سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
69. باب : صوم نبي الله داود عليه السلام
باب: اللہ کے نبی داود علیہ السلام کے روزے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2346
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صِيَامُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کو روزوں میں سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے تھے۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے، اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب نماز بھی داود علیہ السلام کی نماز تھی، وہ آدھی رات سوتے تھے اور تہائی رات قیام کرتے تھے، اور رات کے چھٹویں حصہ میں پھر سوتے تھے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2346]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کو سب سے زیادہ پسندیدہ روزے حضرت داود علیہ السلام کے روزے ہیں۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن نہیں رکھتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسندیدہ نفل نماز بھی حضرت داود علیہ السلام کی (رات کی) نماز ہے۔ وہ آدھی رات تک سوتے تھے، پھر ایک تہائی رات نماز پڑھتے اور آخری چھٹا حصہ پھر سو جاتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2346]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1631 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1631
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صِيَامُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہترین نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے، وہ آدھی رات تک سوتے تھے، پھر تہائی رات تک نماز پڑھتے، پھر چھٹے حصہ میں سو جاتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 1631]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کو سب سے پیارا روزہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن چھوڑتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے۔ وہ نصف رات سوتے تھے، تہائی رات نماز پڑھتے تھے اور پھر رات کا چھٹا حصہ سوتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 1631]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التھجد 7 (1131)، أحادیث الأنبیاء 38 (3420)، صحیح مسلم/الصیام 35 (1159)، سنن ابی داود/الصیام 67 (2448)، سنن ابن ماجہ/الصیام 31 (1712)، (تحفة الأشراف: 8897)، مسند احمد 2/160، 164، 206، ویأتی عند المؤلف فی الصوم 19 (برقم: 2346) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه