سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
222. باب : النهى عن رمى جمرة العقبة قبل طلوع الشمس
باب: سورج نکلے سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی ممنوع ہے۔
حدیث نمبر: 3066
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حُمُرَاتٍ يَلْطَحُ أَفْخَاذَنَا، وَيَقُولُ:" أُبَيْنِيَّ لَا تَرْمُوا جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم بنی عبدالمطلب کے گھرانے کے بچوں کو گدھوں پر سوار کر کے بھیجا، آپ ہماری رانوں کو تھپتھپا رہے تھے، اور فرما رہے تھے: ”میرے ننھے بیٹو! جب تک سورج نکل نہ آئے جمرہ عقبہ کو کنکریاں نہ مارنا“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3066]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہمیں، یعنی خاندانِ عبدالمطلب کے بچوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھوں پر سوار کر کے (صبح سے پہلے ہی) بھیج دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری رانوں کو تھپتھپاتے تھے اور فرماتے تھے: ”اے میرے بیٹو! سورج طلوع ہونے سے پہلے جمرۂ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3066]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج 66 (1940)، سنن ابن ماجہ/الحج62 (2025)، (تحفة الأشراف: 5396)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 58 (893)، مسند احمد (1/234، 311، 343) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1940) ابن ماجه (3025) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 344
حدیث نمبر: 3067
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَّمَ أَهْلَهُ" وَأَمَرَهُمْ أَنْ لَا يَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں کو (رات میں) پہلے ہی بھیج دیا اور انہیں حکم دیا کہ جب تک سورج نہ نکل آئے جمرہ کی رمی نہ کریں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3067]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں (عورتوں اور بچوں) کو صبح سے پہلے ہی بھیج دیا تھا اور آپ نے انھیں حکم دیا تھا کہ: ”جب تک سورج طلوع نہ ہو، وہ جمرے کو رمی نہ کریں۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3067]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/المناسک 66 (1941)، (تحفة الأشراف: 5888) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن