سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
92. باب : إخراج الميت من اللحد بعد أن يوضع فيه
باب: میت کو لحد میں رکھنے کے بعد باہر نکالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2021
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ سُفْيَانَ، قال: سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرًا، يَقُولُ:" أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ فِي قَبْرِهِ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ، فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ" , وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کو قبر میں داخل کر دئیے جانے کے بعد آئے، تو آپ نے اسے (نکالنے کا) حکم دیا، چنانچہ وہ نکالا گیا، آپ نے اسے اپنے دونوں گھٹنوں پر بٹھایا، اور اس پر تھو تھو کیا، اور اسے اپنی قمیص پہنائی، واللہ اعلم ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2021]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی کو قبر میں رکھے جانے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اسے باہر نکالنے کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے گھٹنوں پر رکھا اور کسی قدر اپنا لعابِ دہن اس پر ڈالا اور اسے اپنی قمیص پہنائی، اللہ تعالیٰ ہی (اس کی مصلحت) جانتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2021]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1902 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس پر تھو تھو کرنے اور اسے اپنی قمیص پہنانے میں کیا مصلحت پنہا تھی اسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، بعض لوگوں نے کہا: چونکہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی الله عنہ کو اپنی قمیص پہنائی تھی اس لیے آپ نے بدلے میں ایسا کیا، اور ایک قول یہ ہے کہ اس کے بیٹے کی دلجوئی کے لیے آپ نے ایسا کیا تھا۔ واللہ اعلم
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1902
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، قال: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ:" أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ وَقَدْ وُضِعَ فِي حُفْرَتِهِ فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ لَهُ فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ" وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کی قبر پر آئے، اور اسے اس کی قبر میں رکھا جا چکا تھا، تو آپ اس پر کھڑے ہوئے، اور اس کے نکالنے کا حکم دیا تو اسے نکالا گیا، تو آپ نے اسے اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھا، اور اپنی قمیص پہنائی اور اس پر تھو تھو کیا، واللہ تعالیٰ اعلم۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1902]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کی قبر پر تشریف لائے جبکہ اسے لحد میں رکھا جا چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر کھڑے ہوئے اور اسے نکالنے کا حکم دیا۔ اسے (قبر سے) نکالا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے گھٹنوں پر رکھا اور اسے اپنی قمیص پہنائی اور اس کے منہ میں (یا اس کے جسم پر) اپنا لعابِ مبارک ڈالا۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے (حکمت کیا تھی؟)۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1902]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 22 (1270)، 77 (1350)، واللباس 8 (5795)، صحیح مسلم/صفات المنافقین (2773)، (تحفة الأشراف: 2531)، مسند احمد 3/371، 381، ویأتي عند المؤلف برقم: 2021 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2022
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قال: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قال: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ:" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فَأَخْرَجَهُ مِنْ قَبْرِهِ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَتَفَلَ فِيهِ مِنْ رِيقِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ" قَالَ جَابِرٌ:" وَصَلَّى عَلَيْهِ" وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی کو اس کی قبر سے نکلوایا، پھر اس کا سر اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھا، اور اس پر تھو تھو کیا، اور اسے اپنی قمیص پہنائی۔ اور اس کی نماز (جنازہ) پڑھی، واللہ اعلم۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2022]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو عبداللہ بن ابی کو اس کی قبر سے نکالا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سر اپنے گھٹنوں پر رکھا اور اس کے منہ میں اپنا لعابِ دہن ڈالا، اسے اپنی قمیص پہنائی اور اس کا جنازہ پڑھا، (ان کاموں کی مصلحت) اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2022]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2509) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح