سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
79. باب : ثواب من صلى على جنازة
باب: نماز جنازہ پڑھنے والوں کے ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1996
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنِ انْتَظَرَهَا حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ فَلَهُ قِيرَاطَانِ، وَالْقِيرَاطَانِ مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی کی نماز جنازہ پڑھی، تو اسے ایک قیراط ملے گا، اور جس نے اسے قبر میں رکھے جانے تک انتظار کیا، تو اسے دو قیراط ملے گا، اور دو قیراط دو بڑے پہاڑوں کے مثل ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1996]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی میت کا جنازہ پڑھے، اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہے اور جو شخص (جنازے کے بعد) انتظار کرتا رہے حتیٰ کہ اسے لحد میں رکھ دیا جائے تو اس کے لیے دو قیراط (ثواب) ہے اور دو قیراط دو عظیم پہاڑوں کی طرح ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1996]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 35 (47)، والجنائز 58 (1325)، صحیح مسلم/الجنائز 17 (945)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز 45 (3168)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 34 (1539)، (تحفة الأشراف: 13266)، مسند احمد 2/233، 280 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1942
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ بُرْدٍ أَخِي يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، قال: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ قِيرَاطٌ، وَمَنْ مَشَى مَعَ الْجَنَازَةِ حَتَّى تُدْفَنَ كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ قِيرَاطَانِ، وَالْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ".
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جنازے کے ساتھ گیا، اور اس کے ساتھ رہا یہاں تک کہ اس پر جنازہ کی نماز پڑھی گئی اس کے لیے ایک قیراط کا ثواب ہے، اور جو شخص کسی جنازے کے ساتھ گیا، اور اس کے ساتھ رہا یہاں تک وہ دفن کر دیا گیا، تو اس کے لیے دو قیراط کا ثواب ہے، اور ایک قیراط احد (پہاڑ) کے مثل ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1942]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جنازے کے ساتھ جائے حتیٰ کہ اس کا جنازہ پڑھا جائے تو اسے ایک قیراط ثواب ملے گا، اور جو شخص جنازے کے ساتھ جائے حتیٰ کہ اسے دفن کیا جائے تو اسے دو قیراط ثواب ملے گا، اور قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1942]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1915)، مسند احمد 4/294 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1943
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَبِعَ جِنَازَةً حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ، فَإِنْ رَجَعَ قَبْلَ أَنْ يُفْرَغَ مِنْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ".
عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی جنازے کے ساتھ جائے، اور اس کے ساتھ رہے یہاں تک کہ اس سے فارغ ہو لیا جائے، تو اس کے لیے دو قیراط کا ثواب ہے، اور اگر لوٹ آئے قبل اس کے کہ اس سے فارغ ہوا جائے، تو اس کے لیے ایک قیراط کا ثواب ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1943]
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی جنازے کے ساتھ جائے اور (دفن سے) فراغت تک ساتھ رہے تو اسے دو قیراط ثواب ملے گا۔ اور جو شخص فراغت سے پہلے واپس آ جائے تو اسے ایک قیراط ملے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1943]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9653)، مسند احمد 4/86، و5/57 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1997
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قال: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ شَهِدَ جَنَازَةً حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَ حَتَّى تُدْفَنَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ"، قِيلَ: وَمَا الْقِيرَاطَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی جنازے میں شریک رہے یہاں تک کہ اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے، تو اسے ایک قیراط ثواب ملے گا، اور جو دفنائے جانے تک رہے تو اسے دو قیراط ملے گا“، پوچھا گیا: اللہ کے رسول! یہ دو قیراط کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ دو بڑے پہاڑوں کے برابر ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1997]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جنازے میں حاضر ہو اور جنازہ پڑھے جانے تک رہے تو اس کے لیے ایک قیراط (ثواب) ہے اور جو دفن کیے جانے تک رہے تو اس کے لیے دو قیراط (ثواب) ہے۔“ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! وہ قیراط کیسے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ عظیم پہاڑوں جیسے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1997]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 58 (1325)، صحیح مسلم/الجنائز 17 (945)، (تحفة الأشراف: 13958)، مسند احمد 2/401 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1998
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ تَبِعَ جَنَازَةَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ احْتِسَابًا فَصَلَّى عَلَيْهَا وَدَفَنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ رَجَعَ قَبْلَ أَنْ تُدْفَنَ فَإِنَّهُ يَرْجِعُ بِقِيرَاطٍ مِنَ الْأَجْرِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص طلب ثواب کے لیے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ جائے، اور اس کی نماز جنازہ پڑھے، اور اسے دفنائے تو اس کے لیے دو قیراط (کا ثواب) ہے، اور جو (صرف) نماز جنازہ پڑھے اور دفنانے جانے سے پہلے لوٹ آئے، تو وہ ایک قیراط (ثواب) لے کر لوٹتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1998]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ جائے، اس کا جنازہ پڑھے اور اسے دفن کرے تو اس کے لیے دو قیراط ہیں، اور جو شخص جنازہ پڑھ کر دفن سے پہلے واپس آ جائے تو وہ ایک قیراط (ثواب) کے ساتھ پلٹتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1998]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 35 (47)، (تحفة الأشراف: 14481)، مسند احمد 2/430، 493، ویأتي عند المؤلف برقم: 5035 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 1999
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، قال: حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، قال: أَنْبَأَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ انْصَرَفَ فَلَهُ قِيرَاطٌ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ تَبِعَهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ قَعَدَ حَتَّى يُفْرَغَ مِنْ دَفْنِهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ مِنَ الْأَجْرِ، كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی جنازے کے ساتھ جائے (اور) اس پر نماز جنازہ پڑھے پھر لوٹ آئے، تو اسے ایک قیراط کا ثواب ہے، اور جو (جنازہ میں) شریک ہو، (اور) اس پر نماز جنازہ پڑھے پھر بیٹھا رہے یہاں تک کہ اسے دفنا کر فارغ ہو لیا جائے، تو اس کا اجر دو قیراط ہے، ان میں سے ہر ایک قیراط احد (پہاڑ) سے زیادہ بڑا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1999]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جنازے کے ساتھ جائے، اس کا جنازہ پڑھے، پھر واپس آ جائے تو اس کے لیے ایک قیراط اجر ہے اور جو ساتھ جائے، جنازہ پڑھے، پھر بیٹھا رہے حتیٰ کہ تدفین سے فراغت ہو تو اس کے لیے دو قیراط اجر ہے۔ ہر قیراط احد (پہاڑ) سے بڑا ہوگا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1999]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13543) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5035
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ بْنِ الْأَزْرَقِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنِ اتَّبَعَ جَنَازَةَ مُسْلِمٍ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا فَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ انْتَظَرَ حَتَّى يُوضَعَ فِي قَبْرِهِ كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ، أَحَدُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ رَجَعَ كَانَ لَهُ قِيرَاطٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی مسلمان کے جنازے کے پیچھے جائے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے، اس کی نماز جنازہ ادا کرے پھر قبر میں رکھے جانے تک انتظار کرے تو اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے، ایک قیراط جبل احد کی طرح ہو گا، اور جس نے اس کی نماز جنازہ پڑھی اور لوٹ آیا تو اسے صرف ایک قیراط ثواب ملے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 5035]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جذبہ ایمان اور ثواب کی نیت رکھتے ہوئے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ پڑھے، پھر انتظار کرے حتیٰ کہ اسے قبر میں دفن کر دیا جائے تو اسے دو قیراط ثواب ملے گا جن میں سے ہر ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا، اور جو صرف جنازہ پڑھ کر واپس آ جائے، اس کو ایک قیراط ثواب ملے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 5035]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1996 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن