🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
60. باب : أى الصدقة أفضل
باب: کون سا صدقہ افضل ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2547
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ عَبْدًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَلَكَ مَالٌ غَيْرُهُ؟" قَالَ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي؟" فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ، فَجَاءَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" ابْدَأْ بِنَفْسِكَ فَتَصَدَّقْ عَلَيْهَا، فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ فَلِأَهْلِكَ، فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ عَنْ أَهْلِكَ، فَلِذِي قَرَابَتِكَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ ذِي قَرَابَتِكَ شَيْءٌ، فَهَكَذَا وَهَكَذَا يَقُولُ بَيْنَ يَدَيْكَ وَعَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ".
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنی عذرہ کے ایک شخص نے اپنے غلام کو مدبر کر دیا ۱؎، یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے اس شخص سے پوچھا: کیا تمہارے پاس اس غلام کے علاوہ بھی کوئی مال ہے؟ اس نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے مجھ سے کون خرید رہا ہے؟ تو نعیم بن عبداللہ عدوی نے اسے آٹھ سو درہم میں خرید لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان درہموں کو لے کر آئے اور انہیں اس کے حوالہ کر دیا، اور فرمایا: پہلے خود سے شروع کرو اسے اپنے اوپر صدقہ کرو اگر کچھ بچ رہے تو تمہاری بیوی کے لیے ہے، اور اگر تمہاری بیوی سے بھی بچ رہے تو تمہارے قرابت داروں کے لیے ہے، اور اگر تمہارے قرابت داروں سے بھی بچ رہے تو اس طرح اور اس طرح کرو، اور آپ اپنے سامنے اور اپنے دائیں اور بائیں اشارہ کر رہے تھے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2547]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو عذرہ (قبیلے) کے ایک آدمی نے اپنے غلام کو اپنی موت کے بعد آزاد کر دیا۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے مجھ سے کون خریدے گا؟ تو حضرت نعیم بن عبداللہ عدوی رضی اللہ عنہ نے اسے آٹھ سو درہم میں خرید لیا اور وہ یہ رقم لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رقم اس شخص کے سپرد کی، پھر فرمایا: سب سے پہلے اپنے آپ پر خرچ کر۔ اگر کچھ بچ جائے تو وہ تیرے گھر والوں کے لیے ہے۔ اگر گھر والوں (کی ضروریات) سے کچھ بچ جائے تو وہ تیرے قرابت داروں کے لیے ہے۔ اور اگر تیرے قرابت داروں سے بھی بچ جائے تو پھر تو اسے اپنے آگے اور اپنے دائیں بائیں صدقہ کر۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2547]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الزکاة13 (997)، والأیمان 13 (997)، (تحفة الأشراف: 2922)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع59 (2141)، 110 (223)، والاستقراض 16 (2403)، والخصومات3 (2415)، والعتق 9 (2534)، وکفارات الأیمان7 (6716)، والإکراہ4 (6947)، والأحکام32 (7186) (مختصراً)، سنن ابی داود/العتق9 (3957)، سنن ابن ماجہ/العتق1 (2513) (مختصراً)، مسند احمد (3/305، 368، 369، 370، 371) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی یہ کہہ دیا ہو کہ تم میرے مرنے کے بعد آزاد ہو۔ ۲؎: مطلب یہ ہے کہ اپنے پاس پڑوس کے محتاجوں اور غریبوں کو دے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2536
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَصَدَّقُوا"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! عِنْدِي دِينَارٌ , قَالَ:" تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى نَفْسِكَ" , قَالَ: عِنْدِي آخَرُ , قَالَ:" تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى زَوْجَتِكَ" , قَالَ: عِنْدِي آخَرُ , قَالَ:" تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى وَلَدِكَ" , قَالَ: عِنْدِي آخَرُ , قَالَ:" تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى خَادِمِكَ" , قَالَ: عِنْدِي آخَرُ , قَالَ:" أَنْتَ أَبْصَرُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ دو، ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار ہے، آپ نے فرمایا: اسے اپنی ذات پر صدقہ کرو ۱؎ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا: اپنی بیوی پر صدقہ کرو، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا: اسے اپنے بیٹے پر صدقہ کرو، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور بھی ہے۔ آپ نے فرمایا: اپنے خادم پر صدقہ کر دو، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا: آپ بہتر سمجھنے والے ہیں (جیسی ضرورت سمجھو ویسا کرو[سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2536]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ کرو۔ ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے آپ پر خرچ کر۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی بیوی پر خرچ کر۔ اس نے عرض کیا: میرے پاس ایک اور ہے۔ فرمایا: اپنی اولاد پر خرچ کر۔ وہ عرض پرداز ہوا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے نوکر پر خرچ کر۔ وہ بولا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو زیادہ جانتا ہے (کہ کہاں خرچ کرے)۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2536]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة45 (1691)، (تحفة الأشراف: 13041)، مسند احمد (2/ 251، 471) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی خود اپنی ضروریات میں صدقہ کرو۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4656
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ عَبْدًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" أَلَكَ مَالٌ غَيْرُهُ؟"، قَالَ: لَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي؟" , فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ , فَجَاءَ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ:" ابْدَأْ بِنَفْسِكَ فَتَصَدَّقْ عَلَيْهَا , فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ فَلِأَهْلِكَ , فَإِنْ فَضَلَ مِنْ أَهْلِكَ شَيْءٌ فَلِذِي قَرَابَتِكَ , فَإِنْ فَضَلَ مِنْ ذِي قَرَابَتِكَ شَيْءٌ فَهَكَذَا , وَهَكَذَا وَهَكَذَا , يَقُولُ بَيْنَ يَدَيْكَ , وَعَنْ يَمِينِكَ , وَعَنْ شِمَالِكَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بنی عذرہ کے ایک شخص نے اپنا ایک غلام بطور مدبر آزاد (یعنی مرنے کے بعد آزاد ہونے کی شرط پر) کر دیا، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی، تو آپ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اس کے علاوہ کوئی مال ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: اس غلام کو مجھ سے کون خریدے گا؟ چنانچہ اسے نعیم بن عبداللہ عدوی رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہم میں خرید لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان (دراہم) کو لے کر آئے اور اسے ادا کر دیا، پھر فرمایا: اپنی ذات سے شروع کرو اور اس پر صدقہ کرو، پھر کچھ بچ جائے تو وہ تمہارے گھر والوں کا ہے، تمہارے گھر والوں سے بچ جائے تو تمہارے رشتے داروں کے لیے ہے اور اگر تمہارے رشتے داروں سے بھی بچ جائے تو اس طرح اور اس طرح، اپنے سامنے، اپنے دائیں اور بائیں اشارہ کرتے ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 4656]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو عذرہ کے ایک آدمی نے اپنا ایک غلام مدبر کیا۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے فرمایا: کیا تیرے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون شخص مجھ سے یہ (غلام) خریدتا ہے؟ حضرت نعیم بن عبد اللہ عدوی رضی اللہ عنہ نے اسے آٹھ سو درہم میں خرید لیا۔ وہ رقم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے۔ آپ نے وہ اس کے سپرد کر دی اور فرمایا: پہلے اپنے آپ پر خرچ کر، پھر اگر کچھ بچ جائے تو وہ تیرے اہل و عیال کے لیے ہے، پھر اگر تیرے اہل و عیال سے کچھ بچ جائے تو تیرے رشتہ داروں کا حق ہے، البتہ اگر تیرے رشتہ داروں سے بھی کچھ بچ جائے تو ایسے ایسے اور ایسے، یعنی اپنے آگے، اپنے دائیں اور اپنے بائیں (اللہ کے راستے میں خرچ کر)۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 4656]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2547 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «مدبر» : وہ غلام ہے جس کا مالک اس سے کہے کہ تم میرے مرنے کے بعد آزاد ہو۔ اگر «مدبّر» کرنے والا مالک محتاج ہو جائے تو اس «مدبّر» غلام کو بیچا جا سکتا ہے، جیسا کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، دیگر روایات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ آدمی محتاج تھا اور اس پر قرض تھا، امام بخاری اور مؤلف نیز دیگر علماء مطلق طور پر «مدبّر» کے بیچنے کو جائز مانتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4657
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل , قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ:" أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ , يُقَالُ لَهُ: أَبُو مَذْكُورٍ , أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ يُقَالُ لَهُ: يَعْقُوبُ , لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ , فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَنْ يَشْتَرِيهِ؟" , فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ , وَقَالَ:" إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ , فَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَعَلَى عِيَالِهِ , فَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَعَلَى قَرَابَتِهِ , أَوْ عَلَى ذِي رَحِمِهِ , فَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَهَهُنَا , وَهَهُنَا".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابومذکور نامی انصاری نے ایک یعقوب نامی غلام کو مدبر کے طور پر آزاد کیا، اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا: اسے کون خریدے گا؟ اسے نعیم ابن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہم میں خریدا، آپ نے اس (انصاری) کو وہ (درہم) دے کر فرمایا: تم میں جب کوئی محتاج ہو تو پہلے اپنی ذات سے شروع کرے، پھر اگر بچے تو اپنے گھر والوں پر، پھر اگر بچے تو اپنے رشتے داروں پر، اور اگر پھر بھی بچ رہے تو ادھر ادھر (یعنی دوسرے فقراء پر خرچ کرے)۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 4657]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی نے، جسے ابو مذکور کہا جاتا تھا، اپنا ایک غلام مدبر کیا۔ اس غلام کا نام یعقوب تھا۔ اس آدمی کے پاس کوئی اور مال نہیں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا اور فرمایا: اس غلام کو کون خریدے گا؟ حضرت نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے آٹھ سو درہم میں خرید لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ درہم اس کے سپرد کیے اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی فقیر ہو تو اپنے بال بچوں پر خرچ کرے۔ مزید اگر کچھ بچے تو اپنے قریبی اور رشتہ داروں پر خرچ کرے، پھر اگر بچ جائے تو پھر ادھر ادھر (فی سبیل اللہ صدقہ کرے)۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 4657]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الزکاة 13 (997)، سنن ابی داود/العتق 9 (3957)، (تحفة الأشراف: 2667)، مسند احمد (3/301، 369) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں