🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب : فضل المجاهدين على القاعدين
باب: گھر بیٹھ رہنے والوں پر جہاد کے لیے نکلنے والوں کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3101
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: رَأَيْتُ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ جَالِسًا، فَجِئْتُ حَتَّى جَلَسْتُ إِلَيْهِ فَحَدَّثَنَا , أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ:" لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" , فَجَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَهُوَ يُمِلُّهَا عَلَيَّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ لَجَاهَدْتُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَفَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي، فَثَقُلَتْ عَلَيَّ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنْ سَتُرَضُّ فَخِذِي، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ , غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق هَذَا لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق يَرْوِي عَنْهُ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , وَأَبُو مُعَاوِيَةَ , وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ لَيْسَ بِثِقَةٍ.
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے مروان بن حکم کو بیٹھے دیکھا تو ان کے پاس آ کر بیٹھ گیا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت: «لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل اللہ» اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھ رہنے والے مومن برابر نہیں۔ (النساء: ۹۵) نازل ہوئی اور آپ اسے بول کر مجھ سے لکھوا رہے تھے کہ اسی دوران ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آ گئے (وہ ایک نابینا صحابی تھے) انہوں نے (حسرت بھرے انداز میں) کہا: اگر میں جہاد کر سکتا تو ضرور کرتا (مگر میں اپنی آنکھوں سے مجبور ہوں) تو اس وقت اللہ تعالیٰ ٰ نے (کلام پاک کا یہ ٹکڑا) «غير أولي الضرر» نازل فرمایا۔ ضرر والے یعنی مجبور لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں اور (اس ٹکڑے کے نزول کے وقت کی صورت و کیفیت یہ تھی) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران میری ران پر ٹکی ہوئی تھی۔ اس آیت کے نزول کا بوجھ مجھ پر (بھی) پڑا اور اتنا پڑا کہ مجھے خیال ہوا کہ میری ران ٹوٹ ہی جائے گی، پھر یہ کیفیت موقوف ہو گئی۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس روایت میں عبدالرحمٰن بن اسحاق ہیں ان سے روایت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور وہ عبدالرحمٰن بن اسحاق جو نعمان بن سعد سے روایت کرتے ہیں ثقہ نہیں ہیں، اور عبدالرحمٰن بن اسحاق سے روایت کی ہے، علی بن مسہر، ابومعاویہ اور عبدالواحد بن زیاد روایت کرتے ہیں بواسطہ نعمان بن سعد جو ثقہ نہیں ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3101]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مروان بن حکم کو بیٹھے دیکھا تو میں بھی آکر ان کے پاس بیٹھ گیا۔ انہوں نے ہمیں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتری: ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ [سورة النساء: 95] گھروں میں بیٹھ رہنے والے مومن اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والے برابر نہیں ہو سکتے تو حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آیت مجھے لکھوا رہے تھے۔ وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! اگر میں جہاد کرنے کی طاقت رکھتا تو میں ضرور جہاد کرتا۔ اللہ عزوجل نے یہ الفاظ اتار دیے: ﴿غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ﴾ [سورة النساء: 95] بشرطیکہ وہ معذور نہ ہوں۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران مبارک میری ران پر تھی (وحی کی حالت کی وجہ سے) مجھ پر اس قدر بوجھ پڑا کہ مجھے خطرہ پیدا ہوا کہ میری ران ٹوٹ جائے گی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی حالت ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ پڑھے: ﴿غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ﴾ ۔ ابوعبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) فرماتے ہیں کہ یہ عبدالرحمن بن اسحاق (سند میں مذکور امام زہری رحمہ اللہ کا شاگرد) معتبر ہے، اس میں کوئی خرابی نہیں اور وہ عبدالرحمن بن اسحاق جس سے علی بن مسہر، ابو معاویہ اور عبدالواحد بن زیاد روایت کرتے ہیں اور وہ خود نعمان بن سعد سے بیان کرتا ہے، ثقہ اور معتبر نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3101]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 31 (2832)، وتفسیرسورة النساء 18 (4592)، سنن ابی داود/الجہاد 20 (2507)، سنن الترمذی/تفسیرسورة النساء (3033)، مسند احمد (5/184، 191) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3102
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: رَأَيْتُ مَرْوَانَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ، فَأَقْبَلْتُ حَتَّى جَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَأَخْبَرَنَا , أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمْلَى عَلَيْهِ:" لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" , قَالَ: فَجَاءَهُ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَهُوَ يُمِلُّهَا عَلَيَّ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ لَجَاهَدْتُ، وَكَانَ رَجُلًا أَعْمَى، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي حَتَّى هَمَّتْ تَرُضُّ فَخِذِي ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95".
زید بن ثابت رضی الله عنہ نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بول کر لکھایا «لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل اللہ» (النساء: ۹۵) کہ اسی دوران ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آ گئے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر میں جہاد کی استطاعت رکھتا تو ضرور جہاد کرتا اور وہ ایک اندھے شخص تھے۔ تو اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت کا یہ حصہ «غير أولي الضرر» نازل فرمایا، (اس آیت کے اترتے وقت) آپ کی ران میری ران پر چڑھی ہوئی تھی اور (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کے نزول کے سبب) ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میری ران چور چور ہو جائے گی، پھر وحی موقوف ہو گئی (تو وحی کا دباؤ و بوجھ بھی ختم ہو گیا)۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3102]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے مروان کو مسجد میں بیٹھے دیکھا، میں آیا اور ان کے پاس بیٹھ گیا، تو انہوں نے ہمیں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ آیت لکھوائی: ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ [سورة النساء: 95] جہاد کو نہ جانے والے مومن اور جہاد کرنے والے مومن برابر نہیں ہو سکتے۔ آپ مجھے یہ آیت لکھوا رہے تھے کہ اس دوران حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آ گئے، وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! اگر مجھ میں جہاد کی طاقت ہوتی تو میں ضرور جہاد کرتا۔ وہ نابینا شخص تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتاری جبکہ آپ کی ران مبارک میری ران پر تھی (مجھ پر اس قدر بوجھ پڑا کہ) قریب تھا میری ران ٹوٹ جاتی، پھر آپ سے کیفیتِ وحی دور ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے یہ الفاظ اتارے تھے: ﴿غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ﴾ [سورة النساء: 95] بشرطیکہ وہ (جہاد سے پیچھے بیٹھ رہنے والے) معذور نہ ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3102]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں