سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
159. باب : ذكر العمل في الغسل من الحيض
باب: حیض کا غسل کیسے کیا جائے؟
حدیث نمبر: 252
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ وَهُوَ ابْنُ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ غُسْلِهَا مِنَ الْمَحِيضِ، فَأَخْبَرَهَا كَيْفَ تَغْتَسِلُ، ثُمَّ قَالَ:" خُذِي فِرْصَةً مِنْ مَسْكٍ فَتَطَهَّرِي بِهَا"، قَالَتْ: وَكَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟ فَاسْتَتَرَ كَذَا، ثُمَّ قَالَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ، تَطَهَّرِي بِهَا"، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَجَذَبْتُ الْمَرْأَةَ، وَقُلْتُ: تَتَّبِعِينَ بِهَا أَثَرَ الدَّمِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے غسل کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بتایا کہ وہ کیسے غسل کرے، پھر فرمایا: (غسل کے بعد) ”مشک لگا ہوا (روئی کا) ایک پھاہا لے کر اس سے طہارت حاصل کرو“، (عورت بولی) اس سے کیسے طہارت حاصل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح پردہ کر لیا (یعنی شرم سے اپنے منہ پر ہاتھ کی آڑ کر لی) پھر فرمایا: ”سبحان اللہ! اس سے پاکی حاصل کرو“، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو میں نے عورت کو پکڑ کر کھینچ لیا، اور (چپکے سے اس کے کان میں) کہا: اسے خون کے نشان پر پھیرو ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 252]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے غسلِ حیض کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بتایا کہ کیسے غسل کرے، پھر فرمایا: ”کستوری لگا ہوا روئی کا ایک ٹکڑا لے لو اور اس سے صفائی کرلو۔“ اس نے کہا: اس سے کیسے صفائی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا اور فرمایا: ” «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“، تم اس کے ساتھ صفائی کرلو۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے اس عورت کو اپنی طرف کھینچا اور کہا کہ اسے خون کے نشانات پر لگا لو۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 252]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض 13 (314)، 14 (315)، الاعتصام 24 (7357)، صحیح مسلم/الحیض 13 (332)، (تحفة الأشراف: 17859)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطھارة 122 (314)، سنن ابن ماجہ/فیہ 124 (632)، مسند احمد 6/122، سنن الدارمی/الطھارة 84، 800، ویاتٔي عند المؤلف برقم: 427 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تاکہ بدبو چلی جائے، یہ حکم استحبابی ہے اگر مشک نہ ملے تو اور خوشبو استعمال کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 427
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قال: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قال: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَغْتَسِلُ عِنْدَ الطُّهُورِ؟ قَالَ:" خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَوَضَّئِي بِهَا". قَالَتْ: كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا؟ قَالَ:" تَوَضَّئِي بِهَا،" قَالَتْ: كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا؟ قَالَتْ: ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ وَأَعْرَضَ عَنْهَا، فَفَطِنَتْ عَائِشَةُ لِمَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَأَخَذْتُهَا وَجَبَذْتُهَا إِلَيَّ فَأَخْبَرْتُهَا بِمَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اللہ کے رسول! میں طہارت کے وقت کیسے غسل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مشک کا ایک پھاہا لو، اور اس سے پاکی حاصل کرو“، اس نے کہا: میں اس سے کیسے پاکی حاصل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے پاکی حاصل کرو“، اس نے (پھر) عرض کیا: میں اس سے کیسے پاکی حاصل کروں؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبحان اللہ کہا، اور اس سے اپنا رخ مبارک پھیر لیا، عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو سمجھ گئیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بتانا چاہ رہے تھے، آپ کہتی ہیں: تو میں نے اسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو چاہ رہے تھے اسے بتایا“۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 427]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں حیض سے پاک ہونے کے بعد کیسے غسل کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روئی کا کستوری لگا ہوا ٹکڑا لے لو اور اس سے صفائی کرو۔“ اس نے عرض کیا: ”کیسے کروں؟“ پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے (تعجب اور شرماتے ہوئے) فرمایا: «سُبْحَانَ اللَّهِ!» ”سبحان اللہ!“ اور منہ ایک طرف کر لیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد سمجھ گئیں۔ وہ کہتی ہیں: ”چنانچہ میں نے اسے پکڑا اور اپنی طرف کھینچا اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد سمجھایا۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 427]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 252 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح