سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب : جلوس الإمام على المنبر للاستسقاء
باب: بارش کی دعا کے لیے امام کے منبر پر بیٹھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1509
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَبَذِّلًا مُتَوَاضِعًا مُتَضَرِّعًا فَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ , وَلَكِنْ لَمْ يَزَلْ فِي الدُّعَاءِ وَالتَّضَرُّعِ وَالتَّكْبِيرِ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا كَانَ يُصَلِّي فِي الْعِيدَيْنِ".
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استسقاء کی نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھٹے پرانے کپڑوں میں عاجزی اور گریہ وزاری کا اظہار کرتے ہوئے نکلے، اور منبر پر بیٹھے، تو آپ نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا، بلکہ آپ برابر دعا اور عاجزی کرتے رہے، اور اللہ کی بڑائی بیان کرنے میں لگے رہے، اور آپ نے دو رکعت نماز پڑھی جیسے آپ عیدین میں پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1509]
حضرت اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ استسقاء کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سادہ کپڑوں میں، عاجزی کے ساتھ، گڑگڑاتے ہوئے نکلے، پھر آپ منبر پر بیٹھے لیکن تمہارے خطبے کی طرح خطبہ نہیں دیا بلکہ آپ دعا کرتے رہے، گڑگڑاتے رہے اور اللہ تعالیٰ کی بزرگی بیان کرتے رہے، پھر آپ نے عیدین کی نماز کی طرح دو رکعات پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1509]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1507 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1507
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: أَرْسَلَنِي فُلَانٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَضَرِّعًا مُتَوَاضِعًا مُتَبَذِّلًا، فَلَمْ يَخْطُبْ نَحْوَ خُطْبَتِكُمْ هَذِهِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ".
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ فلاں نے مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس بھیجا کہ میں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز استسقاء کے بارے میں پوچھوں۔ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (استسقاء کی نماز کے لیے) عاجزی اور انکساری کا اظہار کرتے ہوئے پھٹے پرانے کپڑے میں نکلے، تو آپ نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا ۱؎ آپ نے دو رکعت نماز پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1507]
حضرت اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے فلاں شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا کہ میں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز استسقاء کے بارے میں پوچھوں تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گڑگڑاتے ہوئے، عاجزی کے ساتھ سادہ کپڑوں میں (آرائش اور زینت کے بغیر) نکلے۔ آپ نے تمہارے اس خطبے کی طرح خطبہ نہیں دیا، پھر دو رکعات پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1507]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 258 (1165)، سنن الترمذی/فیہ 278 (الجمعة 43) (558، 559)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 153 (1266)، (تحفة الأشراف: 5359)، مسند احمد 1/230، 269، 355، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1509، 1522 (حسن)»
وضاحت: ۱؎: بلکہ آپ کا خطبہ دعا و استغفار اور اللہ سے عاجزی اور گڑگڑانے پر مشتمل تھا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1522
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: أَرْسَلَنِي أَمِيرٌ مِنَ الْأُمَرَاءِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا مَنَعَهُ أَنْ يَسْأَلَنِي؟ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَاضِعًا مُتَبَذِّلًا مُتَخَشِّعًا مُتَضَرِّعًا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدَيْنِ وَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ".
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ امراء میں سے ایک امیر نے مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس بھیجا کہ میں ان سے استسقاء کے بارے میں پوچھوں، تو ابن عباس رضی اللہ عنہم نے کہا: وہ مجھ سے خود کیوں نہیں پوچھتے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاجزی و انکساری کے ساتھ پھٹے پرانے کپڑوں میں گریہ وزاری کرتے ہوئے نکلے، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اسی طرح جیسی آپ عیدین میں پڑھتے تھے، اور آپ نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1522]
حضرت اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے کسی امیر (حاکم) نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا کہ میں ان سے دعائے استسقاء کے بارے میں پوچھوں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اسے کون سی چیز خود مجھ سے سوال کرنے سے مانع ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاجزی کی حالت میں، سادہ کپڑے پہن کر، خشوع و خضوع کے ساتھ اور گڑگڑاتے ہوئے (مدینہ منورہ سے) باہر نکلے اور عیدین کی نماز کی طرح دو رکعتیں پڑھیں اور تمہارے خطبے کی طرح خطبہ نہیں دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1522]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1507 (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یہاں نفی قید کی ہے، مقید کی نہیں جیسا کہ اس پر وہ احادیث دلالت کرتی ہیں جن میں خطبہ کی تصریح ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن