سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
80. بَابُ : إِذَا ضَحِكَ الْمُحْرِمُ فَفَطِنَ الْحَلاَلُ لِلصَّيْدِ فَقَتَلَهُ أَيَأْكُلُهُ أَمْ لاَ
باب: جب محرم شکار کو دیکھ کر ہنسے اور غیر محرم تاڑ جائے اور شکار کر ڈالے تو کیا محرم اسے کھائے یا نہ کھائے؟
حدیث نمبر: 2827
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: انْطَلَقَ أَبِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ وَلَمْ يُحْرِمْ، فَبَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَصْحَابِي ضَحِكَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَنَظَرْتُ فَإِذَا حِمَارُ وَحْشٍ فَطَعَنْتُهُ، فَاسْتَعَنْتُهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي، فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ، وَخَشِينَا أَنْ نُقْتَطَعَ، فَطَلَبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرَفِّعُ فَرَسِي شَأْوًا وَأَسِيرُ شَأْوًا، فَلَقِيتُ رَجُلًا مِنْ غِفَارٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَقُلْتُ: أَيْنَ تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: تَرَكْتُهُ وَهُوَ قَائِلٌ بِالسُّقْيَا، فَلَحِقْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَصْحَابَكَ يَقْرَءُونَ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ وَإِنَّهُمْ قَدْ خَشُوا أَنْ يُقْتَطَعُوا دُونَكَ، فَانْتَظِرْهُمْ، فَانْتَظَرَهُمْ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حِمَارَ وَحْشٍ وَعِنْدِي مِنْهُ، فَقَالَ لِلْقَوْمِ:" كُلُوا وَهُمْ مُحْرِمُونَ".
عبداللہ بن ابی قتادہ کہتے ہیں کہ میرے والد صلح حدیبیہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے تو ان کے ساتھیوں نے احرام باندھ لیا لیکن انہوں نے نہیں باندھا، (ان کا بیان ہے) کہ میں اپنے اصحاب کے ساتھ تھا کہ اسی دوران ہمارے اصحاب ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنسے، میں نے نظر اٹھائی تو اچانک ایک نیل گائے مجھے دکھائی پڑا، میں نے اسے نیزہ مارا اور (اسے پکڑنے اور ذبح کرنے کے لیے) ان سے مدد چاہی تو انہوں نے میری مدد کرنے سے انکار کیا پھر ہم سب نے اس کا گوشت کھایا، اور ہمیں ڈر ہوا کہ ہم کہیں لوٹ نہ لیے جائیں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ پکڑنا چاہا کبھی میں اپنا گھوڑا تیز بھگاتا اور کبھی عام رفتار سے چلتا تو میری ملاقات کافی رات گئے قبیلہ غفار کے ایک شخص سے ہوئی میں نے اس سے پوچھا: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہاں چھوڑا ہے؟ اس نے کہا: میں نے آپ کو مقام سقیا میں قیلولہ کرتے ہوئے چھوڑا ہے، چنانچہ میں جا کر آپ سے مل گیا، اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کے صحابہ آپ کو سلام عرض کرتے ہیں اور آپ کے لیے اللہ کی رحمت کی دعا کرتے ہیں اور وہ ڈر رہے ہیں کہ وہ کہیں آپ سے پیچھے رہ جانے پر لوٹ نہ لیے جائیں، تو آپ ذرا ٹھہر کر ان کا انتظار کر لیجئیے تو آپ نے ان کا انتظار کیا۔ پھر میں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! (راستے میں) میں نے ایک نیل گائے کا شکار کیا اور میرے پاس اس کا کچھ گوشت موجود ہے، تو آپ نے لوگوں سے کہا: ”کھاؤ“ اور وہ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2827]
حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرے والد (حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ والے سال گئے۔ ان کے ساتھیوں نے احرام باندھ رکھا تھا مگر انہوں نے احرام نہیں باندھا تھا۔ (وہ کہتے ہیں کہ) میں ایک دفعہ اپنے ساتھیوں کے پاس بیٹھا تھا کہ وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنسنے لگے۔ میں نے (ادھر ادھر) دیکھا تو مجھے ایک جنگلی گدھا نظر آیا۔ میں نے نیزے سے اس پر وار کیا (اور اسے شکار کر لیا، اس سے پہلے) میں نے ان سے (شکار کے سلسلے میں) مدد طلب کی تھی تو انہوں نے میری مدد کرنے سے انکار کر دیا تھا (کیونکہ وہ محرم تھے)۔ پھر ہم نے اس شکار کا گوشت کھایا۔ ہمیں خطرہ محسوس ہوا کہ ہمیں دشمن کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقطع نہ کر دے۔ میں اپنے گھوڑے کو تیز بھگاتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (انہیں مطلع کرنے کے لیے) چلا۔ کبھی میں گھوڑے کو تیز بھگاتا تھا اور کبھی آہستہ چلاتا تھا۔ (راستے میں) میں آدھی رات کو بنو غفار کے ایک آدمی سے ملا۔ میں نے اس سے پوچھا: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہاں چھوڑا ہے؟ اس نے کہا: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقامِ سقیا پر قیلولہ فرما رہے تھے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جا ملا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے صحابہ آپ کو «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ» ”آپ پر سلامتی، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں“ (سلام و دعا) عرض کرتے ہیں۔ انہیں خطرہ ہے کہ کہیں دشمن (ان پر حملہ کر کے) انہیں آپ سے منقطع نہ کر دے، اس لیے آپ رک کر ان کا انتظار فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا انتظار فرمایا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایک جنگلی گدھا شکار کیا ہے اور میرے پاس اس کا کچھ گوشت باقی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”کھاؤ۔“ حالانکہ وہ محرم تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2827]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/جزاء الصید 2 (1821)، 3 (1822)، صحیح مسلم/الحج 8 (1196)، سنن ابن ماجہ/الحج 93 (3093)، (تحفة الأشراف: 12109)، مسند احمد (5/301، 304)، سنن الدارمی/المناسک 22 (1867) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2820
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ , عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ , عَنْ الْبَهْزِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يُرِيدُ مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالرَّوْحَاءِ إِذَا حِمَارُ وَحْشٍ عَقِيرٌ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" دَعُوهُ فَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ صَاحِبُهُ" , فَجَاءَ الْبَهْزِيُّ، وَهُوَ صَاحِبُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ وَسَلَّمَ شَأْنَكُمْ بِهَذَا الْحِمَارِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ فَقَسَّمَهُ بَيْنَ الرِّفَاقِ، ثُمَّ مَضَى، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْأُثَايَةِ بَيْنَ الرُّوَيْثَةِ وَالْعَرْجِ إِذَا ظَبْيٌ حَاقِفٌ فِي ظِلٍّ وَفِيهِ سَهْمٌ، فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا يَقِفُ عِنْدَهُ لَا يُرِيبُهُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ حَتَّى يُجَاوِزَهُ".
زید بن کعب بہزی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، آپ مکہ کا ارادہ کر رہے تھے، اور احرام باندھے ہوئے تھے یہاں تک کہ جب آپ روحاء پہنچے تو اچانک ایک زخمی نیل گائے دکھائی پڑا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے پڑا رہنے دو، ہو سکتا ہے اس کا مالک (شکاری) آ جائے“ (اور اپنا شکار لے جائے) اتنے میں بہزی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور وہی اس کے مالک (شکاری) تھے انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ گور نیل گائے آپ کے پیش خدمت ہے ۱؎ آپ جس طرح چاہیں اسے استعمال کریں۔ تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، تو انہوں نے اس کا گوشت تمام ساتھیوں میں تقسیم کر دیا، پھر آپ آگے بڑھے، جب اثایہ پہنچے جو رویثہ اور عرج کے درمیان ہے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک ہرن اپنا سر اپنے دونوں ہاتھوں اور پیروں کے درمیان کئے ہوئے ہے، ایک سایہ میں کھڑا ہے اس کے جسم میں ایک تیر پیوست ہے، تو ان کا (یعنی بہزی کا) گمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ وہاں کھڑا ہو جائے تاکہ کوئی شخص اسے چھیڑنے نہ پائے یہاں تک کہ آپ (مع اپنے اصحاب کے) آگے بڑھ جائیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2820]
حضرت (زید بن کعب) بہزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے ارادے سے نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھے ہوئے تھے حتیٰ کہ جب وہ (لوگ) مقامِ روحاء میں پہنچے تو انہوں نے ایک زخمی جنگلی گدھا دیکھا، اس بات کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کچھ نہ کہو، ہو سکتا ہے اسے زخمی کرنے والا آ جائے“، اتنے میں وہ بہزی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا جس نے اسے زخمی کیا تھا، کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اس جنگلی گدھے کو آپ اپنی مرضی کے مطابق استعمال فرمائیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو (تقسیم کرنے کا) حکم دیا تو انہوں نے اسے تمام ساتھیوں میں تقسیم کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے حتیٰ کہ جب رویثہ اور عرج کے درمیان اثایہ مقام پر پہنچے تو ایک ہرن سائے میں سر جھکائے کھڑا آرام کر رہا تھا اور اس میں ایک تیر گھسا ہوا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا: ”اس کے پاس کھڑا رہ تاکہ کوئی شخص اسے پریشان نہ کرے حتیٰ کہ قافلہ اس سے آگے گزر جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2820]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15655)، موطا امام مالک/الحج24 (79)، مسند احمد (3/418، 452) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ہماری طرف سے آپ کو تحفہ ہے۔ ”اثایہ“ جحفہ سے مکہ کے راستہ میں ایک جگہ کا نام ہے۔ ”رویثہ“ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے۔ ”عرج“ ایک بستی کا نام ہے جو مدینہ سے چند میل کی دوری پر واقع ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2826
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، وَحَبِيبٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي ثَابِتٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ" أَهْدَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک نیل گائے ہدیہ میں بھیجا اور آپ احرام باندھے ہوئے تھے، تو آپ نے اسے انہیں واپس کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2826]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جنگلی گدھا بطور تحفہ پیش کیا جبکہ آپ محرم تھے، لہٰذا آپ نے وہ انہیں واپس فرما دیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2826]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2625 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2828
أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ النَّسَائِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ , أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْحُدَيْبِيَةِ، قَالَ: فَأَهَلُّوا بِعُمْرَةٍ غَيْرِي، فَاصْطَدْتُ حِمَارَ وَحْشٍ، فَأَطْعَمْتُ أَصْحَابِي مِنْهُ وَهُمْ مُحْرِمُونَ، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْبَأْتُهُ أَنَّ عِنْدَنَا مِنْ لَحْمِهِ فَاضِلَةً، فَقَالَ:" كُلُوهُ وَهُمْ مُحْرِمُونَ".
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ غزوہ حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے، وہ کہتے ہیں کہ میرے علاوہ لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھ رکھا ہے تھا۔ تو میں نے (راستہ میں) ایک نیل گائے کا شکار کیا اور اس کا گوشت اپنے ساتھیوں کو کھلایا، اور وہ محرم تھے، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو میں نے بتایا کہ ہمارے پاس اس کا کچھ گوشت بچا ہوا ہے، تو آپ نے (لوگوں سے) فرمایا: ”کھاؤ“، اور وہ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2828]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا کہ ہمارے پاس اس کا بچا ہوا گوشت موجود ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حاضرین سے) فرمایا: ”کھاؤ۔“ حالانکہ وہ محرم تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2828]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2827 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4349
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرٌ هُوَ ابْنُ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ أَثَايَا الرَّوْحَاءِ وَهُمْ حُرُمٌ، إِذَا حِمَارُ وَحْشٍ مَعْقُورٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعُوهُ فَيُوشِكُ صَاحِبُهُ أَنْ يَأْتِيَهُ"، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَهْزٍ هُوَ الَّذِي عَقَرَ الْحِمَارَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ شَأْنَكُمْ هَذَا الْحِمَارُ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ يُقَسِّمُهُ بَيْنَ النَّاسِ.
عمیر بن سلمہ ضمری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس دوران جب کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روحاء کے پتھروں میں چل رہے تھے اور لوگ احرام باندھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک زخمی نیل گائے ملی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو ممکن ہے اسے زخمی کرنے والا آئے“، اتنے میں قبیلہ بہز کا ایک شخص آیا، اسی نے اس کو زخمی کیا تھا، وہ بولا: اللہ کے رسول! آپ اس نیل گائے کو لے لیجئے تو آپ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اسے لوگوں میں بانٹ دیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 4349]
حضرت عمیر بن سلمہ ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روحاء کے کسی مقام پر تھے، سب لوگ محرم تھے، انہوں نے ایک زخمی جنگلی گدھا دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کچھ نہ کہو حتیٰ کہ اس کو شکار کرنے والا آ جائے۔“ تھوڑی دیر بعد بہز قبیلے کا وہ آدمی بھی آ گیا جس نے اسے زخمی کیا تھا، وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! آپ اس گدھے کو جو چاہیں کیجیے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اسے لوگوں میں تقسیم کر دیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 4349]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10894)، مسند احمد (3/318) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4350
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: أَصَابَ حِمَارًا وَحْشِيًّا، فَأَتَى بِهِ أَصْحَابَهُ , وَهُمْ مُحْرِمُونَ وَهُوَ حَلالٌ فَأَكَلْنَا مِنْهُ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ لَوْ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ، فَسَأَلْنَاهُ؟، فَقَالَ:" قَدْ أَحْسَنْتُمْ"، فَقَالَ لَنَا:" هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ"؟، قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ:" فَاهْدُوا لَنَا"، فَأَتَيْنَاهُ مِنْهُ فَأَكَلَ مِنْهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک نیل گائے شکار کیا اور اسے اپنے ساتھیوں کے پاس لے کر آئے، وہ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے اور میں حلال (یعنی احرام سے باہر) تھا تو ہم نے اس میں سے کھایا، پھر ہم میں سے ہر ایک نے دوسرے سے کہا: ہم اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیتے تو بہتر ہوتا، چنانچہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”تم نے ٹھیک کیا“، پھر فرمایا: ”کیا تم لوگوں کے پاس اس میں سے کچھ ہے؟“ ہم نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”ہمیں بھی دو“، تو ہم اس میں سے کچھ گوشت آپ کے پاس لے آئے، آپ نے اس میں سے کھایا حالانکہ آپ احرام باندھے ہوئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 4350]
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک جنگلی گدھا شکار کیا، میں اسے لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آیا، وہ سب محرم تھے، صرف میں محرم نہیں تھا، ہم سب نے اس میں سے کچھ گوشت کھا لیا، پھر ہم ایک دوسرے سے کہنے لگے: اگر ہم اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیں (تو بہتر ہے)۔ ہم نے آپ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”تم نے اچھا کیا۔“ پھر فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اس کا کچھ گوشت باقی ہے؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں! آپ نے فرمایا: ”کچھ ہمیں بھی بھیجو!“ ہم نے آپ کو بھیجا تو آپ نے اسے کھایا، حالانکہ آپ محرم تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 4350]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الہبة 3 (2570)، الجہاد 46 (2854)، الأطعمة 19 (5406، 5407)، صحیح مسلم/الصید 8 (1196)، (تحفة الأشراف: 12099)، مسند احمد (5/307) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه