أَيُّوبَ، فَاتَنَا الْغَزْوُ الْعَامَ وَقَدْ أُخْبِرْنَا أَنَّهُ مَنْ صَلَّى فِي الْمَسَاجِدِ الْأَرْبَعَةِ غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، أَدُلُّكَ عَلَى أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ تَوَضَّأَ كَمَا أُمِرَ وَصَلَّى كَمَا أُمِرَ، غُفِرَ لَهُ مَا قَدَّمَ مِنْ عَمَلٍ"، أَكَذَلِكَ يَا عُقْبَةُ؟ قَالَ: نَعَمْ.
عاصم بن سفیان ثقفی سے روایت ہے کہ وہ لوگ غزوہ سلاسل کے لیے نکلے، لیکن یہ غزوہ ان سے فوت ہو گیا، تو وہ سرحد ہی پہ جمے رہے، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس لوٹ آئے، ان کے پاس ابوایوب اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہم موجود تھے، تو عاصم کہنے لگے: ابوایوب! اس سال ہم لوگ غزوہ میں شریک نہیں ہو سکے ہیں، اور ہمیں بتایا گیا ہے کہ جو چار مسجدوں ۲؎ میں نماز پڑھ لے اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے؟، تو انہوں نے کہا: بھتیجے! میں تمہیں اس سے آسان چیز بتاتا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: جو وضو کرے اسی طرح جیسے اسے حکم دیا گیا ہے اور نماز پڑھے اسی طرح جیسے اسے حکم دیا گیا ہے، تو اس کے وہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے جنہیں اس نے اس سے پہلے کیا ہو، عقبہ! ایسے ہی ہے نا؟ انہوں نے کہا: ہاں (ایسے ہی ہے)۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 144]
حضرت عاصم بن سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم سلاسل (ایک چشمے کا نام) کی جنگ کو گئے مگر جنگ نہ مل سکی۔ (کیونکہ عاصم اور ان کے کچھ ساتھی بعد میں پہنچے تھے، چنانچہ) وہ لوگ کچھ عرصہ محاذ پر مورچہ زن رہے (لیکن جنگ کی دوبارہ نوبت نہ آئی) پھر وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس لوٹ آئے۔ اس وقت ان کے پاس حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ اور حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: ابو ایوب! اس سال ہم جہاد سے محروم رہ گئے، ہمیں بتلایا گیا ہے کہ جو آدمی چار مسجدوں (مسجد الحرام، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ اور مسجد قباء) میں نماز پڑھے، اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے بھتیجے! میں تجھے اس سے آسان تر کام بتاتا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص وضو کرے جس طرح حکم ہے اور نماز پڑھے جیسے اسے حکم دیا گیا ہے تو اس کے پہلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔(پھر عقبہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:) اے عقبہ! کیا ایسے ہی ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 144]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 193 (1396)، (تحفة الأشراف: 3462)، مسند احمد 5/423، سنن الدارمی/الطہارة 45 (744) (صحیح) (متابعات وشواہد سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ’’سفیان بن عبدالرحمن‘‘ لین الحدیث ہیں)»
وضاحت: غزوہ سلاسل یہ وہ غزوہ نہیں ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ۸ ھ میں ہوا تھا، یہ کوئی ایسا غزوہ تھا جو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ملک عراق کے اندر ہوا تھا۔ ۲؎: چاروں مسجدوں سے مراد مسجد الحرام، مسجد نبوی، مسجد قباء اور مسجد الاقصیٰ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں