سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
64. باب : وضع الصيام عن الحائض
باب: حائضہ کو روزہ نہ رکھنے کی چھوٹ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2320
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مُسْهِرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ،" أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ أَتَقْضِي الْحَائِضُ الصَّلَاةَ إِذَا طَهُرَتْ؟ قَالَتْ: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ كُنَّا نَحِيضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَطْهُرُ فَيَأْمُرُنَا بِقَضَاءِ الصَّوْمِ، وَلَا يَأْمُرُنَا بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ".
معاذہ عدویہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا عورت جب حیض سے پاک ہو جائے تو نماز کی قضاء کرے؟ انہوں نے کہا: کیا تو حروریہ ۱؎ ہے؟ ہم عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حیض سے ہوتی تھیں، پھر ہم پاک ہوتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں روزہ کی قضاء کا حکم دیتے تھے، اور نماز کی قضاء کے لیے نہیں کہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2320]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 382 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حروریۃ حروراء کی طرف منسوب ہے، جو کوفہ کے قریب ایک جگہ ہے، چونکہ خوارج یہیں جمع تھے اس لیے اسی کی طرف منسوب کر کے حروری کہلاتے تھے، یہ لوگ حیض کے دنوں میں فوت شدہ نمازوں کی قضاء کو واجب قرار دیتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 379
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُنَاوِلُنِي الْإِنَاءَ فَأَشْرَبُ مِنْهُ وَأَنَا حَائِضٌ، ثُمَّ أُعْطِيهِ فَيَتَحَرَّى مَوْضِعَ فَمِي فَيَضَعُهُ عَلَى فِيهِ".
شریح کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے برتن دیتے، تو میں اس سے پیتی جب کہ میں حائضہ ہوتی تھی، پھر میں اسے آپ کو دے دیتی تھی تو آپ میرے منہ رکھنے کی جگہ تلاشتے اور اسی (جگہ) کو اپنے منہ پر رکھتے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 379]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 70 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح