سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
79. باب : ما لا يجوز للمحرم أكله من الصيد
باب: کس طرح کا شکار کھانا محرم کے لیے ناجائز ہے؟
حدیث نمبر: 2821
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ بِالْأَبْوَاءِ، أَوْ بِوَدَّانَ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي وَجْهِي قَالَ:" أَمَا إِنَّهُ لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلَّا أَنَّا حُرُمٌ".
صعب بن جثامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ کو ایک نیل گائے ہدیہ کیا اور آپ ابواء یا ودان میں تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے انہیں واپس کر دیا۔ پھر جب آپ نے میرے چہرے پر جو کیفیت تھی دیکھی تو فرمایا: ”ہم نے صرف اس وجہ سے اسے تمہیں واپس کیا ہے کہ ہم احرام باندھے ہوئے ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2821]
حضرت صعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک جنگلی گدھا بطور ہدیہ پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ابواء یا ودان مقام میں تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ انہیں واپس کر دیا۔ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے کے غم و تاسف کو ملاحظہ فرمایا تو فرمانے لگے: ”ہم نے یہ صرف اس لیے تجھے واپس کیا ہے کہ ہم محرم ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2821]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/جزاء الصید6 (1825)، الہبة6 (2573)، 17 (2596)، صحیح مسلم/الحج8 (1193)، سنن الترمذی/الحج26 (849)، ق92 (3090)، (تحفة الأشراف: 4940)، موطا امام مالک/الحج 25 (83)، مسند احمد (4/37، 38، 71، 73)، سنن الدارمی/المناسک 22 (1870) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ”ابواء“ اور ”ودّان“ یہ دونوں جگہوں کے نام ہیں جو مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2822
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِوَدَّانَ رَأَى حِمَارَ وَحْشٍ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ، وَقَالَ:" إِنَّا حُرُمٌ لَا نَأْكُلُ الصَّيْدَ".
صعب بن جثامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے یہاں تک کہ جب ودان پہنچے تو ایک نیل گائے دیکھا (جسے کسی نے شکار کر کے پیش کیا تھا) تو آپ نے اسے پیش کرنے والے کو لوٹا دیا، اور فرمایا: ”ہم احرام باندھے ہوئے ہیں، شکار نہیں کھا سکتے“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2822]
حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے حتیٰ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ودان میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگلی گدھا (میرے پاس بطور تحفہ) دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مجھے واپس فرما دیا اور فرمانے لگے: ”ہم محرم ہیں، یہ شکار نہیں کھا سکتے (کیونکہ یہ ہمارے لیے شکار کیا گیا ہے)۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2822]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن