🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب : ما افترض الله عز وجل على رسوله عليه السلام وحرمه على خلقه ليزيده إن شاء الله قربة إليه
باب: اس چیز کا بیان جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے اپنی قربت دکھانے کے لیے حلال رکھا اور اپنی مخلوق کے لیے حرام کر دیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3206
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَفِظْنَاهُ مِنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ:" مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أُحِلَّ لَهُ النِّسَاءُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باحیات تھے عورتیں آپ کے لیے حلال تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3206]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے آپ کو مزید عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3206]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر سورة الأحزاب (3216)، (تحفة الأشراف: 17389، (حم (6/41، 201) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جن سے چاہتے شادی کر سکتے تھے آپ کے لیے تعداد متعین نہیں تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3201
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرَّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كُنْتُ أَغَارُ عَلَى اللَّاتِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقُولُ: أَوَتَهَبَ الْحُرَّةُ نَفْسَهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ سورة الأحزاب آية 51 , قُلْتُ: وَاللَّهِ مَا أَرَى رَبَّكَ إِلَّا يُسَارِعُ لَكَ فِي هَوَاكَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں ان عورتوں سے شرم کرتی تھی ۱؎ جو اپنی جان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کر دیتی تھیں چنانچہ میں کہتی تھی: کیا آزاد عورت اپنی جان (مفت میں) ہبہ کر دیتی ہے؟ پھر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی «ترجي من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء‏» ان میں سے جسے تو چاہے دور رکھ دے، اور جسے چاہے اپنے پاس رکھ لے (الاحزاب: ۵۱) اس وقت میں نے کہا: اللہ کی قسم! آپ کا رب آپ کی خواہش کو جلد پورا کرتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3201]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھے ان عورتوں پر غصہ آتا تھا جو اپنے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم (سے نکاح) کے لیے خود پیش کرتی تھیں۔ میں کہتی تھی: کوئی آزاد عورت بھی (مرد سے شادی کرنے کے لیے) اپنے آپ کو خود پیش کر سکتی ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ﴾ [سورة الأحزاب: 51] آپ اپنی جس بیوی کو چاہیں دور رکھیں اور جس کو چاہیں اپنے قریب کر لیں۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو سمجھتی ہوں کہ آپ کا رب تعالیٰ بھی آپ کی خواہش اور پسند کو پورا کرنے میں جلدی کرتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3201]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیرسورة الأحزاب7 (4788)، النکاح29 (5113)، صحیح مسلم/الرضاع 14 (1464)، (تحفة الأشراف: 16799)، مسند احمد (6/158)، 134، 261) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ان کیلئے باعث عیب سمجھتی تھی کہ وہ اپنے آپ کو ہبہ کریں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3207
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ وَهُوَ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" مَا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحَلَّ اللَّهُ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ مِنَ النِّسَاءِ مَا شَاءَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ آپ کی وفات نہ ہوئی جب تک اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال نہ کر دیا کہ آپ جتنی عورتوں سے چاہیں نکاح کر لیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3207]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رخصت دے دی گئی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس عورت سے چاہیں، نکاح فرمائیں۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3207]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 16328)، مسند احمد (6/180، سنن الدارمی/النکاح 44 (2287) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: پہلے یہ آیت نازل ہوئی «لا يحل لك النسآئ من بعد» مگر یہ حکم بعد میں «انا أحللنا لك أزواجك» والی آیت سے منسوخ ہو گئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں