🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب : النهى عن مس الذكر باليمين عند الحاجة
باب: قضائے حاجت کے وقت داہنے ہاتھ سے ذکر (عضو تناسل) چھونے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ يَحْيَى هُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پاخانہ کی جگہ میں داخل ہو تو اپنے داہنے ہاتھ سے اپنا ذکر نہ چھوئے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 25]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 24
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ الْقَنَّادُ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَأْخُذْ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو داہنے ہاتھ سے اپنا ذکر (عضو تناسل) نہ پکڑے ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 24]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 18 (153)، 19 (154)، الأشربة 25 (5630) مطولاً، صحیح مسلم/الطہارة 18 (267)، سنن ابی داود/فیہ 18 (31)، سنن الترمذی/فیہ 11 (15)، سنن ابن ماجہ/فیہ 15 (310)، (تحفة الأشراف: 12105)، مسند احمد 4/384، 5/295، 296، 300، 309، 310، 311، سنن الدارمی/الطہارة 13 (700) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ ناپسندیدہ کاموں کے لیے بایاں ہاتھ استعمال کیا جائے تاکہ داہنے ہاتھ کا احترام و وقار قائم رہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں